فوج کی تحقیقات ، وفاقی حکومت کہاں کھڑی ہے؟
سید مجاہد علی
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے۔ جنرل باجوہ نے کور کمانڈر کراچی کو گزشتہ روز کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازعہ کی تحقیقات کرنے اور فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کے علاوہ سندھ پولیس ہیڈ کوارٹرز میں اعلیٰ پولیس افسروں سے ملاقات کرکے واضح کیا ہے کہ وہ سندھ پولیس کے ساتھ کھڑے ہیں۔جاننا چاہئے کہ پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کا مؤقف کیا ہے۔
کل تک جو باتیں مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کے لیڈروں کی سیاسی چال بازی کے طور پیش کی جارہی تھیں، آج کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو زرداری کی یکے بعد دیگرے پریس کانفرنسوں کے بعد یہ صاف دکھائی دینے لگا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری نہ تو حکومت سندھ کے حکم پر ہوئی تھی اور نہ ہی سندھ پولیس نے کسی شکایت پر اپنے طور پر کارروائی کرتے ہوئے یہ انتہائی اقدام کیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں واضح کیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ’کن لوگوں نے علی الصبح آئی جی سندھ کے گھر کا محاصرہ کیا اور وہ کون دو لوگ تھے جو رہائش گاہ کے اندر گئے اور انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کو اپنے ہمراہ لے گئے‘۔ مریم نواز نے گزشتہ روز الزام لگایا تھا کہ انہیں رینجرز کے سیکٹر کمانڈر کے دفتر لے جایا گیا تھا جہاں ان سے ذبردستی کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے وارنٹ پر دستخط کروائے گئے۔
مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کو اگر سیاسی مبالغہ آرائی بھی قرار دیا جائے تو آج سندھ پولیس کے آئی جی مشتاق مہر سمیت درجن بھر سے زیادہ پولیس افسروں کی طرف سے رخصت کی درخواستوں نے وفاقی حکومت کے نمائیندوں کی بیان بازی کا پول کھول دیا ہے۔ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کو جائز اقدام قرار دیتے ہوئے سیاسی گولہ باری میں متعدد وزیروں کا مؤقف تھا کہ انہوں نے مزار قائد کی حدود میں نعرے لگا کر مزار کے تقدس کو پامال کیا اور 1971 میں نافذ کئے گئے ایک قانون کی خلاف ورزی کی جس کے تحت قائد اعظم کے مزار پرچند باتوں سے منع کیا گیا ہے۔ اور خلاف ورزی پر جرمانے اور قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ سندھ کے اعلیٰ افسروں کے احتجاج کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ سابق فوجی حکمران جنرل (ر) یحیٰ خان کے زمانے میں جاری کئے گئے اس آرڈیننس کی خلاف ورزی پر پولیس تو ’حرکت‘ میں نہیں آئی تھی لیکن پولیس کو ڈھال بنا کر کسی نامعلوم قوت نے ملکی سیاست میں ’جوش و ولولہ‘ پیدا کرنے کا اہتمام ضرور کیا تھا۔
کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو مریم ، نواز شریف کے اس مؤقف کا ثبوت بتا رہی ہیں کہ اس ملک میں حکومت سے بالا حکومت موجود ہے اور بلاول بھٹو زرداری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ ’نامعلوم افراد‘ کون تھے جنہوں نے سندھ پولیس اورصوبائی حکومت کے اختیار پر ڈاکہ ڈالا۔ آرمی چیف کا بروقت اقدام اس لحاظ سے مناسب اور قابل ستائش ہے کہ اس طرح پاک فوج اور اس سے وابستہ اداروں کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہات کسی حد تک کم ہوسکیں گے اور فوجی قیادت کو کم از کم اس معاملہ میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع مل جائے گا۔ جنرل باجوہ کے حکم سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری میں اگر سندھ رینجرز ملوث تھے تو کم از کم انہیں یہ حکم اعلیٰ فوجی قیادت کی طرف سے نہیں دیا گیا تھا۔
البتہ واقعات کے اس تسلسل سے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔ گزشتہ روز ایک غیر مستعمل قانون کے تحت اگر مقدمہ قائم کرکے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا ڈرامہ رچانے کے واقعہ پر وفاقی وزرا یکے بعد دیگرے ٹوئٹ اور دوسرے ذرائع سے شدید بیان بازی سے اپوزیشن کی وطن دشمنی اور سندھ حکومت کی نااہلی کا سراغ لگانے کی کوشش نہ کرتے تو وفاقی حکومت کو ایسی پریشانی اور ہزیمت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ تاہم اب سندھ حکومت و پیپلز پارٹی کے دوٹوک مؤقف اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے تحقیقات کا حکم دینے کے بعد یہ سوال سنگین صورت اختیار کرگیا ہے کہ اس معاملہ پر وفاقی حکومت کا مؤقف کیا ہے؟ کیا وزیر اعظم اپنے وزیروں کے ان بیانات سے متفق ہیں کہ سندھ پولیس کی آڑ میں جس کسی بھی طاقت نے کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرنے کا اہتمام کیا، اس نے مزار قائد کے تقدس کی پاسداری اور قومی امنگوں کی ترجمانی کی۔ یا وزیر اعظم بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان سے متفق ہیں کہ اس معاملہ میں ’متعدد ریڈ لائنز عبور کی گئی ہیں‘۔
