’مجھے اس بیانیے سے اتفاق نہیں‘
خورشید ندیم
’مجھے نواز شریف صاحب کے بیانیے سے اتفاق نہیں‘۔یہ جملہ چند دن سے اہلِ سیاست میں اپنی راہ بنا رہا ہے۔ بالخصوص نون لیگ کے ان لوگوں میں جو تساہل کے خوگر اور صرف حبِ اقتدار میں سیاست کا رخ کرتے ہیں۔ انہیں اقتدار کی سیاست سے دلچسپی ہے اور اُس نواز شریف سے جو ان کے لیے اقتدار کے دروازے کھولنے میں ان کا معاون ہو۔ نخلِ سیاست پر اُگے پھول انہیں پسند ہیں، کانٹے چبھنے لگیں تو عذر تراشتے ہیں : ’جھے نواز شریف کے بیانیے سے اتفاق نہیں‘۔

ان خواتین و حضرات سے دوسوال پوچھے جانے چاہئیں۔ پہلا: ان کے خیال میں نوازشریف کا بیانیہ ہے کیا؟ اس سے یہ معلوم ہوگا کہ وہ اس بیانیے کو کتنا سمجھ سکے ہیں۔ دوسرا: انہیں اس بیانیے کے کس پہلو سے اتفاق نہیں؟ اس سوال کا جواب بھی وہی دے گا جواس کوسمجھتا ہوگا۔ نوازشریف صاحب کی باتوں میں کوئی ابہام نہیں۔ ان کا موقف واضح ہے۔ جو بین السطور کچھ تلاش کررہے ہیں، ان کا معاملہ دوسرا ہے۔ اس پر ہم بعد میں بات کرتے ہیں۔ یہاں تو ان لوگوں کا تذکرہ ہے جو نوازشریف صاحب کے کل یا آج تک ہم سفرتھے یا ہیں اوراب نہیں معلوم ہواکہ ان کو اس بیانیے سے اتفاق نہیں۔

یہ بیانیہ کہتا ہے کہ پاکستانی ریاست کے معاملات آئین کے مطابق چلنے چاہئیں۔ ہرادارہ ان حدود کااحترام کرے جو آئین نے اس کے لیے متعین کردیے ہیں۔ اگر کوئی اپنی حدود سے تجاوز کرے تو اس کو قانون کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے۔ فرد کو ادارے سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر معاملہ دونوں کے مابین انتخاب کا ہوتو پھر ادارے کو کسی صورت قربان نہیں کیا جاسکتا۔ فوج ایک باوقار ادارہ ہے جو پوری قوم کو عزیز ہے۔ نوازشریف صاحب کا کل بیانیہ بس اتنا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ جو کچھ کہتے وہ اس کی شرح و وضاحت ہے۔ وہ اپنی تائید میں کبھی عصری واقعات سے کچھ دلائل لاتے ہیں اور کبھی تاریخ کے اوراق سے اکتسابِ فیض کرتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کسی کو ایک واقعے کی اُس توجیہ سے اتفاق نہ ہو جو نوازشریف بیان کر رہے ہیں لیکن اس سے اصل بیانیے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بنیادی مقدمہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔

جو یہ فرما رہے ہیں کہ ’مجھے اس بیانیے سے اتفاق نہیں‘ وہ بتائیں کہ انہیں اس بیانیے کے کس پہلو سے اختلاف ہے؟ کیا ملک کا نظام آئین کے مطابق نہیں چلنا چاہیے؟ کیا فرد کا مفاد، ادارے کے مفاد پر مقدم ہونا چاہیے؟ کیا انحراف کی صورت میں احتساب نہیں ہونا چاہیے؟ کیا اصلاحِ احوال کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے؟ مجھے اس بیانیے سے اتفاق نہیں، کا راگ الاپنے والوں پر ان سوالات کے جواب واجب ہیں۔ نوازشریف کے بیانیے سے اختلاف کرنے والا ایک گروہ ان کے مخالفین کا ہے۔ وہ بھی بیانیے سے اختلاف نہیں کررہا بلکہ بین السطور کچھ تلاش کررہا ہے اور پھر اِس بین السطور کو، جو ایک مفروضہ ہے، بنیاد بنا کران پر تنقید کررہا ہے۔ سیاسی مخالفین یہی کرتے ہیں اور معاصرانہ سیاسی چشمک کے ماحول میں یہ خلافِ توقع نہیں۔ یہ وہ حربہ ہے جو برسوں سے یہاں آزمایا جا رہا ہے۔ مخالفین کو حسبِ ضرورت بھارتی ایجنٹ کہہ دیا جاتاہے۔ اس الزام کی حیثیت چلے ہوئے کارتوس سے زیادہ نہیں۔

