شیخ محمد عبداللہ کا سیاسی کردار
اطہرمسعود وانی
آج ریاست جموں و کشمیر کی اولین مسلم سیاسی تنظیم مسلم کانفرنس کے صدر ،جنہوں نے بعد میں نیشنل کانفرنس تشکیل دی،کے یوم ولادت کے حوالے سے سوشل میڈیا پہ ان کے سیاسی کردار پر مکالمے ہورہے ہیں۔اس حوالے سے تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالنے سے اس موضوع کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔اگر شیخ عبداللہ انڈین کانگریس کا ہم نوا بنتے ہوئے ریاست کی پہلی سیاسی جماعت سے الگ نئی سیاسی جماعت بناتے ہوئے ہندوستان کی حمایت و وفاداری کا راستہ نہ اپناتا تو ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ مختلف ہو سکتی تھی۔

وادی کشمیر میں ظلم تشدد کا بدترین دور۔ 2 نومبر 47 ء کو جب نیشنل کانفرنسی لیڈروں نے مہاراجہ ہری سنگھ کے زیر سایہ اوروزیراعظم مہرچند مہاجن کی نگرانی میں ہنگامی حکومت کا انتظام سنبھال لیا تو وادی کشمیر میں ظلم و تشدد کا ایک بھیانک اور بدترین دور شروع ہوا۔ پاکستان کے حامیوں کے لئے وہاں کی زمین تنگ کر دی گئی۔ اسلامیان جموں وکشمیر کی محبوب اورنمائندہ جماعت مسلم کانفرنس کو خلا ف قانون قراردیا گیا ۔ اس لئے کہ مسلم کانفرنس الحاق پاکستان کی علمبردار ہے ۔اس جماعت کے ہزاروں لیڈروں کارکنوں اورحامیوں کو قید کردیا گیا۔ الحاق پاکستان کی دیگر حامی جماعتوں کسان مزدور کانفرنس اور کشمیر سوشلسٹ پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوںکو بھی جیلوں میں بند کردیا گیا ۔ ان میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی شامل تھے۔ پنڈت پریم ناتھ بزاز لکھتے ہیں کہ
''نیشنل کانفرنس حکومت کے پہلے تین سال کے اندر دس ہزار محب وطن کشمیر یوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا گیاجن میں چھ ہزار باقاعدہ سیاسی کارکن تھے۔ یہ سب لوگ پاکستان کے حامی تھے۔ ان چھ ہزار سیاسی کارکنوں میں ننانوے فیصدی مسلم کانفرنس کے ساتھ تعلق رکھتے تھے۔ ہزاروں جلاوطن سیاسی کارکن ان کے علاوہ تھے۔ معزز اور باعزت لوگوں کو برسرعام بے عزت کیا گیا ریڈیو پاکستان اورآزادکشمیر ریڈیو سننے پر پابندی عائد کی گئی ۔ پاکستانی اخبارات کا داخلہ تو ناقابل تصوربات تھی''۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جناح کیمپ استعمال کرنے پر بھی گرفتاری ہوئی۔ یہ دوسری بات ہے کہ نیشنل کانفرنس کے تقریباً سبھی لیڈر یہی ٹوپی پہنتے تھے۔ غضب تو یہ ہے کہ اسلام کے نام لیوا ان نیشنل کانفرنسی لیڈروں نے قرآن پاک کی ان آیتوں پر بھی عملاً پابندی عائد کی جن میں کافروں کی مزمت کی گئی ہے۔ اگر کسی امام مسجد نے اس قسم کی کوئی آیت پڑھی تو اسے پاکستانی ہونے کے الزام میں قید کردیا گیا۔ وادی کشمیر بلا مبالغہ ایک وسیع جیل خانہ بنا دیا گیا ۔ پاکستان کے حق میں عوام کے جذبات کو وحشیانہ طورپر دبایا گیا ۔ پاکستان کا حامی ہونا ایک ناقابل عضو جرم قرار دیا گیا ۔ اس کے ''مجرم'' کے لئے وارنٹ دلیل اور وکیل کی کوئی ضرورت نہ تھی ۔لیکن جوں جوں عوامی جذبات کو دبایا گیا توں توں عوام کاپاکستان پر یقین اور اعتماد مستحکم سے مستحکم تر ہوتا گیا اور یہ بات بلاشک و شبہ کہی جا سکتی ہے کہ کشمیر کے مسلمان پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں سے بھی زیادہ پاکستانی ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت موجودہ نسل کے کشمیری مسلمانوں کے دلوں سے پاکستانیت کو جدا نہیں کر سکتی ہے۔

