آئین شکنی زیادہ سنگین جرم ہے یا مالی کرپشن؟
خورشید ندیم
آئین شکنی بڑا جرم ہے یا پیسے ٹکے کی کرپشن؟ اس سوال کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیے: پرویز مشرف صاحب پر لگا الزام زیادہ سنگین ہے یا نواز شریف صاحب کے خلاف مرتب کی گئی فردِ جرم؟

یہ سوال آپ اسناد برداروں کی مجلس میں رکھیں یا ان پڑھوں کی کسی محفل میں، جواب ایک ہی ملے گا۔ غالب اکثریت کہے گی: کرپشن۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں۔ یہ میرے برسوں کے سماجی ارتباط کا حاصل ہے۔ آپ کو اخبارات کے کالموں اور ٹیلی وژن چینلز کے مکالموں میں بھی یہی ملے گا۔ یہاں تک کہ سیاسیات کے پروفیسر بھی یہی سبق پڑھاتے سنائی دیتے ہیں۔

ایک سال سے کم عرصہ ہوا، میں ملک کے ایک بڑے تعلیمی ادارے کے سلیکشن بورڈ کا حصہ تھا۔ گریڈ اٹھارہ اور انیس کے لیے انٹرویو ہو رہے تھے۔ امیدواروں میں کئی ریاستی اداروں میں اعلیٰ مناصب اور رینکس پر رہنے والے ریٹائرڈ لوگ بھی شامل تھے۔ جب ان سے آئین کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کی لاعلمی حیرت انگیز تھی۔ وہ آئین کی مبادیات سے واقف تھے نہ جدید ریاست کے استحکام کے لیے اس کی اہمیت سے۔ میرے لیے یہ منظر شدید صدمے کا باعث تھا۔ آئین، واقعہ یہ ہے کہ انسان کا اتنا بڑا کارنامہ ہے جتنا پہیے یا کمپیوٹر کی ایجاد۔ یہ انسان کی تخیل اورغور و فکر کا ایسا شاہکار ہے جس نے صدیوں سے بد امنی کے شکار انسانی سماج کو استحکام کا پیغام دیا۔ اسے خوف کی حالت سے نکالا اور امن کی راہ پر گامزن کر دیا۔ معاشرے کو درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ طاقت ور کو ظلم سے کیسے روکا جائے اور اس کے اختیار کی کیسے تحدید کی جائے؟

تاریخ میں طاقت کا سب سے خوفناک ظہور اقتدار کی صورت میں ہوا ہے۔ بادشاہوں اور آمروں نے انسانوں پر ایسے ایسے مظالم توڑے کہ ان کے ذکر ہی سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اقتدار چونکہ طاقت کا منبع تھا، اس لیے اس کے حصول کی جنگ بھی مسلسل جاری تھی۔ ان جنگوں کی وجہ سے بھی زمین ہمیشہ انسانی لہو سے رنگین ہوتی رہی۔ آئین کے تصور نے انسانوں کو اس ظلم سے نجات دلا دی۔

آئین ایک سماجی معاہدہ ہے جو اقتدار کی حدود کے ساتھ، عوام کے حقوق کا بھی تعین کرتا ہے۔ سب کو قانون کی چھتری تلے لاتا ہے۔ یہ چھتری ظلم کی دھوپ سے بچاتی ہے۔ آئین اقتدار کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتا کہ وہ جب چاہے دوسرے کے حقوق کو غصب کر ڈالے۔ اس کے ذریعے یہ بھی طے ہو جاتا ہے کہ کسی کو اقتدار تک پہنچنا ہے تو کیسے اور اقتدار سے نکلنا ہے تو کیسے؟ جمہوریت نے انسان کو عمرانی معاہدے کا جو تصور دیا اسے آئین کہتے ہیں۔

آئین صرف فرد کی آزادی اور حقوق ہی کی حفاظت نہیں کرتا، یہ کسی سیاسی بندوبست میں شریک گروہوں اور اکائیوں کے مفادات اور حقوق کا بھی تحفظ کرتا ہے۔ یہی احساسِ تحفظ انہیں سیاسی بندوبست کاحصہ بنائے رکھتا ہے۔ پاکستان میں اگر آئین نہ ہو تو کوئی ایسی طاقت موجود نہیں جو پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان سمیت سب اکائیوں کو مجتمع رکھ سکے۔

امن انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ آکسیجن اور پانی کی طرح۔ امن کو سب سے زیادہ خطرہ اقتدار کی کشمکش سے پہنچتا ہے۔ آئین اس خطرے کا راستہ بند کر دیتا ہے۔ اس بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ پیسے ٹکے کی کرپشن سے کسی معاشرے کو وہ نقصان نہیں پہنچتا جو آئین شکنی سے پہنچتا ہے۔ کرپشن کو روکنے کا واحد راستہ بھی قانون کی حکمرانی ہے، آئین جس کی ضمانت دیتا ہے۔