جنرل باجوہ نے پیپلز پارٹی کے چئیرمین سے فون پر گفتگو کرکے بالواسطہ طور سے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے مؤقف کی تائد کی ہے۔ کیا اب وزیر اعظم بھی ایسا ہی فون کرکے بلاول بھٹو سے معذرت کریں گے اور اس بات کی ذمہ داری قبول کریں گے کہ اگر کسی وفاقی ادارے یا فورس نے سندھ حکومت اور پولیس کے دائرہ کار میں مداخلت کی ہے اور صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ افسروں کو ہراساں کرنے کا وقوعہ رونما ہؤا ہے تو وہ نہ صرف اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں بلکہ اس کی تحقیقات کا اہتمام بھی کیا جائے گا ۔ جیسا کہ وزیر اعظم دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ قانون سب کےلئے برابر ہوگا، تو کم از کم اس معاملہ میں وہ اس وفاقی وزیر اور اپنی پارٹی کے دیگر عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کرکے ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ واقعی قانون کو سب کے لئے مساوی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور وقتی سیاسی فائدے کے لئے اپنی کابینہ کے کسی رکن اور جماعت کے عہدیداروں کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جس الزام میں کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایف آئی آر کاٹ کر ان کی ڈرامائی گرفتاری کا اہتمام کیا گیا تھا، اس کا ارتکاب تحریک انصاف کے کارکنان عمران خان کے دورہ مزار قائد کے دوران کرچکے ہیں۔ یعنی مزار کے احاطے میں نعرے بازی کی گئی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسی طرح بعض کالعدم تنظیموں کے لیڈر بھی قائد اعظم کے مزار پر اپنی حمایت میں نعرے بلند کرواتے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا سادہ سا سوال ہے کہ اگر کیپٹن (ر) صفدر نے قانون شکنی کی ہے تو اس قانون کا اطلاق تحریک انصاف اور کالعدم تنظیموں کے لیڈروں پر کیوں نہیں کیا گیا؟ قانون کی بالادستی کی دعویدار حکومت اس سوال کو محض سیاسی الزام تراشی قرار دے کر نظر انداز نہیں کرسکتی۔ یہ الزام ایک صوبےکا منتظم اعلیٰ ملک کی وفاقی حکومت پر عائد کررہا ہے۔ اس کا جواب وزیر اعظم اور وفاقی حکومت پر لازم ہے۔
20 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف کے خطاب سے سیاسی ماحول میں تیزی آئی تھی۔ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ جلسہ سے نواز شریف کے خطاب نےماحول میں مزید حدت پیدا کی تھی ۔ اے پی سی کی تقریر میں نواز شریف نے حکومت سے اوپر حکومت کا ذکر کیا تھا اور گوجرانوالہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان فوجی افسروں کا نام بھی لیا تھا جو ان کے خیال میں ملک میں موجودہ ’غیر جمہوری‘ حکومتی انتظام کے ذمہ دار ہیں اور ووٹ کے تقدس کو پامال کرنے کا سبب بنے ہیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھی اس تقریر کے بعد فوج کا ’وکیل ‘ بن کر تند و تیز بیانات میں اپوزیشن کی ملک سے دشمنی اور جمہوریت سے وابستگی کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔ بلکہ انہوں نے مسلسل یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس طرح فوج کو فریق بناکر اپنی چوری چھپانے کے لئے سپاہ پاکستان پر الزام تراشی کی جارہی ہے۔ اگرچہ مریم نواز اور دیگر مسلم لیگی لیڈر یہ واضح کررہے ہیں کہ وہ فوج کے صرف ان عناصر کے خلاف بات کرتے ہیں جو ووٹ کو عزت نہیں دیتے ، باقی ماندہ فوج اور اس کی خدمات کو تو وہ سلام پیش کرتے ہیں۔ لیکن ملک دشمنی اور چوری کا الزام لگاتے یا غداری کا مقدمہ قائم کرتے ہوئے ان وضاحتوں کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے کراچی میں رونما ہونے والے واقعہ سے اظہار لاتعلقی کے بعد البتہ فوج کی ترجمان بنی ہوئی وفاقی حکومت کو اس حوالے سے بھی اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی کہ فوج کو سیاست میں کون ملوث کررہا ہے۔ کیا اس کی ذمہ دار اپوزیشن ہے جو ماضی کی سیاسی تاریخ اور واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے آئین کی بالادستی کا مطالبہ کررہی ہے اور کہتی ہے کہ سیاست میں فوج کی مداخلت بند ہونی چاہئے۔ یا حکومت فوج کو سیاسی کشمکش کا حصہ بنا کر اس ادارے کی حرمت اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگانے کا سبب بنی ہوئی ہے۔ کراچی میں ہونے والے واقعہ سے اپوزیشن کی بجائے وفاقی حکومت کی پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔ عمران خان نے ایک پیج کی سیاسی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کو فوج مخالف اور خود کو عسکری اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے والا پہلا وزیر اعظم قرار دیا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بھی رہا ہے کہ آرمی چیف ان کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔کراچی کے واقعہ اور اس پر آرمی چیف کے رد عمل سے ایک پیج کے سیاسی بیانیہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ملکی فوج آئین کے تحت ضرور حکومت وقت کی پشت پر رہے گی لیکن یہ واضح ہورہا ہے کہ فوج حکومت کی سیاسی غلطیوں کا دفاع کرنے پر تیار نہیں ہے۔ یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ ایک پیج کے داعی اب کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ کیا عمران خان یہ بیان جاری کریں گے کہ آرمی چیف نے ان کی ’اجازت‘ سے کراچی کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے؟


واپس کریں