بھارت سے الحاق کی تو ثیق کے لئے نامزد اسمبلی کا قیام۔ نیشنل کانفرنسی لیڈر عوام کے دلوں کی اس کیفیت سے آشنا تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ چاہتے تھے بھارتی الحاق کو جو عارضی کہا جاتا ہے اسے مستقل صورت دی جائے ۔مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق کو تو خود بھارت کے حکمران عارضی نام دے چکے تھے، اس لئے نیشنل لیڈروں نے اس ''الحاق'' کو دائمی بنانے کے لئے اسمبلی بنانے کا ڈھونگ رچایا تاکہ اس طرح دنیا کو دھوکہ دیا جا سکے کہ عوام کی نمائندہ اسمبلی نے بھارتی الحاق کی توثیق کی ہے۔چنانچہ 27 اکتوبر 50 ء کو نیشنل کانفرنس کی جنرل کونسل کا ایک اجلاس شیخ محمد عبداللہ کی صدارت میں ہوتا ہے ، اس میں ایک قرارداد کے ذریعے ایک اسمبلی کی تشکیل کی تجویز پیش کی جاتی ہے تاکہ وہ اسمبلی ریاست جموں وکشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔ جنوری 51 ء میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کئے جاتے ہیں۔ جو جمہوریت کی تاریخ میں لاثانی حیثیت رکھتے ہیں۔صوبہ کشمیر کے تمام ممبروں کو حکمران جماعت نامزد کر کے ''بلا مقابلہ'' کامیابی کی سند دیتی ہے ۔یہی حال جموں وکشمیر کے مسلم اکثریت والے علاقوں کا ہوتا ہے۔ البتہ جموں کے ہندو اکثریت کے علاقہ میں فرقہ پرست جماعت پرجاپریشد نے سرکاری امیدواروں کا مقابلہ کیا اور اس طرح تمام حربوں کے باوجود پرجا پریشد کے چار ممبر بھی اسمبلی میں کامیاب ہوئے ۔ کشمیر کے مسلمانوں نے اس اسمبلی کا مکمل طورپر بائیکاٹ کیا حتیٰ کہ ایک بھی آدمی نے اپنے کاغذات نامزدگی تک پیش نہ کئے ۔
پاکستان نے اس ''اسمبلی'' کے قیام پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زبردست احتجاج کیا ۔ چنانچہ 9 مارچ 51 ء کو سلامتی کونسل میں اس وقت کے بھارتی نمائندہ مسٹر بی این رائو نے اعلان کیا،
''میری حکومت کا یہی نظریہ ہے کہ کشمیر آئین ساز اسمبلی جو چاہے کرے مگر اسے اس سلسلے میں کسی فیصلہ کا کوئی اختیار نہیں ہے''۔
پھر 27 مارچ کو انہوں نے کہا، ''کشمیر اسمبلی کے فیصلہ سے تو میری حکومت پر کوئی فرض عائد ہوتا ہے اور نہ ہی سلامتی کونسل کی کارروائی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
55 ء میں بھارتی وزیراعظم نہرو نے خود کشمیر قانون ساز اسمبلی کے فیصلہ کو غیرقانونی قرار دے کر کہا کہ '' اس سے کشمیر کے معاملے میں بین الاقوامی تنازعہ حل نہیں ہوتا''۔

جموں اور لداخ سے بھارت میں مدخم کا مطالبہ۔ ایک طرف نیشنل کانفرنسی لیڈرکشمیر کو بھارت کا لازمی اور اٹوٹ حصہ بنانے کی فکر میں تھے دوسری طرف جموں کے ہندوئوں نے نیشنل کانفرنس کے لیڈورں پر ایک بے اعتمادی کا اظہار کرنا شروع کیا ۔ چنانچہ انہوں نے جموں کو براہ راست بھارت میں مدغم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس قسم کا مطالبہ لداخ تحصیل نیشنل کانفرنس کے صدر شک بکولا نے بھی شروع کیا کہ لداخ کا غیر مسلم اکثریتی کا علاقہ براہ راست بھارت میں مدغم کیا جائے۔جموںاورلداخ کے ہندو اور بدھ ایک ایسی حکومت کے تحت رہنا نہیں چاہتے تھے جس میں مسلمانوں کی اکثریت ہو۔
15 جنوری 52 ء کو جب شیخ محمد عبداللہ گاندھی میموریل کالج جموں میں تقریر کررہے تھے تو ہندوطلباء نے ان کیخلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ 19 اپریل 52 ء کو رنبیر سنگھ پورہ (جموں) میں تقریر کرتے ہوئے شیخ محمد عبداللہ نے کہا،
''کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ فرقہ پرستی کے اثرات ابھی تک بھارت میں موجود ہیں ۔بہت سے کشمیری یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ پنڈت نہرو کے بعد ان کی پوزیشن کیا ہوگی اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا''۔

دہلی معاہدہ ۔ جولائی 52 ء میں دہلی معاہدہ ہوا۔ جس میں پنڈت نہرو ،بھارتی وزیر داخلہ، شیخ محمد عبداللہ اور مرزا محمد افضل بیگ نے دستخط کئے۔اس میں یہ طے پایا کہ بھارتی آئین کو ریاست جموں وکشمیر پر بھی لاگو کیا جائے گا۔ البتہ ریاست کشمیر کے لئے بھارتی آئین میں ایک خاص دفعہ رکھی گئی جس کے مطابق کشمیر کو بھارتی آئین میں برائے نام خاص پوزیشن حاصل ہوئی۔
جموں کے ہندوئوں کو دہلی معاہدہ پر بھی شدید اعتراض تھا پرجا پریشد نے جون میں ہی صدر بھارت کو ایک یاداشت پیش کی جس میں جموں کو بھارت میں مدغم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 20 اکتوبر52 ء کو پرجا پریشد کے صدر پریم ناتھ ڈوگرہ نے دہلی کی ایک اخباری کانفرنس میں اپنے مطالبات منوانے کے لئے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ نومبر 52 ء میں پرجا پریشد کی ایک کنونشن جموں میں ہوئی جس میں تحریک چلانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ۔ 26نومبر 52 ء کو پریم ناتھ ڈوگرہ گرفتار کر لئے گئے۔ ان کی گرفتاری سے عام تحریک شروع ہوگئی ۔تیرہ سو افراد قید کر لئے گئے ۔ پولیس کی فائرنگ سے تیس آدمی مارے گئے اور 131 زخمی ہوئے ۔جموں اور اس کے آس پاس کا علاقہ کئی دن تک پرجا پریشد کے کنٹرول میں رہا ۔ بھارت کی رائے عامہ، ہندوپریس اور فرقہ پرست جماعتوںنے تحریک کی پرزور حمایت کی۔ کانگریس کے بیشتر لیڈر بھی تحریک کے حامی تھے۔ بھارتی جن سنگھ کے صدر ڈاکٹر شیامامکرجی خود جموں گئے۔ کشمیر حکومت نے نے انہیں گرفتار کر لیا۔ اتفاق سے مکر جی کی موت جیل میں واقع ہوئی تو اس سے تمام ہندوستان میں کشمیر کے نیشنل کانفرنسی لیڈروں کے خلاف غصہ و نفرت کی لہردوڑگئی۔ پرجا پریشد کی تحریک سے بددل ہو کر شیخ محمد عبداللہ نے ایک بیان میں کہا،
''اگر جموں اور لداخ بھارت میں مدغم ہونا چاہتے ہیں تو وادی کو محدود الحاق کی بنیاد پر آزاد رہنے کا حق دیا جائے۔''
16 جنوری 53 ء میں شیخ عبداللہ کانگریس کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھارت گئے اور اسی د ن انہوں نے کانگرس کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا،
''میں دشمنوں سے اتنا نہیں ڈرتا ہوں جتنا کہ بھارت میں بعض اوقات اپنے دوستوں اور حامیوں سے ڈرتا ہوں۔ مجھے سخت دکھ پہنچا ہے کہ جب جموں میں ایک خطرناک تحریک شروع کی گئی تو تمام بھارت نے اس کی حمایت کی ۔ شیخ عبداللہ کب تک تمہارے ساتھ رہ سکتا ہے؟ میری زندگی تمہارے سامنے ہے ،میر ا کام تمہارے سامنے ہے۔ اور میں تمہارے لئے کام کر رہا ہوں''۔ ( روزنامہ ''سچ'' دہلی)
واپسی پر انہوں نے دہلی کانگرس کے ایک عام جلسے میں تقریر کی خواہش ظاہر کی تاکہ وہ عوام کی غلط فہمی دور اور اپنی صفائی پیش کریں۔ مگرجب انہوں نے تقریر شروع کی تو لوگوں نے مظاہرے شروع کئے اور تقریر سننے سے انکار کیا ۔مسلسل چارگھنٹے کی کوشش کے باوجود شیخ صاحب ایک جملہ بھی پورا نہ کر سکے ۔ چنانچہ وہ انتہائی مایوسی کے ساتھ واپس کشمیر آئے۔
