کچھ آس پاس ،گزشتہ چند سالوں میں !
ظفروانی
ہم آج اپنے پیارے وطن کی عافیت میں زندگی گزارتے ہوے ، شاید ان واقعات کو اور ان کے وہاں کے عوام پر پڑنے والے دیر رس اثرات کومحسوس تک نہیں کر سکتے ، جیسے سردیوں کی دھوپ کچھ سستی سی طاری کر دیتی ہے اور انسان کچھ سوچنے اور کسی بھی معاملے پر غور و فکر کرنے سے اختراز کرنے لگتا ہے۔ لیکن جس طرح فیض بھی کہہ اٹھے تھے کہ " لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجئے " تو اپنے آس پاس کی دنیا کے ممالک میں رونما ہونے والے کچھ اہم واقعات واقعی اس قابل ہیں کہ کم از کم کسی کہانی کی طرح ہی ان سے باخبر رہا جاے ، ایسے اہم واقعات ، جن میں سے کچھ کا نتیجہ ان ممالک اور ان کے عوام کے لئیے انتہائی خوشگوار نکلا اور بعد از خرابی بسیار ، آخر وہ اقوام ان کو لاحق ان دیرینہ بحرانوں سے جان چھڑانے اور ان کو درست کرنے میں کامیاب ہو گئیں، اور باقی دنیا کے ساتھ ترقی کے سفر کا آغاز کر دیا ۔
لیکن کچھ ممالک میں ان کوششوں کے انتہائی افسوسناک اور دردناک نتائج نکلے جن کے بھیانک سائے ان ممالک کے عوام کی زندگیوں پر آج بھی دکھائی دئیے جا رہے ہیں ۔ جیسے الجزائر میں ہوا، اور جیسے آج مصر جیسے " سویلائزڈ " اور مہذب اور ہزاروں برس کی شاندار تہذیب رکھنے والے ملک میں ہو رہا ہے ۔ وہاں انور سادات کے دور کی اسرائیل کے خلاف صحرائے سینا کی جنگِ رمضان میں شکست کے نفسیاتی اثرات پوری شدت سے آج تک موجود ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس جنگ کے نتائج نے وہاں کی مقتدرہ کی سوچ ہی مستقل طور پر تبدیل کر دی تو کچھ غلط نہ ہو گا ۔اب وہاں مقتدر اور طاقتور حلقوں میں یہ سوچ پختہ ہو چکی ہے کہ فوج کو امریکہ کی سرپرستی والے اسرائیل سے شدید خطرہ ہے ، جس کا حربی طور پر مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا لہذا وہاں کا مسئلہ بھی یہی ہے، کیونکہ وہاں بھی وہاں کی سویلین قیادت یہ خطرہ سمجھنے سے قاصر رہے ہیں ، یا کم از کم مقتدرہ کی طرف سے ایسا ہی سمجھا جا رہا ہے۔لہذاا وہاں بھی ملکی مفاد اور قانون آمنے سامنے آ گئے تھے۔ تب جنرل سیسی نے وہاں " ملکی مفاد " کو ہی ترجیح دی، اور کار مملکت اور اس کے تقاضوں سے "نا آشنا" عوام کے منتخب شدہ وزیر اعظم کو پنجرے میں ڈال کر اس پر مقدمات چلائے گئے۔ جب کچھ اور کوئی جرم ثابت نہ ہو سکا تو " قومی مفاد " میں اس کو دورانِ قید ہی ہلاک کر کے وہاں کے " ملکی مفاد " کی قانون کے مقابلے میں حفاظت کی گئی ۔
یہ کہانی یہاں بھی دہرائی جا سکتی تھی، لیکن نواز شریف ملک سے باہر چلا گیا ورنہ مسئلہ ہی نہ تھا ۔ دراصل اب قومی مفاد اتنا گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے کہ اس کو سمجھنا یا اس کا احاطہ کرنا سیویلین تو سویلین ہمارے باوردی مجاہدوں کے لئیے بھی ممکن نہیں رہا ۔لہذا اس قومی مفاد کی بہتر ، درست اور " کارآمد " تشریح مصر ہی کی طرح امریکیوں سے کروائی جاتی ہے۔اس میں دوسرا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس قومی مفاد کی امریکی تفہیم کے نتیجے میں جھونگے میں سات خون بھی معاف ہو جاتے ہیں ۔ یہ تو نواز شریف زیادہ ہوشیار نکلا اور ملک سے بھاگ نکلا ، ورنہ نیازی صاحب تومنہ پر ہاتھ پھیر پھیر کر ان کو واپس لا کر مصر کے ہی مقتول وزیر اعظم جیسا مزا چکھانے کی دھمکیاں دیتے دکھائی دئیے ۔
