کیا پاکستان کی جمہوری اساس ختم کی جا سکتی ہے ؟
سید مجاہد علی
قیام پاکستان اور اس کے لئے جدو جہد کے حوالے سے خواہ کیسے ہی مباحث کئے جائیں یا تاریخ کے اس دور میں رونما ہونے والے واقعات، گروہ بندیوں، سیاسی جوڑ توڑ، سازشوں یا درست و غلط کے بارے میں چاہے جو بھی مؤقف اختیار کیا جائے لیکن اس رائے سے مفر نہیں ہے کہ پاکستان کا قیام ایک جمہوری عمل کے نتیجہ میں ممکن ہؤا تھا۔ عوام نے مسلم لیگ کی قیادت کے منصوبہ کے مطابق برصغیر میں مسلمانوں کے لئے علیحدہ ملک کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ تاہم یہ ملک قائم ہونے کے ساتھ ہی یہ افسوسناک صورت حال بھی درپیش رہی ہے کہ یہاں جمہوری طریقہ حکومت کی بجائے کسی نہ کسی طرز کی کنٹرولڈ یامحدود جمہوریت ہی کام کرسکتی ہے۔ معاملہ کا یہ پہلو کم باعث تشویش نہیں ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نقطہ نظر کمزور ہونے کی بجائے زیادہ مستحکم ہؤا ہے۔ ان عناصر نے بھی اسے تقویت دینے میں کردار ادا کیا ہے جو عوامی یاجمہوری سیاست کے نتیجہ میں ہی منظر عام پر آئے لیکن بعد میں اپنے اقتدار کو طول دینے اور اسے دائمی بنانے کے لئے انہوں نے جمہوری روایت کو ہی اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھنا شروع کردیا۔ اس تصویر کا یہ پہلو انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ ایک طرف جمہوری لیڈروں نے اقتدار پر کنٹرول رکھنے کے لئے فسطائی ہتھکنڈے اختیار کرنا ضروری سمجھا لیکن ملک پر یکے بعد دیگرے مارشل لا کے ذریعے حکمرانی کرنے والے فوجی جرنیلوں نے عوامی ریفرنڈم یا کسی دوسرے طریقہ سے خود کو عوام کا ’محبوب لیڈر‘ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی۔ گویا انہوں نے جمہور کے حق حکمرانی کو بالواسطہ ہی سہی لیکن تسلیم کیا۔

فوجی حکمرانوں کے اس طرز عمل کی دو وجوہات قرین قیاس ہوسکتی ہیں: ایک: ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک نے ماورائے آئین طریقے سے اقتدار سنبھالنے کے بعد، اپنے طرز عمل کا کوئی ’جواز‘ تلاش کرنا ضروری سمجھا جس کے لئے کوئی نہ کوئی جمہوری ڈھونگ رچایا گیا۔ حکمرانی کا جواز تلاش کرنے کے علاوہ اس طرز عمل کی ایک وجہ یہ خواہش بھی رہی ہے کہ ہر فوجی آمر ملک پر تاحیات حکمرانی کا خواہاں رہا ہے لیکن وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ تاحیات فوج کا سربراہ نہیں رہ سکے گا۔ اسی لئے کوئی ایسا انتظام کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں جس میں وہ فوج سے علیحدہ ہوکر بھی ملک کے معاملات پر قابض رہ سکے۔ ایوب خان بنیادی جمہوریت کے نظام کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور یحی خان کو کمانڈر انچیف بنا دیا گیا تھا لیکن ایوب خان کے اپنے چنے ہوئے جرنیل نے ہی ان سے استعفیٰ لے کر انہیں گھر جانے پر مجبور کردیا تھا۔ یوں بالواسطہ جمہوریت کا جو نظام ایوب خان کو تاحیات صدر کے عہدہ پر فائز رکھنے کے لئے اختیار کیا گیا تھا، وہ خود اپنی موت مرگیا۔

