کشمیر: گپکار اتحاد کا یوٹرن
نعیمہ مہجور
جموں و کشمیر کے ووٹروں کو اس وقت ایک اور دھچکا لگا جب قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی انجمن گپکار اتحاد نے مقامی ضلعی انتظامیہ کی 20 کونسلوں پر انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ نوٹیفکیشن انتخابی کمیشن نے چند روز پہلے جاری کیا تھا۔پانچ اگست 2019 کے اندرونی خودمختاری ختم کرنے کے فیصلے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور سرکردہ کارکنوں کو تقریباً چھ ماہ سے ایک سال تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا جس کے فورا بعد ان جماعتوں نے گپکار اتحاد کے بینر تلے آرٹیکل 370 کی بحالی اور خصوصی ریاستی حیثیت واپس حاصل کرنے کا عہد کئی بار دہرایا۔ کسی حد تک ان جماعتوں کے ووٹروں نے اس عہد کی حمایت کی حالانکہ وہ ان سے سڑکوں پر آ کر ایک وسیع احتجاجی مہم چلانے کی توقع رکھتے تھے۔
یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پنچوں یا سرپنچوں کے لیے ہونے والے انتخابات کو اتنی اہمیت دی جائے گی۔ یہ انتخابات قومی دھارے والی ان جماعتوں کے دور اقتدار میں کبھی نہیں کروائے گئے جنہیں نریندر مودی کی سرکار بنیادی سطح پر جمہوریت قائم کرنے کا اہم اقدام بتاتی آ رہی ہے۔سن 2018 میں پہلی بار دوسری ریاستوں میں آباد کشمیری پنڈتوں یا بی جے پی کے چند مقامی لوگوں کو کامیاب کروا دیا گیا بلکہ ایک گاوں کے بارے میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ ایک پنچ کو ایک ووٹ پڑا جو اس کا اپنا ووٹ تھا۔ بعض پنچوں اور سرپنچوں کو تشدد کا نشانہ بھی بننا پڑا ہے۔
گپکار اتحاد کا کہنا ہے کہ بی جے پی ان کے انتخابی حلقے ہڑپ کر کے کشمیر پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتی ہے اور جس کے لیے ڈی ڈی سی انتخابی عمل میں شامل ہونا مجبوری ہے تاکہ ’مقدس جگہ‘ سے محروم نہ ہونا پڑے۔ دوسری جانب مقامی آبادی کی اکثریت نے اس کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’اصل میں مین سٹریم کرسی یا طاقت کے بغیر رہنے کے عادی نہیں اور اگر ان سربراہوں کو اب پنچ کی سیٹ بھی ملے تو وہ اس پر بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار ہیں۔‘نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویر صادق اس فیصلے کو مشکل ترین قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہی موقعہ ہے کہ تمام جماعتوں کو متحد ہو کر بی جے پی کو شکست دینی ہوگی جو نفرت پھیلانےاور منقسم کرنے کی اپنی پالیسی پر کاربند ہے۔ بی جے پی کی حکومت نے جس تیزی سے یہ فیصلہ کیا اس کو دیکھتے ہوئے یہ لازمی بنتا ہے کہ ہندوتوا سوچ کے خلاف منظم اور متحد ہو کر لڑا جائے تاکہ اس کو پتہ چلے کہ جموں و کشمیر میں اس کی پالیسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘نیشنل کانفرنس کی اتحادی جماعت پی ڈی پی بھی کونسل انتخابات میں اپنی شمولیت کو جائز قرار دیتی ہے حالانکہ محبوبہ مفتی نے سخت بیانات دے کر انتخابی عمل میں شامل نہ ہونے کا عندیہ دیا تھا۔ پارٹی کے سینیئر لیڈر نظام الدین بٹ کا خیال ہے کہ مقامی انتظامیہ میں آ کر ان کوششوں کو روکا جا سکتا ہے جو جموں و کشمیر کی خصوصی قانونی، اقتصادی اور مسلم کردار کو ختم کرنے کے لیے شروع کی گئیں ہیں، عوام کو شک کرنے کی بجائے اتحاد کا ساتھ دینا چاہے۔‘
