کشمیر اتنا خاموش کیوں؟
نعیمہ مہجور
جموں و کشمیر کی ہیت، کردار، تاریخ اور جغرافیہ تبدیل کرنے کی پےدرپے کوششیں ہو رہی ہیں۔ ہر ہفتے وہ سب قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں جن کا ذکر کرنا بھی ماضی میں ایک طوفان کھڑا کرتا تھا۔ آج زمین اور جائیداد سے بےدخل کرنے کے قوانین پر کوئی اُف بھی نہیں کرتا۔کیا عوام کو دہشت اور خوف سے اتنا خاموش کر دیا گیا ہے یا پھر وہ ان اقدامات سے مطمئن ہیں اور خاموشی قومی دھارے میں شامل ہونے کا اظہار ہے؟ حریت کے کارکن محمد شفیع کہتے ہیں کہ ’بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت نے ابتدا میں انتظامیہ، پولیس اور عدلیہ میں غیر کشمیری اور غیر مسلم افسروں کو تعینات کرنے کی ایک مربوط حکمت عملی تیار کر لی تھی تاکہ انتظامی سطح پر کیے جانے والے عوام مخالف فیصلوں پر کوئی اعتراض نہ کرے۔

عوامی تحریک کو دبانے کے لیے بیشتر پولیس تھانوں میں باہر کے افسروں کو مسلط کیا گیا جس کے نتیجے میں بعض خبروں کے مطابق پانچ اگست 2019 کے فیصلے سے پہلے ہی مقامی پولیس کو غیر مسلح کیا گیا تھا تاکہ اس فیصلے کے خلاف پولیس بغاوت نہ کرے جس کی چند مثالیں سن 90 کی مسلح تحریک کے دوران دیکھی گئی تھیں۔ یہ خبریں جان بوجھ کر پھیلائی گئیں کہ احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کو گولی چلانے کی ہدایت دی گئی ہیں اور وہ ہزار سے زائد احتجاجیوں کو مار سکتی ہے۔ خوف اور دہشت کے اس ماحول میں کیا سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے کی گنجائش تھی؟‘

یہ بات شدت سے محسوس کی جاتی رہی ہے کہ عدلیہ میں انصاف کے ترازو اکثر اوقات غیرمسلم ججوں کے ہاتھوں میں رہے ہیں اسی لیے دہائیوں سے جیلوں میں قید سیاسی اور آزادی پسند کارکنوں کی رہائی کے معاملوں کو فائلوں کے انبار تلے دبایا جاتا رہا ہے۔ کپواڑہ کے لال محمد گزشتہ برس نوکری سے ریٹائر ہوگئے۔ وہ کہتے ہیں کہ کشمیر کو تبدیل کرنے کا ایک اور مرحلہ اس وقت شروع ہوا ’جب ریاست کی کم قلیل اندرونی خودمختاری کے باوجود ہر محکمے کو دہلی کی مرکزی وزارت سے جوڑا گیا۔ وہ چاہے سکولوں کا نصاب مرتب کرنا تھا یا صحت عامہ میں مخصوص طرز پر علاج ومعالجے کو متعارف کرانا تھا یا زراعت اور صنعت میں بیرونی سرمایہ کاروں کوشامل کرنا تھا۔ اس کا سہرا دو بڑی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو جاتا ہے جنہوں نے کرسی کے عوض کشمیر کو ہمیشہ گروی رکھا ہے۔‘

اب جموں و کشمیر کے حصے بخرے ہوگئے ہیں اور لداخ میں ہل کونسل کے انتخابات میں پہلی بار بھارتیہ جنتا پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ وہ دن قریب ہے جب جموں و کشمیر میں ہندو حکومت ہی نہیں بلکہ ہندو اکثریت کی آبادی ہوگی جس کی بنیاد چند روز پہلے اس قانون کے ذریعے ڈالی گی جو ہندوستان کے ہر شہری کو یہاں زمین خریدنے کا حق دیتا ہے اور جس کی آڑ میں بقول ایک صحافی ’انتہا پسند ہندو اپنی بستیاں بنا کر کشمیریوں کو بےدخل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی بات سننے کے لیے نہ انتظامیہ ہوگی، نہ پولیس اور نہ عدلیہ۔ یہ ہم کو بےاختیار کرنے کا عمل ہے جس کو ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔‘

مقامی لوگوں کے وسائل، شہریت اور اثاثوں پر اس قدر پے در پے کوششوں کے بعد عوام خاموش ہیں اور اگر سیاسی یا حریت قیادت کی جانب سے کوئی ایک آدھ بیان جاری ہوتا ہے وہ سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بنتا ہے۔ گزشتہ برس سے پہلے تک عوام کے بیشتر طبقے بھارتی حکومت کے ہر فیصلے پر احتجاج کیا کرتے تھے، بھارت نواز مقامی حکومتوں کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتے تھے وہ چاہے 2008 کا امرناتھ شراین بورڈ کو زمین دینے کا معاملہ تھا۔ دو ہزار دس کی رگڑو تحریک تھی یا 2016 میں برہان وانی کی ہلاکت کے بعد عوامی مظاہرے تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اپنے میڈیا کے ذریعے حریت کانفرنس کے رہنماؤں اور پھر قومی دھارے میں شامل جماعتوں کے سربراہوں کو عوام میں اس قدر ذلیل کروا دیا کہ ہر ایک شہری کے ذہن میں ان کے خلاف اتنے شکوک پیدا ہوئے ہیں کہ وہ کسی پر اعتبار کرنے سے خود کو روک رہے ہیں۔ کسی ایک رہنما کو نہیں چھوڑا گیا جس کی کردار کشی نہ کی گئی ہو، رشوت خوری میں ملوث نہ کیا گیا ہو یا اور عوام کے جذبات کا استحصال کرنے کا الزام نہ لگایا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ گپکار ڈیکلریشن یا اتحاد پر عوام کا اتنا مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا جس کی کم از کم ان جماعتوں کے ووٹروں سے توقع کی جا رہی تھی۔

عوامی حلقے قومی دھارے کو موجودہ حالات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جنہوں نے تحریک آزادی کو نقصان پہنچانے میں ہمیشہ بھارت کا ساتھ دیا۔ حریت کے بیشتر رہنماؤں کو جیلوں میں بند کرکے جیسے غائب کر دیا گیا ہے اور جو باہر ہیں ان سے بعض رپورٹوں کے مطابق تحریری طور آزادی یا آرٹیکل 370 کی بات نہ کرنے کا بانڈ لیا گیا ہے۔ پھر انسانی حقوق کے کارکن، صحافی، تاجر اور وکلا برادری بھی عتاب کا شکار ہوتی آ رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سات دہائیوں سے جاری تشدد اور قتل و غارت گری کی وجہ سے اب عوامی حلقوں میں ہمت جواب دے چکی ہے۔ مرکزی حکومت نے ایسے سخت قوانین کشمیر پر لاگو کیے جن کی وساطت سے کسی بھی شخص کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا جاسکتا ہے ان کے کیس لڑنے کے لیے اب وکلا بھی کتراتے ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک کارکن اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’چار اور پانچ اگست 2019 کی درمیانی شب کو جب تیرہ ہزار بچوں کو ماؤں کے بستروں سے نکال کر بھارت کی مختلف جیلوں میں بھیجا گیا، اس ظالمانہ اقدام نے ہر ایک پر ایسا سکتہ طاری کیا کہ احتجاج کیا، کوئی چیخ بھی نہیں نکال سکا۔ اگر اُف بھی کرتا تو سننے کے لیے کوئی بھی نہیں تھا۔ جب دروازں پر فوجی پہرے تھے، فون بند کر دیے گئے، انٹرنیٹ غائب تھا۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک ایسی کیفیت طاری کر دی گئی تھی کہ جس میں سے اب تک کوئی باہر نہیں آ سکا ہے اور اب بھی ہزاروں قیدیوں کو تلاش کرنے میں والدین اور رشتہ دار مختلف جیلوں کی خاک چھین رہے ہیں۔‘

ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی والی اس بڑی جیل میں قید ان لوگوں کی ذہنی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اب زندہ رہنے یا مرنے میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے بلکہ زندہ رہنے سے زیادہ موت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایسے میں ان سے احتجاج کرنے کی کیا کوئی توقع کی جا سکتی ہے؟ تحریک کےحامی اداروں کو اس صورت حال سے اس آبادی کو باہر نکالنا ہوگا، سکتے کی کیفیت کو ختم کروانا ہوگا، نفسیاتی ماہرین کو کشمیر بھیجنا ہوگا اور عوام کو اپنی بات کہنے کی ہمت دینی ہوگی تاکہ پوری آبادی ذہنی امراض کی نذر نہ ہوجائے۔

جو بھی کشمیری باہر کے ملکوں میں آباد ہیں انہیں ان کی آواز بننا ہوگا۔ حقیقی صورت حال کی منظرکشی کے لیے عالمی میڈیا کو متحرک کرنا پڑے گا، ایک کروڑ بیس لاکھ مقامی آبادی کو سوشل میڈیا پر اپنا وجود قائم کرنے کی ترغیب دینا ہوگی اور وسیع پیمانے پر اس کا استعمال کرنے پر آمادہ کروانا پڑے گا۔ کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا کہ ہر شہری کو پابندی کے باوجود انٹرنیٹ کی سہولت درکار رہے اور وہ باہر کی دنیا کو اندرونی معاملات سے آگاہ کرتا رہے۔یورپ اور امریکہ میں آباد کشمیری انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو اپنی بات کہنے کا وسیلہ بنائے۔ سب سے پہلے یہ قدم اٹھانا لازمی ہوگا کہ ایک ایسی لیڈرشپ کا قیام عمل میں آجائے جو عوامی جذبات کی نمائندگی کرے اور عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کا ایک مربوط پروگرام ترتیب دے تاکہ وہ خود کو اس پرامن جدوجہد میں تنہا نہ محسوس کریں۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)
واپس کریں