بنگلہ دیش میں بھی اگر حسینہ واجد ملک میں ہوتی تو جنرل ضیا الرحمن کے گیارہ سالہ دور اور جنرل حسین محمد ارشاد کے دس سالہ دور میں ہی اس کا بھی حساب اس کے باپ کی طرح بیباک کر دیا جاتا لیکن وہ ہتھے نہیں چڑھی، اور جب آئی تو دنیا نے دیکھا کہ قابض کس طرح جہازوں سے لٹک لٹک کر فرار ہوئے، جن کواور ان کے مدد گاروں کو، آج باری باری دنیا بھر سے پکڑ پکڑ کر لایا جا رہا ہے اور مقدمے چلا کر سزائیں دی جا رہی ہیں ۔ اس طرح وہ بنگلہ دیش جو عملی اور زمینی طور پر کیچڑ کا ایک ڈھیر ہے جو پورے ایشیا میں غریب ترین ملک تھا آج ہم سے بھی کئی گنا آگے نکل چکا ہے۔ اس کے زر مبادلہ کے ذ خائر پچاس ارب ڈالر کو چھو رہے ہیں اور دنیا بھر میں وہ تیز ترین ترقی کی ایک روشن مثال بن چکا ہے اور اس کے عوام ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف تیزی سے گامزن ہیں ۔ اسی طرح ایران کا امام خمینی اگر شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کی " ساواک " کے ہتھے چڑھ جاتا، اور فرانس میں پناہ نہ لے لیتا تو ایران آج بھی ایشیا میں امریکہ کا پولیس مین بنا ہوا ہوتا ۔
ترکی کی مثال کا ذکر بھی ضروری ہے وہاں طاقتور اور مسلح مقتدرہ نے امریکی مفادات کے محافظ کا ہمیشہ کردار ادا کیا ۔ وہاں عوام کے منتخب تین وزیر اعظموں کو مختلف ادوار میں پھانسی پر چڑھا دیا گیا ، اردگان بھی ان کی بالواسطہ مدد سے ہی اقتدار میں آیا لیکن اس کو بھی بعد میں بھٹو اور نواز شریف والی بیماری لگ گئی ، تو اچانک ایک شام گن شپ ہیلی کوپٹر ہوائوں میں نمودار ہو کر عوام پر گولیاں برسانے لگے، اور سڑکوں پر ٹینک اور آرمڈ کاریں برسٹ فائر کرتے ہوے نمودار ہو گئیں ۔ تمام میڈیا سٹیشنز کو وہاں بھی " ففتھ وار فئیر " کے ہتھیاروں کی مدد سے خاموش اور جام کر دیا گیا۔ لیکن یہاں تھوڑی غلطی یہ ہو گئی کہ سوشل میڈیا کی طرف ففتھ وار فئیر کو کنٹرول کرنے والوں کی توجہ نہ گئی یا ان کا اس بین الاقوامی سہولت پربس نہ چلا تو اردگان نے عوام سے سوشل میڈیا کے ذریعے خطاب کر لیا عوام سڑکوں پر نکل آے اور ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، چند ہلاک بھی ہوئے لیکن ایکٹو فارمیشنز یہ دبائو برداشت نہ کر سکیں اور اپنے ٹینک وہیں سڑکوں پر کھلے چھوڑ کر ، اور اپنی وردیاں اور ہتھیار وہیں چھوڑ کر عوام میں گھل مل گئے ۔ ان فارمیشنز سے رابطے میں جو گن شپ ہیلی کوپٹر تھے انہوں نے بھی سڑکوں پر لینڈ کئے اور وردیاں اتار کر فرار ہو گئے ۔ اب حکومت کی طرف سے بغاوت کرنے والے اور ان کے مدد گاروں کے خلاف " قانونی " کاروائی " ملک کے مفاد میں " شروع کی گئی اور ایک سو پچانوے جرنیلوں اور کئی سو سینئیر فوجی افسران کو ان کے گلے کے پیچھے ان کے ہاتھ باندھ کر گرفتار کر لیا گیا ۔ اور اب ترک افواج پیشہ ورانہ طور پر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہیں ۔
قارئین خلافِ روایت ، انتہائی وسیع القلبی کا ثبوت دیتے ہوے مجھے انٹ شنٹ بولنے، لکھنے کی کافی آزادی بھی دے دیتے ہیں ، تو کچھ حالیہ چند سال میں رونما ہوئے ملتے جلتے" ایسے ہی " واقعات کا زکر چھیڑ دیا ، تاکہ شاید کوئی یہاں بھی " پاکستان کے مفاد " میں یہ یا ایسی نوبت آنے سے پہلے قانون اور آئین کی پناہ لے کر خود کو ، ملک کے عوام کو اور پاکستان کو کسی آزمائش سے محفوظ رکھ سکیں ۔ پولیٹیکل سائنس کا معروف کلیہ ہے کہ جب آپ ایسا محسوس کریں کہ قانون اور ملکی مفاد آمنے سامنے آ گئے ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ یہاں " ملکی مفاد " کی تشریح درست نہیں کر رہے ۔

واپس کریں