گیلانی کے بعد حریت اتحاد اور کشمیریوں کا مطالبہ آزادی
اطہرمسعود وانی
مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان سے آزادی کی مزاحمتی تحریک کے مقبول عام رہنما سید علی شاہ گیلانی یکم ستمبر کو طویل علالت کے بعد وفات پاگئے۔ہندوستانی انتظامیہ نے فورسز کے ذریعے مرحوم رہنما کے گھر داخل ہو کر زبردستی ان کی میت کو ساتھ لے گئے اور خود ہی ان کی تدفین کر دی۔ اس دوران ہندوستانی فورسز نے مرحوم رہنما کے اہل خانہ کو تشدد کونشانہ بنایا اور کمرے کا دروازہ توڑ کر ان کے جسد خاکی کو اپنے قبضے میں لیا۔ '' دی وائر'' کو ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ ہندوستانی فورسز میت کو سٹریچر پر لیجانے کے بجائے فرش پہ گھسیٹ کر لے گئے۔

اس کے بعد 7ستمبر کو سرینگر سے حریت کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر کی مسلم لیگ کے سربراہ مسرت عالم بٹ کو حریت کانفرنس کا نیا چیئرمین ، سید شبیر احمد شاہ اور غلام احمد گلزار کو ناوائس چیئرمین اورمولوی بشیر احمد عثمانی کو سیکرٹری جنرل بنائے جانے کا اعلان کیا۔حریت کانفرنس کے بیان میں مزید کہا گیا کہ صورتحال بہتر ہونے پر حریت کانفرنس کے آئین کے مطابق الیکشن کرائے جائیں گے۔بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حریت کانفرنس کے اس اجلاس میں کون کون سے رہنما شریک ہوئے ۔نئے حریت چیئرمین مسرت عالم اور شبیر شاہ دونوں ہندوستانی جیل میں قید ہیں۔پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں مسرت عالم بٹ کو حریت کانفرنس کا چیئر مین بنانے کے حریت کانفرنس کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔یہ بات اہم ہے کہ سید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی میں ہی مسرت عالم کو اپنا جانشین اور کشمیریوں کی اگلی قیادت قرار دیا تھا۔ شبیر شاہ کے ساتھ بنائے جانے والے دوسرے وائس چیئر مین غلام احمد گلزار بھی گیلانی صاحب کی تجویز کردہ ہیں۔اس کے باوجود حریت کانفرنس کی اعلان کردہ اس نئی تنظیم سازی کا عمل '' حسب ہدایت '' کئے جانے کا تاثر حاوی ہے۔

حریت کانفرنس میں شامل تنظیموں کے درمیان تنظیمی سطح پہ اختلافات اور عدم اتفاق کی صورتحال نمایاں ہے۔سالہا سال پہلے ، کل جماعتی حریت کانفرنس میں اختلافات کی بنیاد پر دو گروپ بن گئے ۔ ایک گروپ کی قیادت سید علی شاہ گیلانی جبکہ دوسرے گروپ کی میر واعظ عمر فاروق کر رہے تھے۔اس کے بعد چند سال قبل سید علی شاہ گیلانی کی قیادت میں '' سہ رکنی قیادت'' سامنے آئی جس میں میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک شامل تھے۔سید شبیر احمد شاہ نے بھی گیلانی صاحب کی قیادت میں قائم اس نئے اتحاد کی حمایت اور شمولیت اختیار کی تھی۔

ہندوستانی حکومت نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت 2017 میں حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے خلاف اپنے تحقیقاتی ادارے'' این ّئی اے'' کے ذریعے مالیاتی امور سے متعلق الزامات میں کاروائی کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔5اگست2019 کو ہندوستانی کی '' بی جے پی '' حکومت نے اپنی پارلیمنٹ کے تمام ضوابط کو پس پشت ڈالتے ہوئے یکطرفہ طورپر آئینی ترامیم کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے ہندوستان میں مدغم کرنے کا اعلان کیا۔ہندوستانی حکومت کو اپنے اس اقدام کے لئے مقبوضہ جموں وکشمیر کے تمام آزادی پسند رہنمائوں کے ساتھ ساتھ تمام ہندوستان نواز رہنمائوں کو بھی طویل قید میں رکھنا پڑا اور دو لاکھ سے زائد تعداد میں مزید فورسز کو مقبوضہ کشمیر میں متعین کر نا پڑا۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے آپریشن مسلسل جاری ہیں، سیاسی رہنمائوں، کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور تمام مقبوضہ کشمیر کو ریاستی جبر کی ایک مستقل صورتحال کی بھینٹ چڑہایا ہوا ہے۔

بلا شبہ ہندوستانی حکومت کے دو سال پہلے کئے گئے اقدامات ، سید علی شاہ گیلانی کی وفات اور اب حریت کانفرنس کے نئے چیئر مین کے تقرر کی صورتحال میں یہ بڑا سوال سامنے آیا ہے کہ حریت کانفرنس کو کس انداز میں منظم کیا جاتا ہے ۔ یہ سوال عام ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کی وفات کے بعدحریت اتحاد کی صورتحال کیا ہو گی؟ ہندوستان کی طرف سے حریت رہنمائوں کو مسلسل قید رکھے جانے کی صورتحال میں یہ بہت مشکل ہے کہ حریت کانفرنس کی تنظیم اور کردار کو بہتر بناتے ہوئے موثر بنایا جا سکے۔ہندوستان کی طرف سے کشمیریوں کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ دینے اور انہیں ریاستی جبر سے مجبور رکھنے کی صورتحال کشمیر میں ہندوستان کی کمزور پوزیشن ظاہر کرتی ہے۔

ہندوستانی حکومت حریت رہنمائوں، کارکنوں کی گرفتاریوں،قید اور دوسری سخت ترین کاروائیوں کی صورتحال میں یہ دعوی کرتی ہے کہ اب حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر میں غیر موثر ہو گئی ہے جبکہ حریت رہنمائوں ،کارکنوں کے خلاف قید و بند کی ہندوستانی کاروائیاں خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیریوں کے آزادی ،مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے مطالبے میں کشمیریوں کا سیاسی اتحاد حریت کانفرنس اب بھی اہم اور متعلقہ ہے۔حریت کانفرنس کی تنظیمی خرابیوں و دیگر امور سے متعلق کشمیری عوام کئی اعتراضات، تحفظات رکھتے ہیں تاہم یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ تمام تر کمزوریوں کے باوجود حریت کانفرنس ہی کشمیریوں کے مطالبہ آزادی،مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پرامن طور پر حل کئے جانے کی سیاسی نمائندگی رکھتی ہے ۔

دوسری طرف افغانستان میں امریکی فوج کے انخلاء اور طالبان کی طرف سے افغانستان میں اپنی عبوری حکومت کے قیام کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کی اہمیت بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ طالبان کے ترجمان نے کشمیریوں کے حق آزادی کی حمایت میں بیان دیتے ہوئے ہندوستانی حکومت کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔یوں جنوبی ایشیا کے اس خطے میں ہونے والی نئی تبدیلیاں کشمیر کے مسئلے کے حل کی اہمیت کو بھی نمایاں کر رہی ہیں۔اس تمام صورتحال میں یہ بات اہم ہے کہ کشمیر کی مزاحمتی قوتوں کو اپنے معیار اور طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اب تک کا طریقہ کار نہ صرف غیر موثر بلکہ کشمیری عوام کی توقعات کے بھی منافی ہے۔

واپس کریں