دانشور کی وصل کی رات
اطہرمسعود وانی
جب ستارے جگمگاتے ہیں، چاند اپنی رعنائی سے جانداروں کو بے خود کر دیتا ہے، سمندر کا پانی چاند کو چھونے کے لئے آسمان کی طرف لپکنے کو اچھلتا ہے،چکور آسمان کی طرف منہ کر کے دل سوز آواز نکالتا ہے کہ شاید کوئی سن لے، جب درد میں تڑپتے بیمار کو،رات کے کسی پہر، بے سبب سکون ملتا ہے، جب بھوکے کو مزے کا کھانا مل جاتا ہے، جب تسکین ملنے کا عمل شروع ہوتا ہے،جب نفس تسکین پا لیتا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد جب دانشور گھونگٹ اٹھاتا ہے تو مخاطب کو نیند کی آغوش میں پا کر بے سکون ہو جاتا ہے، دانشور کا متمع نظر تو کچھ اور ہی تھا، اپنی خواش کا شاعرانہ اظہار تھا ، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی تشبیہاتی خواہشات مخاطب کے لئے لوری کا کام کرتے ہوئے اسے اس وقت سلا دیں گی کہ جب جاگے رہنے کا وقت مطلوب تھا۔

جب نواز شریف نے مسلم لیگ (ن) کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مصلحتوں کو ایک طرف رکھ دیا اورستم گر کو اس کے نام سے پکارا۔ جب گوجرانوالہ کے جلسے میں اس کا نام بار بار یوں لیا گیا کہ جیسے ، جسے محبوب کو بدنام نہ کرنے کی فکر لاحق تھی،وہی محبوب کی بے وفائی کا موضوع بنانے لگا۔وہ جو اس بات یہ یقین رکھتے تھے کہ '' نام آئے نہ تیرا پیار کی رسوائی میں '' ، وہی با آواز بلند درد بھری فریاد پہ مجبور ہو گئے۔ جب مولانا فضل الرحمان نے وہ داغ دھو دیا کہ دینی و مذہبی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی سوچ و فکر میں ہی محدود رہتی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور فکر کے مطابق ہی حرکت کرتی ہیں،مولانا فضل الرحمان کے اظہار بیان نے واضح کیا کہ کلی طور پر ایسا نہیں ہے، ذہن رکھنے والے نہ صرف سوچنے کی قوت رکھتے ہیں،بلکہ اظہار کی جرات سے بھی مالا مال ہیں۔

کراچی کے جلسے نے تو ستم ہی کر دیا کہ محبوب کو اس کی حیثیت یاد کرا دی گئی کہ اس کا کام دلربائی ہے،عاشق کے عشق کی تسکین ہے،عاشق کو تڑپا تڑپا کر مارنا نہیں۔اپنا محبوب اپنے لئے ہوتا ہے ،اگر محبوب اپنا ہو لیکن اپنی دلربائی سے غیروں کو مستفید کرتا ہو تو بات بگڑ جاتی ہے، بقول شاعر'' غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم ، اے جان وفا یہ ظلم نہ کر رہنے دے ابھی تھوڑا سا بھرم''

جادوئی طاقتوں کے حامل محبوب کی فہم و فراست بھی ایسی کہ وہ صرف دو ٹوک بات ہی سنتا اور سمجھتا ہے، عشق کی نزاکتیں،بہاروں کی تشبیہات،موسم کی رعنائیوں کی داستانوں سے وہ کچھ اور ہی سمجھ بیٹھتا ہے۔اب جبکہ محبوب کی بے وفائی کسی سیلابی دریا کی مانند حدود کو عبور کر کے بستیوں کو زیر آب کرنا اپنا حق سمجھ بیٹھی ہے، عاشق کو خلوت میں ہی نہیں بلکہ جلوت میں بھی ذلت خیز بے آبرو ئی کے حربے کو ' راہ راست' تصور کر چکی ہیں، تو ایسے میں محبوب کے ساتھ ساتھ اپنی بقاء اور عزت کا احساس بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔

مصلحتوں کے پردے میں چھپ کر، صبر میں محدود رہنے کا وقت گزر چلا،اب تشبیہات کا وقت نہیں، یہ ملن کی گھڑیاں ہیں،انہیں استعاروں میں برباد نہ کیجئے، یہ وقت باہمی بقاء کی آرزو میں تجدید وفا کا وقت ہے ، اب اسے بے ثمر نہ کیجئے ،بڑہتی ہوئی بے اعتماد ی کی دراڑوں کو ختم کرنے کی فکر کیجئے ،دراڑوں میں یونہی اضافہ ہوتا رہا تو ایک دوسرے کو ملانے،ساتھ رکھنے کے لئے پل بھی کام نہ دے سکیں گے۔

واپس کریں