مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی منظر نامے پر
نجیب الغفور خان
وزیر اعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے خطاب
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی منظر نامے پر توجہ کا مرکز بن گیا ۔وزیر اعظم عمران خان کے دوٹوک خطاب اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی مختلف ممالک کے سفیروں ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر اور سیکرٹری جنرل سے ملاقا توں میں مسئلہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر شہ سرخیوںمیں رہا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر اپنے واضع اور دو ٹوک مو قف کو دہراتے ہوئے ایک بار پھرعالمی برادری پر زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانیت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔، بدقسمتی سے وابستہ مفادات کی بناء پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں دنیا کے نقطہ نظر میں یکساں برتائو کا فقدان ہے۔وزیراعظم پاکستان نے عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بربریت کی تازہ ترین مثال عظیم کشمیری رہنما سیّد علی شاہ گیلانی کے جسد خاکی کو ان کے خاندان سے زبردستی چھیننا اور ان کی وصیت اور اسلامی روایت کے مطابق نماز جنازہ کی ادائیگی اور تدفین سے محروم کرنا ہے۔انہوں نے جنرل اسمبلی سے یہ مطالبہ کرنے کی درخواست کی کہ مناسب اسلامی رسوم کے ساتھ سیّد علی گیلانی کے جسد خاکی کی شہدا کے قبرستان میں تدفین کی اجازت دی جائے۔اس سے قبل بھی و زیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کرتے ہوئے عالمی برادری پر واضع کیا تھا کہ کشمیر عالمی سطح پر متنازعہ علاقہ ہے، بھارت یکطرفہ فیصلہ اور اقدامات نہیں کر سکتا۔ پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیراعظم عمران خان کے خطاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقریر حقائق پر مبنی تقریرہے، وہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بھرپور آواز بلند کرنے پر مبارک باد کے مستحق ہیں،پوری قوم ان کو مبارک باد پیش کرتی ہے جموںو کشمیر کے مسئلے کووزیراعظم نے بڑے موثر انداز میں پیش کیااور اقوام متحدہ میں بیٹھے ممالک کے نمائندوںنے ان کی تقریر کا زبردست خیر مقدم کیامسئلہ کشمیر پر ان کا دلیرانہ موقف اور مقبوضہ کشمیر میںبھارتی ظلم اور کشمیری بہن، بھائیوں سے والہانہ محبت کا عملی ثبوت ہے بلکہ وہ کشمیریوں کے حقیقی سفیر ہیں ۔دوسری طرف کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر سے جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں سربراہی اجلاس میں ورچوئل تقریر منطق، مستند دستاویزات اور تاریخی حقائق پر مبنی تھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے وزیراعظم عمران خان کو امن کا سفیر قرار دیتے ہوئے ان کے واضح اور دو ٹوک پیغام کا خیرمقدم کیا ہے کہ تمام اقوام عالمی امن و ترقی کے بہترین مفاد میں کشمیر کا تنازعہ حل کرنے میں مدد کریں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس سے وزیراعظم عمران خان کا خطاب دلائل مستند دستاویز اورتاریخی حقائق پر مبنی تھا، عمران خان نے اپنے خطاب میں بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کھلی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ وادی میں حالات معمول پر آنے کے نام نہاد دعوئوں کو بے نقاب کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان مسئلہ کشمیر کے فوری حل پر زور
دریں اثنا ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم گزشتہ 74بر س سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کو تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر میںگزشتہ سات دہائیوں سے جاری ظلم وتشددختم کرنے کی ضرورت ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ترکی کشمیریوں کیساتھ ہے۔ ترک صدر مسلسل اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں مسلسل عالمی ادارے کی توجہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب مبذول کرارہے ہیں۔گزشتہ سال جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے خطاب میں صدر اردوان نے جموں وکشمیر کو ایک سلگتا ہوا مسئلہ قرار دیا تھا اورکہاتھا کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے یکطرفہ اقدام سے یہ مسئلہ مزیدپیچیدہ ہو گیا ہے۔انہوں نے کہاتھا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن و استحکام قائم نہیں ہو سکتا۔

کشمیر متنازعہ علاقہ، پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کے لئے تیار ہیں، سعودی سفیر
