تپسی تے ٹھس کرسی !
ظفروانی
ظفر محمود وانی

آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کے وزیر حکومت محترم تنویر الیاس نے ، کشمیریوں کے بارے میں طنزیہ طور پر فرمایا ہے کہ " تپسی تے ٹھس کرسی " ان الفاظ پر حزبِ اختلاف کی طرف سے احتجاج بھی کیا گیا ۔ ہمیں یقین ہے کہ نہ یہ الفاظ ایک طعنہ کی طرح استعمال کرنے والے، اور نہ ان الفاظ پر احتجاج کرنے والے ان الفاظ کے تاریخی پس منظر سے واقف ہوں گے۔ لہذاا مناسب ہو گا کہ ان اصحاب کو اور قوم کو ان الفاظ کے درست تناظر سے آگاہ کیا جائے۔ میرے علم میں یہ حقیقت ممتاز مجاہد آزادی اور جید عالم ، میرے نانا ، عبدالاحد دلاور وانی ، کی زبانی آے کہ ان کے ایک بزرگ خود اس واقعے کا ایک کردار تھے اور اس کشمیری فوجی دستے کا حصہ رہے ,جس سے یہ الفاظ منسوب کئیے جاتے ہیں ۔

مہاراجہ رنبیر سنگھ اپنے اجداد کی بہ نسبت ایک جدید تعلیم یافتہ اور ماڈرن شخص تھے ، کشمیر میں پہلی بار انہوں نے ہی رسل و رسائل کی بہتری کے لئیے انگریز چیف انجینئیر مقرر کیا ، تار یعنی ٹیلیگراف کا نظام قائم کیا ، شاہرات تعمیر کیں اور ان پر ہر دس میل کے فاصلے پر ڈاک بنگلے ، یا انسپکشن ہٹ تعمیر کروائے ، سرکاری ریسٹ ہائوس تعمیر کرواے ۔غرض مغل دور کے بعد پہلی مرتبہ کشمیر کی تعمیر و ترقی کی بہتری کے لئیے قابل قدر کام کئیے گئے ۔ اس وقت تک کشمیری مسلمانوں کو محکوم ہونے اور ان کے اندر اپنے قومی تشخص کے شدید احساس کی وجہ سے فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا تھا ،جبکہ ریاست کے " غیر کشمیری " اور باہر سے ریاست میں آ کر آباد ہونے والے قبائل کو ان کی وفاداری اور حاکموں کی مکمل اطاعت کی وجہ سے ریاست کی فوج میں ترجیحابھرتی کیا جاتا، جہاں یہ فخریہ طور پرمبلغ ڈھائی روپے تنخواہ کے عوض ڈوگرہ افواج کے ساتھ مل کر ریاست کے اکثریتی ،کشمیری عوام ، اور اپنے ہی بھائی بہنوں پر ظلم و ستم میں فخریہ طور پر سرگرم حصہ لیا کرتے ، اور اس طرح اپنے حاکم ڈوگرہ حکمرانوں اور عمال کی خوشنودی حاصل کیا کرتے ۔

مہاراجہ رنبیر سنگھ کیونکہ ایک جدید خیالات کا حامل تعلیم یافتہ شخص تھا، تو اس کو خیال آیا کہ کشمیریوں کو بھی فوج میں بھرتی کیاجانا چاہئیے ، لہذاا اس کے حکم کے مطابق ایک کشمیری بٹالین بھرتی کی گئی، اور اس کی تربیت جموں کے نزدیک ستواڑی چھاونی میں شروع کی گئی ، یہ تربیت کامیابی سے تکمیل کو پہنچی ، لیکن کیمپ کے کشمیری مسلمان فوجیوں کو یہ خبر ملی کہ بعد از تکمیلِ تربیت، ان کو گلگت بھیجا جائے گا ، جہاں کے غیور مسلمانوں نے بغاوت کر رکھی ہے،لہذا اس کشمیری دستے کو دیگر ڈوگرہ افواج کے ہمراہ گلگت کے مسلمانوں کی اس بغاوت کو کچلنے کے لئے بھیجاجائے گا ، ان دنوں ایسی بغاوتوں کو مہاراجہ کی فوج کی طرف سے شدید قتل و غارت ، ظلم و ستم اور سزا کے طور پر عصمت دردی تک کے حربوں سے کچلا جاتا تھا ، یہ خبر سن کر کشمیری دستے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ، کشمیری زبان میں آپس میں مشورے ہوئے ،اب ڈوگرہ مہاراجہ کا کزن اور اس کا چیف آف سٹاف ، اس کشمیری دستے کی تربیت کے معائنے اور اس کے بعد اس دستے کو باقائدہ طور پر ڈوگرہ فوج کا حصہ بنانے کے اعلان کے لئیے کیمپ میں آیا ، ادھر کشمیری سپاہی تمام حالات سے آگاہی حاصل کر چکے تھے، اور صلاح و مشورہ کے بعد، یہ فیصلہ کر چکے تھے، کہ کسی بھی صورت گلگت کے غیور مسلمانوں پر ڈوگرہ فوج کا حصہ بن کر ظلم و ستم میں حصہ نہیں لینا ، لیکن ماحول ایسا تھا کہ اگر وہ ان جزبات اور حکم عدولی کا کھلے عام اظہار کرتے، تو ان سب کو باغی قرار دے کر تہہ تیغ کر دیا جاتا ۔

