تلاشِ حقیقت
ظفروانی
ایک علمی مکالمہ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا انسان خدا کی تخلیق ہے یا کہ خدا انسان کی تخلیق ، کیونکہ کرہ ارض پر موجود جانداروں کی تمام تر انواع میں انسان ہی اس وقت موجود سب سے زیادہ باشعور مخلوق ہے ، جو اپنے علم اور اور کے نتیجے میں حاصل تجربے کی بنیاد پر دنیا کی باقی تمام جاندار مخلوق سے برتر درجے پر فائز ہونے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ لیکن بنیادی طور پر انسان بھی باقی جانداروں کی طرح ایک آرگینک یعنی نامیاتی چیز ہونے کی وجہ سے اپنی کچھ محدودات رکھتا ہے ، جیسے دنیا کی ہر نامیاتی شے کی ایک محدود عمر ہوتی ہے جس کو تھوڑا بڑھایا تو جا سکتا ہے لیکن دوام ہرگز نہیں دیا جا سکتا ۔
جس طرح کہا جاتا ہے کہ ادب یعنی آرٹس وہ خصوصیت ہے جو ہمیں جانوروں کے مقابلے میں انسان بناتی ہے تو انسان نے اپنے دوسرے جانداروں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور تخیل کے زریعے ادب تخلیق کرنا شروع کر دیا اور اس راستے پر علم ، وراثت ، اور تجربہ کے مرکب سائنس کے زریعے ادب اور پھر ادب اعلی جس میں مذاہب بھی شامل ہیں تک رسائی حاصل کی۔ مشہور ہے کہ " سائنس جب اپنے اعلی ترین درجے تک پہنچ جاتی ہے تو وہ آرٹ کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ " اس شعورِ اعلی جو مذہبی عقائد کے مطابق ہمیں خدا کی طرف سے ودیعت ہے، نے زندگی کی محدودیت کے مقابلے کے لئیے ایک وجدانی فلسفہ تخلیق ہوا جس میں انسان کی لامحدودیت سمیت تمام اعلی اور ادنی خواہشات کا احاطہ کیا گیا تھا ۔ اس میں بعد از موت حیات کا تصور ، وہاں ازلی زندگی کا تصور جنت اور دوزخ کا تصور اور وہاں موجود تعیشات ، انعامات اور تعزیرات کا تصور اور اس طرح اس متضاد انجام یعنی ایک جنتی کا انجام اور ایک دوزخی کا انجام، کو اعلی ترین طریقے سے دنیا کی زندگی کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ بلکہ دنیا کی زندگی کے اعمال کے دارو مدار پر ہی آخرت کے مقام کا تعین طے کر دیا گیا ۔ گویا ایک فلسفیانہ سرکٹ مکمل ہو گیا ، اس تمام ڈیزائن میں کہیں بھی انسان کے لئیے کسی بھی صورت میں "ڈلیٹ " کی آپشن نہیں رکھی گئی ۔ اسی وجہ سے ہمارے قومی شاعر اپنے ایک شعر میں خدا سے یہ گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں "تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا " " یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی " ہم یہاں عملی طور پر ناقابل تصدیق معاملے پر بحث کر رہے ہیں ۔
اب یہاں اس بحث کو آگے بڑھانے کے لئیے جو ٹولز ہمارے پاس دستیاب ہیں وہ اعتقاد ، ایمان ، قیاس ، وہی ، وجدان ، اور روایات ہیں جہاں ہم اپنے اعتقاد ، اور ایمان کی بنیاد پر ، ہم تک قران اور الہامی کتب کے زریعے پہنچی معلومات جو پھر عملی طور پر ناقابل تصدیق ہیں، اور اب پھر سے اس مرحلے پر ہمارے پاس دو ممکنہ اختیار ہیں کہ یا تو ایمان اور اعتقاد کی بنیادپر ان معلومات اور روایات کو بغیر آزمانے یعنی تجربہ کرنے کے بجاے ہو بہو جیسے روایتا ہم تک پہنچیں ، ویسے ہی بغیر مزید کچھ سوچے ، بغیر کوئی سوال اٹھائے، مان لیں ۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم باقی دنیاوی علوم اور فنون کے، یعنی سائنسز کے مروجہ طریقہ کار کی بنا پر اس معاملے کا صبر اور تحمل سے جائزہ لیں اور تجزیہ کرنے کی کوشش کریں ، جیسا کہ پہلے ادوار میں معلومات اور دریافت نہ ہونے کی وجہ سے، ہم انسانی جسم اس کی انرونی ساخت ، انسانی دماغ اور اس کے مختلف کاموں کے لئیے مخصوص مختلف حصوں کے افعال اور مقام کو نہیں جانتے تھے۔ اب ماضی قریب تک دل کو بھی سوچنے والا عضو سمجھا، اور بتایا جاتا تھا، لیکن میڈیکل سائنس کی ترقی اور ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے ہنر اور تجربات کے بعد معلوم اور ثابت ہوا کہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ دل بھی دماغ سے ہدایات وصول کر کے اپنا تفویض کردہ کام یعنی جسم میں خون پمپ کرنا ہی کرتا ہے اور اگر کسی کا دل تبدیل کر دیا گیا تو سوچ وہی رہی جو دماغ قبل ازیں پیدا کرتا تھا ۔ اور دل کی تبدیلی سے عادت یا سوچ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ علم انسان کو حاصل اور ثابت ہونے کے بعد مذہب نے اپنے دیرینہ اور روایتی موقف کے ساتھ کیا کیا ؟ اب دوبارہ انہوں نے اپنے مخصوص روایتی طریقہ کے تحت ہی اس موقف کو ایک "تاویل " کا روپ دے دیا، اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ دل کی سوچ سے مطلب ایک اصطلاح کو واضع کرنا تھا، اور ہمارا ہرگز یہ مطلب نہ تھا کہ دل دماغ کی طرح عملی طور پر آزادانہ سوچتا ہے ۔ اب موضوع بحث کے بارے میں بھی مذہب کے پاس تاویلات کا ایک ناقابل تصدیق (کم از کم اب تک)جہاں موجود ہے ، تو بہتر اور "محفوظ " طریقہ اور راستہ یہی ہے کہ ہم اپنا دیرینہ ایمان قائم رکھتے ہوے مکمل اور حتمی " سچائی " کی تلاش کا ذہنی علمی ،فلسفیانہ اور سائنسی سفر پورے خلوص سے جاری رکھیں ۔ تاکہ مستقبل بعید میں ہی سہی ،اس موضوع پر بھی اتنی عملی اور سائنسی و علمی قابل تصدیق معلومات حاصل اور دریافت کر سکیں ۔ یا اس حقیقتِ مطلق کی طرف سے ہم پر ودیعت کر دیا جاے، جو اس سوال کا حتمی جواب بن کر اس موضوع پر انسان کے فطری تجسس کی تشفی کر سکے ۔
واپس کریں