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ اور پاکستان و بھارت کے درمیان تنازعہ قرار دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے تصفیہ طلب مسئلے کو بذریعہ مذاکرات حل کرنے پر زور دیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کئی بار ثالثی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی ہر پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے لیکن بھارت نے مسترد کیا ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کے پرامن اور بذریعہ مذاکرات حل کی بات کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد پہ زور دیتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف سے ہمیشہ سعودی عرب سمیت دیگر دوست ممالک کو آگاہ کرتا رہا ہے۔بھارت کے دورے کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ایک دن قبل بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے لیے فورمز فراہم کریں گے تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں ممالک مذاکرات کریں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اقوام متحدہ کے صدر اور سیکرٹری جنرل سے ملاقات
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے ملاقات کی جس میں انہوں نے جنرل اسمبلی کے صدر کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے شواہد پر مشتمل ڈوزیئر پیش کیا ۔اے پی پی کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس کے موقع پر صدر جنرل اسمبلی عبداللہ شاہد سے ملاقات کی یہ ملاقات اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز نیویارک میں صدر جنرل اسمبلی کے چیمبر میں ہوئی۔وزیر خارجہ نے صدر جنرل اسمبلی کو مقبوضہ جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے صدر جنرل اسمبلی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں،بھارتی قابض افواج کی جانب سے منظم اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے شواہد پر مشتمل جامع ڈوزیئر پیش کرتے ہوئے توقع کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ، اپنی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو ان کے جائز حق، حق خود ارادیت کے حصول کی دستیابی کیلئے، اپنا بھرپور کردار ادا کرے ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کی طرف سے جمعہ کو جاری بیان کے مطابق یہ ملاقات اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز ہوئی۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال سے آگاہ کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اٹھائے گئے یکطرفہ بھارتی اقدامات، علاقائی و بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل کو ایک جامع ڈوزیئر پیش کیا جس میں انسانی حقوق کی سنگین، منظم اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور بھارتی قابض افواج کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی تفصیلات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرانے، 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی واپسی اور کشمیریوں کو ان کے جائز حق''حق خود ارادیت کے حصول کیلئے بھارت پر دبائو ڈالیں۔صدر آزاد ریاست جموں و کشمیربیرسٹر سلظان محمود چوہدری اور چئیرمین کشمیر کمیٹی شہر یار خان آفریدی نے بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اور ایمنسٹی انٹرنشنل سمیت دیگر عالمی اداروں کے سربراہوں سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیتے ہوئے بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا۔

او آئی سی رابطہ گروپ اجلاس میں کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کی حمایت
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76 ویں اجلاس کے موقع پر جموں و کشمیر کے بارے میں او آئی سی رابطہ گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور آزر بائیجان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔جس کے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں جموں و کشمیر تنازعہ پر او آئی سی کے موقف کا آعادہ کیا گیا اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کا عزم دہرایا گیا۔ اجلاس میں بھارت کے 5اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدام کو مسترد کیا گیا۔ اسی طرح غیر کشمیریوں کو کشمیر کے ڈومیسائل جاری کرنے کا بھارتی فیصلہ بھی مسترد کیا گیا۔ اجلاس میں جموں و کشمیر کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ قرار دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا تقاضہ کیا گیا ہے اور باور کرایا گیا ہے کہ یہ دیرینہ مسئلہ یو ای او کی قراردادوں کے مطابق ہی حل ہونا ہے جس کے بغیر مغربی ایشیاء میں پائیدار امن کا حصول ناممکن ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے.رابطہ گروپ نے اس سال اگست میں او آئی سی کے مستقل انسانی حقوق کمیشن کے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیرکے دورے کا خیرمقدم کیا۔ مشترکہ اعلامیہ میں عالمی رہنماں، اراکین پارلیمنٹ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کے کردار کا بھی خیرمقدم کیا جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔سید علی گیلانی کی میت ان کے اہل خانہ سے چھیننے کے غیر ذمہ دارانہ عمل اور ان کی وصیت کے مطابق دفن کرنے کے حق سے انکار کی مذمت کی گئی۔مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے جموں و کشمیر کے تنازعہ کا حتمی حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے مطابق ناگزیر ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بحث
