نوشتہ دیوار
ظفرمحمود وانی
بابل کا بادشاہ بیلشضر اپنے دربار میں اپنے درباریوں کے ہمراہ رنگ رلیوں میں مصروف تھا کہ دربار کی دیوار پر ایک تحریر ابھر آئی ، کوئی ان الفاظ کا مطلب نہ سمجھ سکا تو کسی کے مشورے پر بنی اسرائیل کے نبی دانیال کو بلایا گیا جنھیں بادشاہ یروشلم فتح اور تباہ کرنے کے بعد ان کی قوم کے ہمراہ غلام بنا کر بابل لایا تھاان سے ان دیوار پر نمودار ہوے الفاظ کا مطلب بتانے کو کہا گیا۔ یہ کسی اجنبی زبان کے غیر مانوس الفاظ تھے جنہیں ملک کا کوئی بھی عالم سمجھنے سے قاصر تھا۔ لیکن دانیال نبی نے اپنی روحانی قوت کے زور پر اس زبان کو سمجھ لیا دیوار پہ لکھے ہوئے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے دانیال نے کہا mene کا مطلب ہے کہ تمھاری بادشاہی کے دِن پورے ہو گئے ہیں۔takel کا مفہوم ہے کہ تمہیں کسوٹی پہ پرکھا گیا، لیکن تم کم عِیار ( ناقص) نکلے۔peres سے مراد ہے کے تمھاری سلطنت عنقریب دشمنوں میں تقسیم ہو جائے گی۔بائبل میں لکھی کہانی کے مطابق اسی رات بادشاہ قتل کر دیا گیا اور جلد ہی اس کی سلطنت دو دشمن ریاستوں کے قبضے میں چلی گئی۔
ہمارے لئے بھی نوشتہ دیوار سامنے ظاہر ہو چکا ہے ، لیکن کوئی اسے پڑھنا یا سمجھنا تو درکنار دیکھنے تک پر تیار نہیں ۔پاکستان کے عوام کے لئیے ملک کے موجودہ اقتصادی حالات اور کرنسی کی قدر تیزی سے کم ہونے کی وجہ سے آمدنی میں مسلسل اور تیزی سے کمی،بنیادی ضروریات اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ایک عام پاکستانی کے لئیے زندگی گزارنا مشکل سے مشکل بنا دیا گیا ہے۔دوسری طرف بے رحم کاروباری گروہوں نے زیر سرپرستی لوٹ مار اور استحصال کی نئی حدوں کو چھو لیا ہے۔ تعلیم اور علاج جو آج کے دور میں انسان کی بنیادی ضرورت ہیں اور بنیادی انسانی حقوق کا لازمی حصہ ہیں ،ان ضروریات کو بھی کمرشلائز کر کے ایک پہلے سے غریب اور محروم کے جسم سے خون نچوڑا جا رہا ہے۔, معاشرے کے مختلف انسانی طبقات میں طرز زندگی اوربنیادی ضروریات کے حصول اور معیار کا فرق روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ،جس کے نتیجے میں ایک طرف شاہراہوں پر گاڑیوں کے ہجوم کی وجہ سے چلنا مشکل ہو چکا ہے دوسری طرف بھوکے , ناخواندہ, محروم عوام کا انبوہ بھی بڑھتا جا رہا ہے،جن کے پاس انسانی زندگی کے بنیادی معیار اور حقوق کا تصور تک نہیں رہنے دیا گیا۔
باقائدہ منصوبہ بندی سے عوام کو معیاری تعلیم اور شعور سے دور رکھتے ہوے اسی حیثیت پر اکتفا پر مجبور تصور کر لیا گیا ہے ۔مذہبی علما ،جن سے ان عوام میں اپنے انسانی حقوق کے شعور کو بیدار کرنے کی توقع تھی،, وہ بھی اس کاروباری استعمار اور بیرحم اقتدار کے مددگار بنے دکھائی دے رہے ہیںاور عوام کی اس موجودہ حالت اور استحصالی طبقات کی امارت اور طاقت کو'' من جانب اللہ'' بتا کر عوام کے معاشی شعوری اور اخلاقی سرقے اور زوال کے زمہ داروں میں پوری طرح سے بعوض ذاتی مفادات شامل ہیں۔یہ تمام صورتحال ایک بہت بڑے المیہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