عوام کے بیشتر طبقوں کو امید تھی کہ مینسٹریم کا پہلا قدم پارلیمان سے اپنے نمائندوں کو واپس بلانے کا فیصلہ ہوگا۔ اس سے تمام دنیا کو ایک پیغام دیا جا سکتا تھا کہ اس بھارتی پارلیمان میں نمائندگی کا کیا مقصد کہ جس نے ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی کا پرچم، آئین اور شناخت چھین کر ان کو ایک سال سے زائد عرصے تک بڑی جیل میں قید کر دیا۔کشمیری عوام کو اس بات کا خوب ادراک ہے کہ جہاں نیشنل کانفرنس کے دور میں ٹاسک فورس کے قیام سے لے کر معصوم بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں وہیں پی ڈی پی کے دور میں پیلٹ چلانے سے تقریباً دس ہزار افراد آنکھوں کی بینائی سے محروم کرائے گئے ہیں۔ لوگ سمجھتے تھے کہ ان پارٹیوں کے رہنما عوام سے، خاص طور پر تشدد سے متاثر افراد سے معافی مانگیں گے لیکن ایسا آج تک نہیں ہوا۔یہ بھی توقع تھی کہ اتحاد کے سربراہوں نے مرکزی حکمرانوں کے کہنے پر حریت کے بیشتر رہنماؤں کو دہائیوں سے قید یا نظربند کر کے رکھا ہے اور اسی مرکزی سرکار نے پھر ان کو بھی کئی ماہ تک پابند سلاسل کیا۔ شاید قید میں انہیں احساس ہوا ہوگا کہ وہ حریت سے معافی مانگ کر کم از کم عوام کی تشفی سے اپنے لیے ہمدردی حاصل کریں گے لیکن انہوں نے اس کو بھی فراموش کر دیا۔
گپکار اتحاد میں شامل جماعتیں بھارتی پرچم کو اٹھانے کا عزم اب بار بار دہراتے ہیں حالانکہ بھارتی حکومت نے ان سے وہ پرچم چھین کر کئی ماہ تک قید کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ قومی دھارے کی جماعتیں ہیں تو باقی ریاستوں میں ان کا وجود کیوں نہیں ہے۔ ان کے برعکس آپ پارٹی، بہوجن سماج وادی پارٹی یا شو سینا کا دوسری ریاستوں میں ہے۔ اتحاد میں شامل جماعتوں کو کسی ریاست میں کیا، جموں میں پرایا سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں یہاں انتخابی شکست سے دوچار ہوتے آئے ہیں۔جب کوئی سیاسی جماعت قائم ہوتی ہے یا کوئی سیاست میں پہلی بار داخل ہوتا ہے تو وہ اپنی قسمت آزمائی پہلے میونسپل کونسل کے لیے انتخابات سے کرتا ہے۔ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ گپکار اتحاد نے حال ہی میں جنم لیا ہے اور سیاسی اکھاڑے میں گھس کر اپنی قسمت آزمائی کر رہا ہے کیونکہ اتحاد کے رہنماؤں کو بخوبی علم ہے کہ ان کی سیاست اب ریاست میں نہیں بلکہ یونین ٹریٹری میں شروع کرنی ہے۔ کونسل انتخابات میں ان کی شمولیت اس کا برملا اعتراف بھی ہے۔اس اعتراف کے باوجود اگر اتحاد یہ کہہ دے کہ وہ ریاست کی خصوصی حیثیت حاصل کرنے کے لیے پنچ بننا ضروری ہے تو میرے خیال میں ان کے اس بیانیے کو شاید ہی کوئی قبول کرسکتا ہے کیونکہ ان کا ماضی ناصرف بار بار کے یو ٹرن لینے سے داغدار ہے بلکہ ان کے کھاتے میں وہ ہزاروں ہلاکتیں بھی شامل رکھی جاتی ہیں جو مرکزی حکومت کے اشارے پر ان کی دور بادشاہی میں ہو چکی ہیں۔کشمیر کا اس وقت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نہ مینسٹریم پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور نہ حریت کا کوئی وجود نظر آ رہا ہے۔ ایسے میں جب تک نئی اور دیانت دار لیڈرشپ کا قیام نہیں ہوتا کشمیر میں درد و کرب، خاموش چیخ و پکار اور پرتشدد کارروائیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔
( بشکریہ انڈی پینڈنٹ)
واپس کریں