جب ڈوگرہ سپہ سالار ایک کشمیری سپاہی کے مورچے کے پاس فائرنگ کی مشق دیکھنے کیلئے پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ کشمیری سپاہی نے بندوق سامنے دھوپ میں رکھ چھوڑی ہے ، اور خود پیچھے کو ہٹ کر کھڑا ہے ، ڈوگرہ سپہ سالار نے ڈوگری زبان میں اس سپاہی سے کہاکہ" او تو بندوق چلاندا کیوں نئیں " اس پر اس سپاہی نے منصوبہ کے مطابق یہ جواب دیا کہ" حضور دھپ وچ رکھ چھوڑی اے ، آپ ہی تپسی تے ٹھس کرسی " یہ سن کر ڈوگرہ سپہ سالار کا موڈ بہت خراب ہو گیا ،لیکن پھربھی اس نے اس کشمیری بٹالین کو فالن کر کے باقاعدہ ڈوگرہ افواج میں شامل کرنے کا اعلان کیا ، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ نے اپنی پہلی تعیناتی پر گلگت جانا ہے ، اس پر بٹالین کا کشمیری حوالدار آگے آیا، اور سپہ سالار کو سیلوٹ کر کے بولا کہ " جناب بٹالین تیار ہے لیکن پولیس ابھی نہیں پہنچی " اس پر ڈوگرہ سپہ سالار نے حیران ہو کر پوچھا کہ پولیس کس واسطے ؟ کشمیری حوالدار بولا جناب رستیوچ ساڈی حفاظت واسطے " یہ سنتے ہی ڈوگرہ سپہ سالار کا پارہ آسمان تک پہنچ گیا، اور اس نے غصے میں آ کر کہا کہ واقعی یہ کشمیری مسلمان فوجی نوکری کے قابل نہیں،لہذاا ان سب کوفوری طور پر برخاست و برطرف کیا جاتا ہے ، یہ جاری شدہ فوجی سازو سامان واپس جمع کروائیں، اور اپنے گھروں کو جائیں ۔اس پر ان کشمیریوں نے اپنے منصوبے کی کامیابی پر دل ہی دل میں شکر ادا کیا، اور چھاونی سے نکل کر کشمیری زبان میں گیت گاتے وادی کشمیر کی طرف اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے، ان گیتوں کا ذکر بھی خاص طور پر میرے نانا کے ان بزرگ نے کیا تھا جو خود اس دستے کا حصہ تھے ۔

یاد رہے کہ یہ وہی زمانہ تھا جب انگریزی فوج میں شامل کشمیر کے غیر کشمیری قبائل سے تعلق رکھنے والے فوجی اور پنجاب کے بارانی علاقوں کے مسلمان فوجی حکم ملنے پر خانہ کعبہ تک پر گولیاں برسا دیا کرتے تھے، آخری مسلم ترک خلیفہ سلطان عبدالحمید کی بیٹیوں کو اپنے انگریز آفیسروں کی طرف سے حکم ملنے پر، بالوں سے پکڑ کر بازاروں میں گھسیٹتے تھے۔کشمیر میں ڈوگرہ کے " وفادار اور قابل اعتماد " غیر کشمیری مسلمان فوجی اسی طرح ڈوگرہ فوج کے ساتھ شامل رہتے ہوے، اپنے ہی ہم قوم افراد اپنے ہی بھائی بہنوں پر بغیر کسی ضمیر کی خلش ، احساس اور غیرت کے ،ظلم و ستم کیا کرتے ، اور عوض میں ڈوگرہ حکمرانوں کی طرف سے وفاداری کی تھپکی پاتے ۔

آج اپنی تحریک آزادی سے غیور کشمیری مسلمانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ حریت پسندی اور بہادری میں کشمیریوں کا کوئی جواب نہیں ، اور جن حالات میں یہ جملہ ادا کیا گیا جب "دیگر" ڈوگروں کے ساتھ مل کر اپنیہی بھائی بہنوں پر ظلم کرنے کواعزاز سمجھتے تھے،کشمیری مسلمان کی غیرت نے اس دورِ جبر اور ظلم میں بھی اپنے گلگتی مسلمان حریت پسند بھائیوں پرظلم کرنا گوارا نہ کیا۔لہذاا ہمیں آج اس جملے پر فخر ہے کہ " تپسی تے ٹھس کرسی " یہ جملہ کشمیری مسلمانوں کی غیرت اور حمیت کا ثبوت ہے ۔
واپس کریں