ملک بچانا ہے تو نواز شریف سے معافی مانگیں
احتشام الحق
نواز شریف کی فیکٹریوں سے بھارتی خفیہ ایجنسی راء کے ایجنٹ دریافت کرنے ،بھارت میں نواز شریف کا بزنس برآمد کرنے کے انکشافات، بھارتی وز رائے اعظم، اٹل بہاری واجپائی اور نریندرا مودی کی پاکستان آمد کو غداری اور کلبھوشن کی پھانسی کے التوا ء کو بھارت نوازی قرار دینے والے ملکِ پاکستان کے وفادارن سے پوچھنا تھا کہ ہزاروں پاکستانیوں کو قتل کرنے اور ملک میں دہشت گردی کرنے کا بر ملا اعتراف کرنے والوں ،بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو اور احسان اللہ احسان کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے میں اب کون رکاوٹ بن رہا ہے ؟
نواز شریف کے چہرے سے نفرت ،اس کی شہرت اور خوش حالی سے حسد اور اس کی سول سپر میسی کی بالا دستی کو کوششوں کو ناکام بنانے والے مالکانِ ملک و ملت ، بغضِ نواز اخلاقیات کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے اور اپنا اعتماد کھوتے ہوئے اس قدر آگے چلے گئے کہ واپسی کے لیئے اب ان کی معافیاں اور معذرتیں نواز شریف کو قابلِ قبول نہیں ،جس کا اظہار نواز شریف کوٹ لکھپت جیل اور نیب میں ان سے صلح کرنے کے لیئے آنے والوں کے سامنے برملا واضع اور دو ٹوک انداز میں کر چکے ہیں ۔
وہ کون سی ایسی بات یا نصیحت ہے جو نواز شریف نے ملک اور قوم کی بہتری اور مفاد کے لیئے انہیں نہ سمجھائی ہو اور پھر وہ مالکانِ ملک و ملت کے منہ کے آگے نہ آئی ہو ۔ مضبوط معیشت اور خطہ میں امن کے لیئے پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لیئے اقدامات ہوں یا ملک سے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی چھوڑ کر ان کا خاتمہ کے لیئے سنجیدہ پالیسیاں مرتب کرنا ، ملک کو مالی طور پر مضبوط اور ایشین ٹائیگر بنانے کے لیئے امریکی غلامی سے نکلتے ہوئے سی پیک منصوبہ شروع کرنا ہو یا خطہ کے ممالک روس چین اور ایران سے مضبوط تعلقات بنانے کی بنیاد رکھنی ہو۔ خود ہی دیکھ لیجئے،کل تک مودی کے پتلے جلوانے والے مودی سے فون نہ اٹھانے کے شکوے کرنے تک مجبور ہو چکے ہیں ، کرتار پورہ بھی کھولا جا چکا ہے ، لیکن بھارت کشمیر کے حوالے سے اپنی سابقہ پالیسی پر مسلسل گامزن ہے، چین کو پسِ پشت ڈال کر خوشی خوشی امریکہ کے در پر حاضری دے کر واپس آ کر جب پتہ چلا کہ ٹرمپ تو کشمیر بھارت کے حوالے کر کے ہمیں ماموں بنا چکا ہے،پھر دوبارہ دوڑے دوڑے چین پہنچے ، سی پیک کو نواز شریف کے بغض میں اس کی نشانی سمجھ کر بند کیا لیکن در در بھیک مانگنے کے بعد جلد ہی عقل ٹھکانے آ گئی کہ نوا زشریف کا سی پیک منصوبہ ہی اس ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے،اور تو اور اطلاعات کے مطابق اب تو حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے جنرل عاصم باوجوہ کو سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین لگایا جا رہا ہے، دہشت گردی کے روک تھام سے متعلق عالمی ادارے فناشل ٹاسک فورس نے جب ہمارے بد مستوں کو اٹھا کر ڈنڈا دیا کہ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں جا سکتا ہے اگر فوری طور پر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائی کی گئی تو حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر وغیرہ جنہیں ہم پہلے اپنے قیمتی اثاثے قرار دے چکے تھے انہیں ساتھیوں سمیت ایک فون کال پر اٹھا کر جیلوں میں ڈال دیا ۔ اسی نواز شریف نے یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ “ملک کی مضبوط معیشت ہی ملک کے مضبوط دفاع کی ضامن ہے”، لیکن یہ بات بھی نواز شریف کو جیل میں بھیجنے کے بعد اگلوں کی سمجھ میں آئی، اس بات کا اظہار بھی پچھلے دنوں آرمی چیف نے ملک کے تاجروں سے ملاقات میں کیا تھا ۔
العرض وہ کون سی ایسی بات ہے جو نواز شریف نے ملک اور قوم کے مفاد میں مقتدرہ کو نہ سمجھانے کی کوشش کی ہو؟ لیکن بدلے میں انہیں کبھی ڈان لیکس کا تحفہ ملا ، کبھی مودی کے یار کے طعنے اور غداری کے سرٹیفیکیٹ اور کبھی اقتدار سے رخصتی کا پروانہ ملا ۔ اب اگر مالکانِ ملک و ملّت کو ماضی میں کی جانے والی اپنی غلطیوں کا احساس ہو چلا ہے تو ملک کے مفاد میں پک اینڈ چوز کی پالیسی ترک کرتے ہوئے بلاتاخیر چھپ کر نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں جا کر معافیاں مانگنے والوں کو بتائی ہوئی تین باتوں پر فی الفور عمل درآمد شروع کر دیا جائے ۔ اول، آذادانہ اور منصفانہ الیکشن اور اس کے نتیجے میں جو بھی سیاسی جماعت اکثریتی ووٹ لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے اقتدار اس کے حوالے کیا جائے، دوئم، فوج اور دیگر اہم ادارے سیاست بازی چھوڑ کر اپنی آئینی حدود میں رہ کر صرف اپنی آئینی ذمّہ داریاں ادا کریں اور سوئم جنہوں نے مسلم لیگ ن کے ووٹ الیکشن دو ہزار اٹھارہ میں منظم پلانگ کے تحت چوری کیئے وہ قوم سے معافی مانگیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ نواز شریف کے کہے کے مطابق اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈوبنے سے بچانے کے لیئے اس کے مشوروں پر عمل کر لیا جائے، کل کلاں کہیں ایسا نہ ہو کہ نواز شریف کی طرح مقتدرہ یا اسٹبلشمنٹ کی دشمنیاں خود مول لے کر اسے سمجھانے اور اس کی غلطیوں کی نشان دہی کرنے والا بھی ہمیں نصیب نہ ہو ۔
واپس کریں