کاسمیٹکس سے مرض چھپایا تو جا سکتا ہے لیکن اسے شفا نہیں ہو سکتی۔وقت آ گیا ہے معاشرے کو ری پروگرام اور ری شیڈول کرتے ہوے سوشل ازم نافذ کیا جائے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے جو اپنے عوام بلکہ ملحقہ ممالک جیسے افغانستان اور وسطِ ایشیا کے ممالک کی بھی غذائی ضروریات پورا کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے ,۔لائیو سٹاک اور دودھ پیدا کرنے والے دنیا کے بہت سے ممالک سے پیداوار میں زیادہ ہے،جس میں معمولی توجہ اور مناسب منصوبہ بندی سے مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف پاکستان کے عوام کے لئیے بلکہ ملحقہ ہمسایہ ممالک کے لئیے بھی غذائی اور دیگر بنیادی اشیا پیدا کی جا سکتی ہیں۔ قومی منصوبہ بندی اس بنیادی اصول کے تحت کی جانی چاہئیے کہ جو موجود ہے یا بنایا یا پیدا کیا جا سکتا ہے، اسی میں گزارہ کیا جائے۔ تیل اور گیس ایران سے پائپ لائن کے زریعے زیرو کیرج خرچ پر انتہائی سستے داموں بارٹر سسٹم کے تحت حاصل کیا جائے۔ٹیکنالوجی روس اور چین سے حاصل کی جائے اور اپنی ضرورت کی ہر چیز ملک میں ہی تشکیل و تعمیر کی جائے۔
ہمارا اصل اثاثہ یہ زرخیز اور مالامال سرزمین اور ہماری افرادی قوت ہے۔اسے موثر منصوبہ بندی سے توانائی اور پیداوار کے منصوبوں اور خالی اور بنجر پڑی زمین کو آباد کر کے وافر پیداوار حاصل کرنے کے لئیے استعمال کیا جائے۔علم و فن اور تکنیکی تعلیم و تربیت کو زیر سرپرستی فروغ دیتے ہوئے پاکستان کے ہر شہری سے اس کی صلاحیت کے مطابق بلا تخصیص کام لینے اور پاکستان کے ہر باسی کو زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کی زمہ داری ریاست پر عائد کی جانی چاہئیے۔تعلیم اور علاج کو مکمل طور پر سرکاری تحویل میں لے کر ہر پاکستانی تک ان کا معیاری حصول یقینی بنانا حکومت کی زمہ داری ہو۔بیرونی قرضوں کو جامد کر کے پہلے پیداوار میں اضافہ کر کے ہمسایہ ممالک جن کی ہم سے غذائی اور دیگر ضروریات خریدنا مجبوری ہے۔باہمی کاروبار کے ذریعے سرمائے کا حصول یقینی بناتے ہوئے آہستہ آہستہ بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کی جائے ۔
اب حالات وہاں پہنچ چکے ہیں کہ معاشی تقاوت اور غریب اور امیر کے درمیان ظلم کی حد تک بڑھ چکے فرق کی وجہ سے تمام معاشرتی اور حکومتی نظام کے تلپٹ ہونے اور مکمل معاشی تباہی کا امکان دکھائی دینے لگا ہے ، جس کے نتیجے میں خدانخواستہ ریاست کی مکمل ناکامی کا خدشہ بھی حقیقت بنتا نظر آ رہاہے۔ اس مرحلے پر شعور و دانش پر لازم ہو چکا ہے کہ وہ نسلِ انسانی کے ان محروم اور مظلوم افراد اور طبقات کی آواز بن کر سامنے آئیں اورحریت فکر اور شعور و آگہی کا علم بلند کریں ۔
اس مفلوک الحال انبوہ جس کی اکثریت سے اس کے انسان ہونے کا شعور تک چھین لیا گیا ہے، کو اپنے انسانی حقوق اور مقام کا شعور فراہم کرتے ہوئے ان کی قیادت کا مشکل اور پرخار فریضہ ادا کریں ،کہ اب دکھائی ایسا دینے لگا ہے کہ مکمل انارکی ہمارے سماج کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے اور اگر ہم نے اس صورتحال کا درست ادراک کرتے ہوے ، اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے فوری سوچ بچار اور موثر و کارگرمنصوبہ بندی نہ کی تو خدانخواستہ ہمارا نام بھی دنیا کی ان اقوام میں شامل ہو جائے گا جن کے آج صرف نام ہی تاریخ میں باقی رہ گئے ہیں۔
واپس کریں