مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم
نجیب الغفور خان
رپورٹ۔ نجیب الغفور خان جموں و کشمیر لبریشن سیل
پاکستان نے رواں ماہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدتریں پامالیوں ،جنگی جرائم، نسل کشی اور تشدد سے متعلق آڈیو، ویڈیو اور دستاویزی ثبوتوں پر مشتمل131 صفحات کا ڈوزئیر جس میں ایک سی ڈی کے ساتھ 15 آڈیو اور کئی ویڈیو ریکارڈنگ شامل ہیں قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ شئیر کیا،جو بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق جرائم کے حوالے سے ایک اہم دستاویز ہے ۔ اس دستاویز میں مقبوضہ وادی میں جعلی مقابلوں، خواتین کی آبرو ریزی، زیادتی اور گمنام قبروں کے ٹھوس شواہد شامل ہیں۔ دستاویز کے پہلے باب میں جنگی جرائم اور بھارتی فوج کی نسل کشی کی کارروائیوں اور دوسرے باب میں بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کو دبانے کے لئے فرضی کارروائیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے جبکہ آخری باب میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کس طرح کھلے عام انسانی حقوق سے متعلق قوانین پامال کر رہا ہے۔ دستاویز میں جوثبوت پیش کئے گئے ہیں وہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس پرمشتمل ہیں۔جس میں جدوجہد آزادی کو دہشتگردی سے جوڑنے کے بھارتی ڈیزائن کی مکمل تفصیلات بھی شامل ہیں۔اس ضمن میں 26 حوالہ جات انٹرنیشنل میڈیا، 41 بھارتی اور 32 حوالہ جات بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ہیںجبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم کے 3 ہزار 432 کیسز کا تذکرہ ہے، ایک ہزار 128 ان لوگوں کی نشاندہی کی گئی جنہوں نے جنگی جرائم مرتب کرنے میں ملوث تھے، اس میں ایک میجر جنرل سطح کا افسر بھی شامل ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے جنگی جرائم میں ایک میجر جنرل، 5 بریگیڈیئرز، 4 آئی جیز، 7 ڈی آئی جیز، 131 کرنلز، 186 میجرز اور کیپٹنز ہیں اور 118 یونٹس کا بھی تذکرہ کیا جو انسانی حقوق کے خلاف ورزی میں ملوث رہی ہیں۔بھارتی مظالم کی وجہ سے ایک لاکھ بچے یتیم ہوئے، ایک لاکھ املاک کو دانستہ طور پر نقصان پہنچایا گیا، اسلحہ رکھ کر مظلوم کشمیریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے کہ تحریک کو نقصان پہنچے۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے 6 اضلاع کے 89 گاؤں میں 8 ہزار 652 اجتماعی قبریں دریافت ہونے کا انکشاف بھی کیا گیا۔ جس میں سے 154 قبروں میں 2، 2 افراد جبکہ 23 قبروں میں 17 سے زائد افراد کی لاشیں تھیں۔علاوہ ازیں بھارتی فوج نے 2017 سے مقبوضہ کشمیر میں کیمیکل ہتھیار استعمال کیے جس سے 37 کشمیری جاں بحق ہوئے جبکہ 2014 سے اب تک بھارتی فورسز کے ہاتھوں 3 ہزار 850 عصمت دری کے واقعات پیش آئے، 650 خواتین کو قتل کردیا گیا۔ڈوزیئر میں دی گارجین کا حوالہ دیا گیا کہ 10 ہزار کشمیریوں کو جبری لاپتا کردیا گیا، بھارتی فورسز نے سنہ 2014 کے بعد سے اب تک 120 کشمیری بچوں کو فائرنگ کرکے قتل کیا۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے استعمال کی گئی پیلٹ گن سے ایک ہزار 253 نوعمر لڑکے نابینا اور 15 ہزار 438 بدترین زخمی ہوئے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے محاصرہ اور سرچ آپریشن کے نام پر 6 ہزار 479 املاک کو تباہ کیا اور ایسے آپریشن کی تعداد مجموعی طور پر 15 ہزار 495 رہی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے۔بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں یکم جنوری 1989 سے یکم ستمبر2021 تک 95 ہزار 861 کشمیریوں کو شہید کیا جبکہ 1990ء کے بعد بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں 7190 افراد دوران حراست شہید کئے گئے۔کے ایم ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق اس عرصہ میں غیرقانونی طور پربھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں ایک لاکھ 62 ہزار 137 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ایک لاکھ10ہزار 432 رہائشی مکانوں اور دیگر تعمیرات کو نذر آتش کیا گیا۔قابض بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے خلاف آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے، مقبوضہ علاقہ میں اب تک 11 ہزار 245 خواتین کی عصمتوں کو پامال کیا جاچکا ہے۔۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حریت کانفرنس کے قائد سید علی گیلانی کا یکم ستمبر کی رات سری نگر میں اپنی رہائش گاہ پر دوران حراست انتقال ہوا اور اب کے لواحقین کی اجازت کے بغیر انہیں زبردستی ایک قریبی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔اس اقدام کا مقصد ان کے جنازے میں لاکھوں کشمیریوں کی شرکت کو روکنا تھا۔ سید علی گیلانی طویل عرصہ تک حریت کانفرنس کے چیئرمین رہے اور انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں سری نگر کے مرکزی مزار شہداء میں سپردخاک کیا جائے۔ بھارتی حکومت ان کے انتقال کے بعد بھی ان سے خوفزدہ ہے۔سید علی گیلانی انتقال سے قبل کم وبیش 12 سال اپنی رہائش گاہ پر نظربند رہے اور انہیں علاج ومعالجے سے بھی محروم رکھا گیا۔ قابض افواج اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے 2017 میں بھارتی حکومت کے احکامات پر حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند قائدین کو بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے ذریعے من گھڑت مقدمات کے تحت گرفتار کیا اور وہ اس وقت نئی دہلی سمیت بھارت اور کشمیر کی جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔ بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں اور نوجوانوں کی نسل کشی کررہا ہے ،اب غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل اجراء کرکے آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے، جبکہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، بھارتی حکومت کے ان حربے کا مقصد مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کم کرنا اور بھارتی باشندوں کو مقبوضہ علاقہ میں آباد کرنا ہے۔کشمیری عوام نے حق خودارادیت کے حصول کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اوروہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں ہوئے ہیں جو آزادی کشمیر کے حصول تک جاری رہیں گی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیریوں پر بڑے پیمانے پر ظلم وتشدد اور حقوق انسانی کی سنگین پامالیوں کے بارے میں جاری کئے گئے حکومت پاکستان کے ڈوزیئر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے سنگین جنگی جرائم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جعلی مقابلوں اور خواتین کی بے حرمتیوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کئے جانے کو بے نقاب کیا ہے۔اس ڈوزیئر سے ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کا حقیقی وکیل ہے۔ حریت کانفرنس نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کیلئے مقبوضہ علاقے تک رسائی دینے کی غرض سے بھارت پر دبائو بڑھانے کیلئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کا بھی خیرمقدم کیاہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارتی فوجی انعامات اور ترقی کے لالچ میں بے گناہ کشمیریوں کا خون بہارہے ہیں اور عالمی برادری خاموش تماشاہی کا کردار ادا کررہی ہے۔ادھر اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے48 ویں سیشن کے آغاز پر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور کالے قانون کے استعمال میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام کی جانب سے عوامی اجتماعات پر پابندی اور مواصلاتی بلیک آئوٹ جاری ہے جبکہ سینکڑوں افراد اظہار رائے کی آزادی کے حق کے مطالبہ پر حراست میں ہیں جبکہ صحافیوں کو بڑھتے ہوئے دبائوکا سامنا ہے، یہ اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 5 اگست2019کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اور سخت پابندیوں کے بعد بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔جہاںسول سوسائٹی کے اراکین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموںکی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات پر آواز بلند کرنا ایک احسن اقدام ہے وہاں پاکستانی ڈوزئیر جس میں قابض بھارتی فوج کی طرف سے بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سنگین جنگی جرائم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جعلی مقابلوں اور خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کو بے نقاب کرنے پر کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیںاب یہ اقوام متحدہ سمیت دیگر انسانی حقوق کے اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی تحقیقات کروائیں اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔

واپس کریں