دوئم: اس رویہ کی دوسری قابل فہم اور باعث فکر وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان ایک جمہوری عمل کے نتیجے میں عوام کی رائے لے کر قائم کیا گیا تھا۔ برصغیر پر قابض نوآبادیاتی طاقت کو عوام کی خوہش اور سیاسی لیڈروں کے دباؤ کے سامنے مجبور ہو کر ہی یہ فیصلہ کرنا پڑا تھا۔ یوں قیام پاکستان کو جمہوری عمل کا نتیجہ اور ایک جمہوری انتخاب کے ذریعے قائم کی جانے والی مملکت کہا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی لیڈر کو خواہ وہ ملک کا آئین توڑ کر ہی اقتدار پر قابض کیوں نہ ہؤا ہو، کسی نہ کسی سطح پر اپنے اقدام کے لئے سیاسی و جمہوری تائد کی ضرورت محسوس ہوئی۔ منتخب لیڈروں نے ضرور آمرانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو دبانے اور جمہوریت کو آمریت کی شکل دینے کی کوشش کی لیکن ان میں سے کوئی بھی اس مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہؤا۔ البتہ اس سے ملک میں جمہوریت کی ضرورت اور اس کی ہیئت کے بارے میں سوال ضرور پیدا ہونے لگے اور سیاسی لیڈروں پر اعتماد میں کمی ہوئی کیوں کہ ان کے بارے میں یہ تاثر عام ہؤا ہے کہ وہ صرف اپنے اقتدار کے لئے سیاسی جمہوری عمل کا حصہ بنتے ہیں۔ اقتدار ملنے کے بعد جمہوریت کی اس ’سیڑھی‘ سے نجات کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ شاید پاکستان کی جمہوری پیدائش ہی کا نتیجہ ہے کہ ہر حکمران مطلق اقتدار کی خواہش رکھنے کے باوجود کسی نہ کسی طرح جمہوری عمل کو جاری رکھنے پر مجبور رہا ہے۔ تاہم ملک میں رونما ہونے والے حالات اور خطے میں پیدا ہونے والی صورت حال میں یہ سوال اب پہلے سے زیادہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے کہ کیا پاکستان کی جمہوری اساس کو ختم کیا جارہا ہے۔ اور کیا یہ کوششیں بارآور ہوسکتی ہیں؟

اس تشویش کے دو پہلو نمایاں ہیں۔ ایک: سیاست میں فوجی اداروں کی مداخلت اور سیاسی عناصر کا اس مداخلت کو طاقت کے توازن کا فطری طریقہ سمجھ لینے کا رویہ۔ دوئم: سرکاری سرپرستی میں ان مباحث کا آغاز کہ جمہوریت کی وجہ سے بدعنوان اور ملک لوٹنے والے اقتدار تک پہنچ جاتے ہیں، اس لئے ملک کے جمہوری نظام کو ’شفاف‘ بنانے کی ضرورت ہے۔اوپر بیان کئے گئے پہلے نکتہ کی تفصیل اس ملک کے ہر شہری کو ازبر ہے۔ فوج نے جب ملک پر براہ راست حکومت نہیں کی تو اس نے بالواسطہ کنٹرول اور اثر و رسوخ کے ذریعے سیاسی طاقت حاصل کی ہے۔ محقق عائشہ صدیقہ یہ نظریہ پیش کرچکی ہیں کہ ملکی معیشت میں فوجی اداروں کے حصہ کی شرح اور مفادات کی وجہ سے فوج کبھی بھی سیاسی معاملات سے بے خبر نہیں رہ سکتی کیوں کہ وہ سیاسی طاقت ہی کے ذریعے اپنے معاشی مفادات کو تحفظ دے سکتی ہے اور اسے قانونی طور سے جائز قرار دلوا سکتی ہے۔ ٹھوس اعداد و شمار کی بنیاد پر لکھی گئی عائشہ صدیقہ کی کتاب ’ملٹری انک‘ اگرچہ لگ بھگ پندرہ برس پہلے منظر عام پر آئی تھی لیکن بدقسمتی سے اس اہم موضوع پر ملک میں کبھی مناسب علمی و سیاسی بحث کا آغاز نہیں ہوسکا۔ بلکہ یہ کتاب نہ صرف پابندیوں کا شکار رہی بلکہ مصنفہ کو بھی جلاوطنی کی زندگی پر مجبور ہونا پڑا۔ صرف اس ایک مثال سے جمہوری سیاست پر فوج کے کنٹرول کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

سوال ہے کہ فوج کی اس مجبوری میں سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں کیوں شامل ہوجاتی ہیں اور ملکی سیاسی تاریخ کے ہر مرحلے پر کیوں سیاست دان ہی فوج کے سیاسی کردار کو جائز قرار دینے کا سبب بنتے ہیں۔ پاکستان کی جمہوری سیاست کا یہی پہلو اصل تشویش کا سبب ہے۔ اقتدار کی چاہ کے علاوہ بدعنوانی اور گروہی مفادات کو ان کی بنیادی وجوہات کہا جاتا ہے۔ لیکن اس وقت ملک میں عمران خان کی سربراہی میں ایک ایسی حکومت قائم ہے جو دیانت داری کے دعوے دار ہیں، اسی لئے عوامی حقوق کے اصل محافظ ہیں۔ لیکن عمران خان کے اقتدار تک پہنچنے اور اس پر تین سال تک گرفت مضبوط رکھنے کی کہانی سے عیاں ہے کہ وہ فوج کی مکمل اعانت اور سرپرستی کی وجہ سے ہی برسر اقتدار ہیں۔ عمران خان اسے ایک پیج کی سیاست قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ فوج دراصل ان کے ’نیچے‘ ہے لیکن ان کی حکومت اہم فیصلوں میں فوجی قیادت کو شریک کرکے چلنا چاہتی ہے تاکہ غیر ضروری بے چینی پیدا نہ ہو اور قومی معاملات سہولت کے ساتھ انجام پاتے رہیں۔ اسی حوالے سے عمران خان کا یہ دعویٰ بھی رہا ہے کہ ماضی کے سیاست دان (یہ حوالہ بطور خاص نواز شریف کے بارے میں دیا جاتا ہے) ذاتی کرپشن کی وجہ سے فوج سے ڈرتے تھے یا اس سے اختلاف کرتے تھے۔ گویا وہ ہر صورت جمہوری عمل میں مشکلات کا ذمہ دار سیاست دانوں کو قرار دے کر اپنے ممدوح فوجی قائدین کو سچا ثابت کرنے کا جواز تلاش کرلیتے ہیں۔