بیانیے کے باب میں موجودہ حکومت کی حکمتِ عملی تو دو اور دو چار کی طرح واضح ہے۔ وہ بیانیے کے تردد میں نہیں پڑی۔ اس نے اداروں کو اپنی ڈھال بنایا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انہیں شاہ سے بڑھ کر شاہ کا وفادار بننا چاہیے۔ یہ پالیسی ایک سیاسی جماعت کو کس طرح اپنے تشخص سے محروم کر دیتی ہے اس کے لیے قاف لیگ کی تاریخ کو دیکھ لینا چاہیے۔سیاسی مخالفین ایک دوسرے کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ پاکستان کے غدار نہیں۔ ایازصادق صاحب کے بارے میں یہی بات شاہ محمود قریشی صاحب نے کہی اورفواد چوہدری صاحب نے بھی یہ وضاحت کی کہ اس بیان بازی کا تعلق معاصرانہ سیاست سے ہے، پاکستان کے دفاع یا دفاعی صلاحیت سے نہیں۔ اس کے باوجود کوئی نہ کوئی ’شیر کا بچہ‘ صبح شام اسے غداری ثابت کر نے پر تلا رہتا ہے۔ ہماری سیاست ابھی اتنی بالغ نظر نہیں ہوئی کہ چند روزہ نفع و نقصان سے بند ہو سکے یا اخلاقیات کو کوئی اہمیت دینے کو تیار ہو۔

یہ سیاست کب بالغ ہوگی، ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ اس وقت توان لوگوں کا ذکر ہورہا ہے جن پر اچانک منکشف ہوا کہ انہیں نوازشریف کے بیانیے سے اتفاق نہیں اور اس کے ساتھ وہ خود کو ان کی جماعت کا حصہ بھی سمجھتے ہیں۔ نوازشریف کے بیانیے سے اختلاف کے لیے لازم ہے کہ کوئی جوابی بیانیہ پیش کیا جائے۔ بیانیے کا جواب بیانیہ ہی ہو سکتاہے۔ انہیں نوازشریف کی ذات سے کوئی اختلاف نہیں، بیانیے سے ہے۔ اس لیے ان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ کوئی جوابی بیانیہ پیش کریں۔ یہ بیانیہ کچھ بھی ہو سکتا ہے،مثلاً ہمیں آئین کی بالادستی نہیں چاہیے یا فرد ادارے پر مقدم ہوتا ہے یا یہ ملک جیسے چل رہا ہے، ایسے ہی چلتا رہے۔ اگر کوئی اسے بیانیے کی بحث بنائے گا تو جواب بھی بیانیے کے انداز میں دینا ہوگا۔ حکومت نے سیاسی سمجھ داری کا یوں مظاہرہ کیاکہ اسے بیانیے کی بحث بنایا ہی نہیں۔ ایک آزمودہ نسخہ استعمال کیا کہ اپوزیشن غدار ہے۔ اللہ اللہ خیر سلا!

ان کے خیال میں یہ سادہ بھی ہے، زود فہم و زود اثر بھی اور اس کے لیے کسی دماغی مشقت کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ شبلی صاحب ہوں یا کوئی فردوس عاشق اعوان، آسانی سے اس کا ڈھول پیٹ سکتے ہیں۔ مسئلہ تو ان کا ہے جو کہہ رہے ہیں کہ مجھے اس بیانیے سے اتفاق نہیں۔نوازشریف کے بیانیے نے سیاست میں گرے ایریاز کو ختم کر دیا ہے۔ سیاست میں اگرچہ سفید اور کالے کی دو ٹوک تقسیم ممکن نہیں ہوتی لیکن اس کا تعلق حکمتِ عملی سے ہے نہ کہ بیانیے سے۔ جب سیاست بیانیوں کے گرد گھومنے لگے تو پھر دوٹوک ہونا لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1946-47تک پہنچتے پہنچتے، مسلم لیگ اور کانگریس کے سوا ہر سیاسی جماعت غیر متعلق ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ اس وقت، یہی دو جماعتیں تھیں جن کا سیاسی بیانیہ کسی ابہام سے پاک تھا۔

آج پاکستان میں یہی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اب مجھے اس بیانیے سے اتفاق نہیں، طرز کی سیاست کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ جسے نوازشریف کے بیانیے سے اتفاق نہیں، اسے تحریکِ انصاف میں شامل ہو جانا چاہیے یا پھر ق لیگ میں۔ آنے والے دنوں میں یہ تقسیم واضح سے واضح تر ہوتی چلی جائے گی۔ جب سیاست میں اس طرح دیوار کھنچ جاتی ہے تو مجھے اس بیانیے سے اتفاق نہیں، کے لیے سیاست میں کوئی قابلِ عزت جگہ نہیں رہتی۔ جسے کچھ بھی سیاست کی شدبد ہے، اسے معلوم ہے کہ آنے والی سیاست کو نوازشریف کے بیانیے ہی کے گرد گھومنا ہے۔ اس کے حق میں یا اس کے خلاف۔

تاریخ مدتوں بعد ایک فیصلہ کن کروٹ لیتی ہے۔ میرا احساس ہے کہ ہمیں ایسی ہی ایک تاریخ ساز مرحلے کا سامناہے۔ ایک فیصلہ کن معرکے کے لیے صف بندی ہو رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں مجھے نوازشریف کے بیانیے سے اتفاق نہیں، جیسے جملے محض ابہام اور استہزا کی علامت بن کر رہ جائیں گے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)
واپس کریں