17 اپریل 53 ء کو سری نگر ریڈیو سے تقریر کرتے ہوئے انہوں نے ریاست کے آئندہ آئین کے بارے میں ایک فارمولا پیش کیا۔ جس کے مطابق یہ تجویز پیش کی کہ ریاست کو پانچ کلچرل حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ یعنی (1 ) جموں (2)کشمیر (3)لدا خ (4)گلگت(5) پونچھ (آزادکشمیر) ان سب کو ملا کر ایک فیڈرل حکومت قائم کی جائے۔
اس تجویز سے بھی لداخ اور جموں کے ہندومطمئن نہ ہوسکے ۔ کیونکہ وہ کشمیر کے مسلم اکثریت علاقے کے ساتھ فیڈرل حکومت بنانے پر رضا مند نہ تھے۔وہ اپنے علاقوں کو ہندو اکثریت دے کر بھارت میں مدغم کرنے کے خواہش مند تھے۔ ضلع ڈوڈہ کی ضلع نیشنل کانفرنس نے بھی ایک اجلاس میںجموں کے ہندواکثریت والے علاقے سے الگ ہونے کامطالبہ کیا ۔ فرقہ پرستی کے اس طوفان نے شیخ محمد عبداللہ کو ایک سخت الجھن میں ڈال دیا انہیں شدت کے ساتھ یہ احساس ہونے لگا کہ ان حالات میں وہ کشمیر کے مسلمانوں کو ہندو بھارت کے حوالے کر کے کس قدرشدید غلطی کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ صورتحال حضرت قائداعظم کے دو قومی نظریہ کی سچائی کی گواہی دے رہی تھی۔ شیخ محمد عبداللہ کی اس نشری تقریر سے ایک دن قبل یعنی 16 اپریل 53 ء کو ان کے قدیم رفیق کار چوہدری غلام عباس خان نے گوجرانوالہ (مغربی پاکستان) کے ایک جلسہ عام میں شیخ صاحب کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا،
''پرجا پریشد کی تحریک سے شیخ محمدعبداللہ کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ہم کشمیر کو اندرونی طور پر خود مختار رکھیں گے اور صرف امورخارجہ اور دفاع اور مواصلات حکومت پاکستان کے حوالے کریں گے۔ گزشتہ پانچ سال کے واقعات نے ثابت کردکھایا ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کا حل کشمیر ی عوام اور پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ میں شیخ محمد عبداللہ کو یہ پیشکش بی کرتا ہوں کہ اگروہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے میں پہل کریں تو میں ان کی قیادت میں کام کرنے کے لئے تیار ہوں'' (روزنامہ ''نوائے وقت'' لاہور 18-4-53 )
13 اپریل کو بھارتی وزیراعظم نہرو نے دہلی کے ایک جلسہ عام میں کہا ،
''پچھلے پانچ سال میں مجھے پہلی بار یہ شبہ ہو رہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگ بھارت کے ساتھ نہیں ہیں ''۔ (روزنامہ ''سچ ''دہلی)
مئی 53 ء کے دوسرے ہفتے میں سرینگر سے اخبار سٹیٹمین کے نمائندے نے مندرجہ ذیل خبر دی کہ ، ''مئی کے شروع سے عبداللہ میں نمایاں تبدیلی نظر آرہی ہے''
نیشنل کانفرنسی لیڈروں کی اس ذہنی الجھن سے عوام پر ان کی جابرانہ گرفت بھی کچھ ڈھیلی پڑ گئی چنانچہ مئی 53 ء میں ہی نیشنل کانفرنس کے کچھ روٹھے ہوئے کارکنوں نے ''عوامی کانفرنس ''کے نام سے ایک جماعت قائم کی ۔ اس کے قائم کرنے والوں میں محمد عمر بٹ کا نام قابل ذکرہے۔