ملکی معاملات کو مل جل کر چلانے کے حوالے سے فوجی قیادت کے ساتھ تعاون کے بارے میں اگر عمران خان کی دلیل کو درست تسلیم کرلیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ یہی طریقہ ملک کی اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے ساتھ کیوں اختیار نہیں کرتے۔ ان میں سے بیشتر ملک کے موجودہ پارلیمانی انتخابی طریقہ کار میں عوام کے براہ راست ووٹ لے کر ہی اسمبلیوں تک پہنچنے ہیں۔ لیکن عمران خان اپوزیشن لیڈروں کو چور لٹیرے قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ کرنے کے روادار نہیں ہیں۔ حتی کہ ملکی آئین کے تحت جن معاملات کو وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مل کر طے کرنے کا پابند ہے، ان میں بھی سست روی اور عدم تعاون کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے۔

عمران خان کا یہ رویہ اگر صرف چند سیاست دانوں کے بارے میں ہوتا اور ا س کے ساتھ ہی وہ ملک میں جمہوری روایت کو مستحکم کرنے میں سرگرم ہوتے، تو بھی ’بدعنوان سیاست دانوں‘ سے گریز کے طرزعمل کو سمجھا جاسکتا تھا۔ لیکن ایک طرف انہوں نے اپنی پارٹی میں ہر قسم کے مفاد پرست عناصر کو جمع کیا ہے تاکہ کسی بھی طرح ان کی پارٹی کو سیاسی بالادستی حاصل رہے، دوسرے اپنے تین سالہ دور حکومت میں ملک میں جمہوری روایت ختم کرنے، میڈیا کو بے بس اور محدود کرنے کے علاوہ قومی منظر نامہ پر آزادانہ مباحث کے ہر فورم کو سرکاری کنٹرول میں لانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے اس رویہ سے سول ملٹری ساز باز کے ذریعے عوامی حق حکمرانی کو یرغمال بنانے کے ایک نئے منصوبہ کا شائبہ ہوتا ہے۔ عمران خان کو جس طرح فوجی قیادت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور موجودہ فوجی قیادت پر ملک کے تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کے براہ راست الزامات کے باوجود جس طرح حکمرانی کی سیاست میں معمولی سا ارتعاش بھی دیکھنے میں نہیں آیا، اس سے بھی یہ شک، یقین میں بدلنے لگتا ہے کہ ملک پر ایک بار پھر کنٹرولڈ اور فوج کی نگرانی میں کام کرنے والی کسی ایسی ’منتخب‘ قیادت کو مسلط رکھنے کا اہتمام کیا جارہا ہے جو بظاہر عوام کی نمائیندہ ہو لیکن درحقیقت اس قومی ایجنڈے پر عمل کرتی ہو جو جی ایچ کیو میں طے کیا جاتا ہے۔

ان حالات میں مرکز مضبوط کرنے اور صوبوں کے آئینی اختیارات پر حکمران جماعت کی مسلسل نکتہ چینی سے بھی کسی ایسی درپردہ سیاسی خواہش کا سراغ ملتا ہے جو جمہوریت کی بجائے طاقت کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ بھارتی خطرے کے نام پر ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار فئیر کی باتیں بھی، دراصل ملک میں آزادئ رائے کے لئے حالات کو مسدود کررہی ہیں۔ اب حکومت میڈیا اتھارٹی کے ذریعے اظہار کے ہر ذریعہ کو سرکاری کنٹرول میں لانے کا ارادہ ظاہر کررہی ہے۔ اور الیکشن کمیشن و اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود ’الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں‘ کے ذریعے انتخابات کو ’شفاف‘ بنانے کے جس پروگرام کا عندیہ دیا جارہا ہے، وہ دراصل جمہوریت کو داغدار کرنے کے کسی گریٹر منصوبہ ہی کے خد و خال ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی کامیابی کے بعد ملک میں مذہبی انتہا پسند قوتوں کو حوصلہ ملا ہے۔ طالبان جب جمہوریت کو افغان اسلامی روایات کے خلاف قرار دیتے ہیں تو اس پر پاکستان سے آمنا صدقنا کی بلند ہوتی صدائیں براہ راست ملکی جمہوری نظام پر حملہ آور محسوس ہوتی ہیں۔ ان آوازوں کو جب سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہو تو یہ سوال کرنا اور اس کے مضمرات کے بارے میں سوچنا اہم ہوجاتا ہے کہ کیا پاکستان میں جمہوری اساس ختم کرنے کا کوئی نیا منصوبہ نافذ ہونے والا ہے۔

بشکریہ کاروان ناروے
واپس کریں