23ستمبر کو برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بحث ہوئی،جس میں متعدد برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔اس بحث کا آغاز آل پارٹیز پارلیمنٹری گروپ آن کشمیر کی چیئر پرسن ڈیبی ابراہم نے کیا تھا، ڈیبی ابراہم نے پارلیمنٹ میں برہان وانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہزاروں کشمیریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ بھارتی فوج کشمیر میں طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے ،رکن پارلیمنٹ جیمز ڈیلی نے کہا کہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کر ایا جائے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں سید علی گیلانی کو خراج تحسین پیش بھی کیا گیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ سید علی گیلانی نے اپنی زندگی جدوجہد آزادی پر قربان کر دی۔ لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ عمران حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے موضوع پر مباحثے کے دوران اپنے پرجوش خطاب میں برطانوی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ جبر کا شکار لوگوں کے حقوق کے لئے اٹھ کھڑی ہو اور خطے میں موجود تنازعات کو دوطرفہ بات چیت سے حل کرنے پر زور دے۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں مظالم پر بھارت کوتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور دیگر ممالک اس صورتحال پر خاموش رہنے کی روش ترک کریں۔انہوں نے کہا کہ 70سال سے زیادہ عرصے سے کشمیر کے بیٹوں اور بیٹیوں کو ظلم و ستم، جبر اورانتہائی وحشیانہ ناانصافیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 70سال سے زیادہ عرصے سے وہ اس قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جا رہے ہیں یا معذور ہو رہے ہیں جس کو بدنام زمانہ آرمد فورسز (سپیشل پاورز) ایکٹ کے تحت قانونی کارروائیوں سے استثنا حاصل ہے۔ 70سال سے زیادہ عرصے سے ان کے حقوق پامال کئے جا رہے ہیں، ان کی آزادیاں چھینی جا رہی ہیں اور ان کو حق خود ارادیت دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔ ایم پی لیم بائرن نے کہا جو ملک انسانی حقوق کو اہمیت نہیں دیتا اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ایم پی افضل خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر طویل ترین تنازعہ ہے۔ کشمیر تنازعہ کے باعث پورا جنوبی ایشیا متاثر ہو رہا ہے۔ زارا سلطانہ نے کہا کہ مودی نے کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ مقبوضہ کشمیر دنیا میں سب سے زیادہ فوجی موجودگی والا علاقہ بن گیا ہے۔برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خاموش رہنے کی روش ترک کر کے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی وحشیانہ انداز میں خلاف ورزیاں رکوانے میں مدد کرے اور برطانیہ میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کے برطانو ی پارلیمنٹ میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے، جنرل اسمبلی کے اجلاس سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کے موقع پر ان سے اقوام متحدہ کے کنونشز کی خلاف ورزیوں اور بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سوال کیا جانا چاہیے۔ ان کی آزادیاں چھینی جا رہی ہیں اور ان کو حق خود ارادیت دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔ کشمیری عالمی برادری سے اپنے حقوق کی بھیک نہیں مانگ رہے، وہ بین الاقوامی برادری کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں بلکہ متحدہو کر حق خود ارادیت اور اپنی قسمت کا خود فیصلہ کرنے کا حق طلب کریں۔برطانوی پارلیمنٹ چونکہ دنیا کا ایک بڑا پارلیمانی فورم ہے جس پر کسی بھی ایشو کو زیر بحث لانا مسلسل لابی، سفارتی کوششوں اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ کام کے نتیجے میں ہی ممکن ہو تا ہے اس بحث ا ور اس سے قبل بھی جتنی ڈیبیٹس، تحریکیں اور سوالات اٹھائے گئے ہیں اس کے پیچھے برٹش کشمیریوں اور کمیونٹی کی مسلسل محنت شامل ہے۔برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر گروپ کا یہ قدم کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔



واپس کریں