ان ہی دنوں یہ خبر بھی آئی کہ مسلم کانفرنس کے بعض کارکنوں نے اس جماعت کو قائم کیا ہے 19 جون 53 ء کو نیشنل کانفرنس کی مجلس عاملہ کے سابق رکن اور تحریک ''کشمیر چھوڑ دو ''کے ہیروغلام محی الدین قرہ (جو 1949 میں نیشنل سے الگ ہوگئے تھے) نے میر واعظ ہمدانی کے تعاون سے سہیہ پار (سرینگر) کے ایک جلسہ عام میں کشمیر پولیٹیکل کانفرنس کی بنیاد ڈالی۔ جب قرہ صاحب نے عوام سے سوال کیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ تو ہزاروں لوگوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا '' پاکستان'' ۔چنانچہ انہوں نے پولیٹیکل کانفرنس کا مقصد الحاق پاکستان قرار دیا۔ جلسے کے بعد لوگ مختلف جلوسوں کی صورت میں اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے اور سرینگر کے درودیوار ''پاکستان زندہ باد''''فوجوں کو نکال دو'' اور ''رائے شماری کرائو ''کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھے ۔ نیشنل کانفرنس کے محروم اقتدار کچھ کارکن کشمیر سوشلسٹ پارٹی کے کچھ ممبر اور خلاف قانون مسلم کانفرنس کے بے شمار کارکنوں نے کشمیر پولیٹیکل کانفرنس میں شرکت کی 27۔ جون 53 ء کو غلام محی الدین قرہ اور کانفرنس کے مرکزی کمیٹی کے 101 ممبران کے علاوہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد گرفتارکر لی گئی۔

تنازعہ کشمیر کے بارے نیشنل کانفرنس کی بھارتی حکومت کو تجاویز ۔ 9 جون 53 ء کو نیشنل کانفرنس کے سرکردہ لیڈروں کا ایک اہم اجلاس شیخ محمد عبداللہ کی صدارت میں ہوا ۔ جس میں تمام سیاسی صورتحال پر غور وخوض کرنے کے بعد طے پایا کہ بھارتی حکومت کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی جائیں تاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کشمیر کے بارے میں ایک پرامن اور باعزت سمجھوتہ ہو جائے واضح رہے کہ مئی میں بھارتی حکمرانوں نے نیشنل کانفرنسی لیڈروں سے کہا تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کریں چنانچہ ان کی طرف سے حسب ذیل تجاویز پیش کی گئیں۔
(1)4 جون 53 ء کے اجلاس (نیشنل کانفرنس کی مجلس عاملہ کااجلاس) کی کارروائی میں جو شرطیں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ ان کے تحت پوری ریاست میں استصواب رائے کرایا جائے۔
(2)تمام ریاست کو خود مختار قرار دیا جائے ۔
(3)تمام ریاست کی خود مختاری مگر خارجہ دفاع پر بھارت اور پاکستان کا مشترکہ کنٹرول ہو۔
(4 ) ڈکسن کی تجویز پر عمل کیا جائے مگر استصواب رائے والے علاقے کو آزاد قرار دیا جائے۔ بخشی غلام محمد نے آخری صورت پر زیادہ زور دیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ اس تجویز کو نمبر 1 رکھا جائے۔ مگرمولوی محمد سعید مسعودی نے اسی ترتیب کو مناسب قرار دیا۔ جب نیشنل کانفرنس کی طرف سے یہ تجویز وزیراعظم بھارت پنڈت نہرو کو روانہ کی گئی تو اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔
14 جون53 ء کو بروز عید سرینگر ریڈیو سے تقریر کرتے ہوئے شیخ محمد عبداللہ نے کہا ،
''ہندو فرقہ پرست چاہتے ہیں کہ جنگ بندی کے اس طرف کا حصہ بھارت میں مدغم کیا جائے اور بھارتی آئین یہاں لاگو کیا جائے مگر کشمیری عوام کی اکثریت اس سلسلہ میں ان شرائط سے آگے نہیں جانا چاہتی ہے جن پر بھارت سے الحاق ہوا ہے ۔ مجھے کہاگیا ہے کہ میرے خیالات ہندوئوں اور کانگریس کو پسند نہیں حالانکہ میں ہی بھارتی الحاق کا ذمہ دار ہوں کشمیر کے ہر ایک فرقہ کو دعا کرنی چاہئے کہ وزیراعظم محمد علی اور وزیراعظم مسٹر نہرو کی بات چیت کامیاب ثابت ہو تاکہ دونوں ممالک میں دوستی استوار ہوجائے''۔
11 جولائی کو سری نگر میں نیشنل کانفرنسی کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ عبداللہ نے کہا،
'' بھارت میں ایک بھی شخص دہلی معاہدہ کا حامی نہیں اور پرجا پریشد کی تحریک کا مخالف نہیں ہے'' (ایجنسی ۔ فرانس پریس)

واپس کریں