خوف کے سوداگر اور کرونا وائرس
احتشام الحق
دنیا نے گواہی دی کہ عراق کے پاس کسی قسم کے کیمیائی ہتھیار نہیں لیکن امریکہ نے دنیا میں خوف اور دہشت کی فضاء پیدا کر کے عراق پر حملہ کیا، وہاں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور لاکھوں بے گناہ افراد پر اپنا اسلحہ استعمال کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتارا ،وہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی اور تیل کے وسیع ذخائر پر کنٹرول حاصل کر لیا ۔ افغانستان پر حملہ کیا،اپنی منظورِ نظر حکومت قائم کی، اسی حکومت اور دنیا کو سالوں تک اپنی پالیسیوں کے طفیل پیدا کیئے گئے’’ طالبان‘‘ سے خوف زدہ کیئے رکھا ،اپنے مقاصد کے حصول کے بعد پھر انہی طالبان سے امن معاہدہ کر لیا ۔ دنیا میں دہشت اور خوف پھیلا کر اپنے مقاصد کے حصول کے لیئے عالمی دہشت گرد تنظیم’’ داعش‘‘ کو بنانے اور اس کی پشت پناہی کرنے پر سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے بارہ سال بعد عراق کی جنگ اور صدام حسین کو ہٹانے پر معافی مانگی اور شدت پسند تنظیم داعش بنانے کی ذمہ داری قبول کی ۔ اس سے بھی پہلے امریکہ، برِا عظم افریقہ کے قیمتی قدرتی ذخائر سے مالا مال ممالک اور علاقوں میں خوف پیدا کر کے مختلف خطرناک وائرس کے تجربات کر کے لاکھوں افراد کو موت سے ہمکنار کر چکا ہے جس کی بعد میں معافی مانگی گئی ۔ یہ صرف چند ایک اور چھوٹی مثالیں ہیں جن کے بیان کرنے کا مقصد یہ باور کروانا ہے کہ دنیا کو خوف اور دہشت میں مبتلا رکھ کر اپنے مفادات کا حصول، سامراج کا پرانا ہتھکنڈہ ہے جسے تقریباً ہر دس بارہ برس بعد استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس مرتبہ امریکی سامراج نے اپنی گرتی ہوئی معیشت اور عالمی مقبولیت کو سہارا دینے اور ابھرتی ہوئی نئی عالمی طاقت چین کو معاشی طور پر پیچھے دکھیلنے کی عرض سے کرونا وائرس کا کھیل کھیلا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوا ، بلکہ اس کی اپنی تدبیریں ہی الٹی پڑ گئیں ۔ امریکہ کا اپنے دشمن چین پر نشانہ اس لیئے خطاء ہوا کہ چین نے سب سے پہلے امریکہ کے نفسیاتی حملے ’’خوف اور دہشت‘‘کے پرخچے اڑائے اور ثابت کیا کہ دورانِ جنگ اس بات کا خود سے پرچار کرنا کہ وار دشمن نے کیا ہے ۔ یہ خوف قوموں کے مورال گرا دیتا ہے،حوصلے پست کر دیا ہے اور انہیں تدبیریں کرنے سے روک دیتا ہے ۔ چین نے سب سے پہلے کرونا وائرس کے خوف اور پراپوگنڈے کو اپنے ملک میں ناکام کیا اور بری طرح شکست دی پھراس وباء پر کامیابی سے قابو پانے کے بعد امریکہ کے اپنے ملک یعنی چین پر با ئیو لاجیکل جنگی ہتھیار کرونا وائرس کے حملہ آور ہونے اور برطانیہ کی ایک لیبارٹری میں کرونا وائرس بنانے کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کر دیئے ۔ جس کے اب یکے بعد دیگرے مختلف تھنک ٹینکس ،اہم عالمی شخصیات اور اداروں کی جانب سے تصدیق کی جا رہی ہے ۔ آج چین میں کورونا وائرس کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر انسانی غذائی ضروریات کے لیے چمگادڑ، پینگولین اور کتوں کی فروخت شروع کردی گئی ہے ،جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ کرونا وائرس یا اس کے پھیلنے میں کسی بھی طرح مذکورہ جانوروں کا تعلق نہیں تھا ۔ گویا چین کے خلاف یہ بات بھی امریکی پراپوگنڈے کا ایک حصہ تھی ۔ لہذا اس بات میں اب کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ چین کے شہر ووہان میں فوجی مشقوں کے لیئے آنے والے امریکی فوجیوں کے زریعے کرونا وائرس کو پھیلایا گیا اور یوں یہ وباء پوری دنیا پر مسلط ہوئی ۔ آج امریکی صدر اپنے عوام کو حوصلہ دینے کے بجائے خوف زدہ کرنے کے لیئے ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ’’ آئندہ دوہفتے امریکیوں کے لیے انتہائی درد ناک ہوں گے‘‘ کیونکہ معاشروں میں خوف اور دہشت کی فضاء پیدا کرنا سامراج کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے ۔ کورونا وائرس کے باعث امریکا میں اب تک 4 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جبکہ چین میں اموات کی کل تعداد 3312 ہے ۔ چینی لیڈر شپ نے اپنی قوم کو کسی خوف اور ہیجان میں مبتلا کیئے بغیر تدابیر اختیار کر کے اس عالمی وباء پر قابو پایا ۔ جبکہ ظالم سامراجی طاقتیں خود اور دنیا بھر میں موجود اپنے ایجنٹوں کے زریعے کرونا وائرس کا مسلسل خوف اور ہراس پھیلانے میں مصروفِ عمل ہیں اور انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے خوف بیچنے کے طرزِ عمل سے کرونا وائرس کے خلاف تدابیر اختیار کرنے کا عمل بے حد متاثر ہو رہا ہے لیکن ظاہر ہے جس قدر خوف فروخت ہو گا اسی قدر سامراج کے مقاصد کی تکمیل بھی ہو گی ۔ اس ضمن میں ایک چھوٹا مقصد بھی ملاحظہ ہوجیسے، اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کی ویکسین اسے ہی دی جائے گی جو سے تسلیم کرے گا ۔ پاکستانی ٹرمپ، عمران خان بھی قوم کے مورال بلند کرنے اور حوصلہ دینے کے بجائے انہیں ذہنی طور پر سامراج کا مزید غلام بنانے کی کوششوں میں دکھائی دے رہا ہے ۔ عوام کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے کرونا وائرس کے خوف اور اس مرض کی دہشت سے ڈرایا جا رہا ہے ۔ زندہ قوموں کے حکمران اپنے ملک میں خوف نہیں بیچتے بلکہ خوف پر قابو پانے کی جہدو جہد کرتے ہیں ، جیسے کہ چین نے کرونا وائرس کے خوف کو شکست دی ۔ دنیا کے کمزور ممالک اور نہتے عوام پر ایٹم بم گرانے ،میزائلوں کی بارش کرنے،ڈرون حملوں سے لوگوں کومارنے والے سامراجی پراپوگنڈے کا حصہ بننے کے بجائے ہمارے حکمرانوں کو خوف اور دہشت کا پرچار کرنے کے بجائے مذکورہ موذی وباء کے علاج اور تدابیر پر زیادہ اہمیت دینا چاہیئے ۔
واپس کریں