آئینِ پاکستان میں، آئین شکنی کی سزا موت اور پیسے ٹکے کی کرپشن کی سزا چند سال کی قید یا جرمانہ ہے۔ دونوں سزاؤں میں یہ فرق بتا رہا ہے کہ آئین شکنی کرپشن کے مقابلے میں کتنا بڑا جرم ہے۔ آئین باقی نہ رہیں تو ملک باقی نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ جنہیں ملک کی بقا عزیز ہوتی ہے، وہ جان پر کھیل کر آئین کی حفاظت کرتے ہیں۔ ملک کے اصل ہیرو اور مجاہد وہی ہوتے ہیں جو تحفظِ آئین کی جنگ لڑتے ہیں۔

ہمارے ہاں آئین کے باب میں یہ حساسیت کیوں پیدا نہیں ہو سکی؟ بظاہر پڑھا لکھا آدمی بھی کیوں یہ خیال کرتا ہے کی کرپشن آئین شکنی سے بڑا جرم ہے؟ ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق، مشرف، لوگ کیوں ان کے نامہ ا عمال میں درج آئین شکنی کو بڑا جرم نہیں سمجھتے؟ لوگ اس پر کیوں غور نہیں کرتے کہ ہمارے آئین میں اس کی سزا موت کیوں رکھی گئی ہے؟ صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں، جہاں جمہوریت ہے، آئین شکنی شدید جرم کیوں ہے؟

اس کی سب سے بڑا وجہ ہمارا نظامِ تعلیم ہے۔ تعلیمی نصاب میں جمہوریت اور آئین کے بارے میں کچھ نہیں پڑھایا جاتا۔ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا ہے۔ قومی بیانیے کی تشکیل جب ریاست نے اپنے ہاتھ میں لی تو اس عمل میں آئین پسِ پشت چلا گیا۔ جنرل ضیاالحق نے اس سوچ کو اپنے ایک جملے میں مجسم کر دیا: آئین کیا ہے؟ کاغذ کا ایک ٹکڑا، جسے میں جب چاہوں ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں۔

دوسری وجہ ہمارے دانشور طبقے کا فکری افلاس ہے۔ اس نے بھی آئین کے باب میں اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی، الّا ما شا اللہ۔ تیسری وجہ میڈیا ہے۔ جب سے میڈیا رائے سازی کے میدان میں قائدانہ منصب پر فائز ہوا ہے، اس کی باگ کمرشل ازم کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ یوں کمرشل ازم کی ضروریات نے بحث کو سطحی بنا دیا۔ ٹی وی سکرین پر ان لوگوں کا قبضہ ہو گیا جو سماجی علوم سے واقف ہیں نہ مذہب و تاریخ ہی کا فہم رکھتے ہیں۔ آج جب آئین کی پاسداری کی بات کی جاتی ہے یا ریاست کی بقا کے لیے اس کی اہمیت واضح کی جاتی ہے تو کمال چالاکی سے اس بحث کو کرپشن کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا میں ایک موثر طبقہ ہے جو اسی کام پر لگا ہے۔ اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ان کالم نگاروں کو گالیاں دے جو جمہوریت اور آئین کی بات کرتے ہیں۔ وہ اس پر مامور ہیں کہ کرپشن کو مرکزی بیانیہ بنائے رکھیں اور نتیجے کے طور پر سیاست دانوں کو کرپشن کا تنہا مرتکب قرار دے کر ساری مہم ان کی کردار کشی پر مرتکز رکھیں۔

یہ جانتے ہیں کہ جس دن آئین شکنی ملک کا بنیادی مسئلہ قرار پایا، قوم اپنے مجرموں کو سیاست دانوں کی صف میں نہیں، کسی دوسری صف میں تلاش کرے گی۔ یوں ایک منظم مہم کے تحت یہ باور کرایا جاتا ہے کہ جو جمہوریت کی بات کرتا ہے، وہ دراصل کرپشن کا حامی ہے۔ اب اگر کہیں سے کرپشن کا الزام دوسری صف میں بیٹھے کسی فرد پر لگے تو پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس کا ذکر نہ ہونے پائے۔

اس بحث کو کمال مہارت کے ساتھ نواز شریف اور ان کے سابقہ ادوارِ حکومت کے گرد گھمایا جاتا ہے۔ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ بیانیے کے ساتھ مخلص نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ نواز شریف مخلص ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے یا نہیں؟

ماضی کے حکمرانوں کو برا بھلا کہنا سب سے آسان ہے۔ بہادری تو اپنے عہد کے طاقت ور طبقے کا محاسبہ کرنا ہے۔ لکھنے اور بولنے والوں کے لیے اصل آزمائش یہی ہے۔ ان کو فیصلہ کرنا ہے کہ گالیوں سے گھبرا کر اپنی ضمیر کی آواز کو دبانا ہے یا ان سے بے نیاز ہو کر وہی کچھ کہنا ہے جو ان کے نزدیک درست ہے۔ بلا شبہ ایک دن خدا کی عدالت لگنی ہے اور اس میں ہمارے اپنے ہاتھ پاؤں ہمارے خلاف گواہ بننے والے ہیں۔
(بشکریہ ہم سب)
واپس کریں