عوام بمقابلہ اسٹبلشمنٹ: بازی کس کے ہاتھ !
سید مجاہد علی
حکومتی ترجمانوں کے بیانات کو دیکھا جائے تو اپوزیشن لاہور میں لوگوں کو جمع کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم نے پی ڈی ایم کے پاور شو کو ’افسوسناک ‘ قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ ’لٹیروں کو این آر او نہیں دیا جائے گا‘۔ تاہم پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی جلسہ کا موضوع کوئی سیاسی حکومت نہیں بلکہ ملک کی اسٹبلشمنٹ تھی۔ یہ ایک تبدیل شدہ اور قابل غور صورت حال ہے جسے کسی بھی سطح پر نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ ’ایجنسیوں میں سیاسی انجیئنرنگ کی فیکٹریاں بند کی جائیں‘۔ یہی اس اجتماع کا پیغام ہے جسے اس موقع پر خطاب کرنے والے ہر لیڈر نے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت بند کی جائے اور موجودہ ناکام اور نامزد حکومت کو بچانے کے لئے عوام کا سامنا کرنے سے گریز کیا جائے۔ مقررین کی باتوں میں اسی ایک نکتہ پر زور دیا گیا تھا کہ یہ لڑائی نہ تو موجودہ حکومت کے خلاف ہے اور نہ ہی اس سے ذاتی منفعت حاصل کرنا مقصود ہے۔ بلکہ اب عوام مل کر حکمرانوں کویہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس ملک کے محفوظ اور خوش حال مستقبل کے لئے من پسند لیڈروں کو مسلط کرنے کا طریقہ ترک کیا جائے۔

تحریک انصاف کے نمائیندے اس جلسہ اور اپوزیشن لیڈروں کی نیت کے بارے میں خواہ کسی رائے کا اظہار کریں لیکن یہ سیاسی تصادم اب جس مرحلہ میں داخل ہورہا ہے، اس میں اسے تادیر نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ نہ ہی اب بہت دیر تک اسے این آر او لینے کا ہتھکنڈا قرار دیا جاسکے گا۔ سیاسی جلسوں میں شرکا کی تعداد فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر حکومت نے جس طرح پی ڈی ایم کی تحریک پر رد عمل ظاہر کیا ہے اور جس طرح اپوزیشن نے سیاسی حکومت کی بجائے اسے اقتدار تک پہنچانے والے درپردہ ہاتھوں کو نشانہ بنانے کا طریقہ اختیار کیا ہے، اس کی روشنی میں اب کسی جلسہ گاہ میں لوگوں کی تعداد بے معنی ہوچکی ہے۔ اب یہ بات زیادہ اہم ہے کہ جھگڑا کس بات پر ہے اور اسے نمٹانے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیاجائے۔

لاہور کے جلسہ کو ’افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے بجا طور سے ملک میں کورونا کی صورت حال اور اس سے صحت عامہ کو لاحق خطرات کا حوالہ دیا ہے ۔ ان کا مؤقف ہے کہ اپوزیشن لیڈر وں نے اپنے ذاتی فائدے کے لئے عوام کو کورونا وائرس جیسے خطرے کی طرف دھکیلا ہے۔ عمران خان کا یہ شکوہ غلط نہیں ہے لیکن اس شکایت کے ازالے کے لئے حکومت نے بروقت کوئی اقدام کرنے سے گریز کیا۔ یہی حکومت اور عمران خان کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان ملک میں بڑے جلسے کرنے اور اسلام آباد میں طویل دھرنا دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انہیں یہ خبر ہونی چاہئے تھی کہ جب کوئی سیاسی تحریک زور پکڑ لے تو وہ کسی حکومت کو بھلے نہ گرا سکے لیکن وہ اسے اس قدر کمزور ضرور کردیتی ہے کہ اس کی اتھارٹی اور فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہی کسی بھی تحریک کی کامیابی کہی ہوتی ہے۔

عام طور سے کامیاب سیاسی لیڈر ایسی صورت پیدا ہونے سے پہلے ہی مواصلت اور مفاہمت کے ذریعے معاملات پر کنٹرول کی کوشش کرتے ہیں۔ تحریک انصاف اور وزیر اعظم نے گزشتہ دو ماہ کے دوران پی ڈی ایم کی تحریک کو ختم کرنے کے لئے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ عمران خان اور ان کے وزیروں کے بیانات سے یہ سمجھنا دشوار نہیں ہے کہ حکومت اس احتجاج کے بارے میں دو نکات پر یقین رکھتی ہے۔ ایک : اپوزیشن کامیاب جلسے نہیں کرسکے گی اور خود ہی اپنی کوششوں میں ناکام ہو کر خاموش ہوجائے گی۔ دوئم: اگر صورت حال سنگین ہوئی تو افواج پاکستان حکومت کا بھرپور ساتھ دیں گی اور کسی بھی احتجاج کو کچلنے، دھرنا ختم کرنے یا اپوزیشن کو گھر بھیجنے میں بھرپور تعاون فراہم کریں گی۔

حکومت نے اپوزیشن کی صلاحیت کے بارے میں جو اندازے قائم کئے ہیں، وہ ابھی تک غلط ثابت ہورہے ہیں۔ اس تحریک کو تند و تیز بیانات، دھکمیوں اور الزامات کی بھرمار سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ خاص طور سے جب نواز شریف نے 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ پر سیاسی معاملات میں مداخلت ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم کرنے اور 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کئے تو سرکاری ترجمان ملک دشمنی اور غداری کے تند و تیز الزامات لگاتے ہوئے اپوزیشن لیڈروں پر حملہ آور ہوئے۔ یہ قیاس کرلیا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار حاضر سروس فوجی جرنیلوں کا نام لے کر الزام تراشی کے بعد اپوزیشن کی صفوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ گمان ہے کہ اس وقت تک عمران خان کا خیال تھا کہ یہ لڑائی صرف شریف خاندان نے شروع کی ہے اور وہ دوسری سیاسی پارٹیوں کو اپنے ایجنڈے میں ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لیکن اس تقریر کے بعد انہیں منہ کی کھانا پڑے گی۔

عمران خان اور حکومت کا یہ اندازہ غلط ثابت ہؤا۔ نہ اپوزیشن میں افتراق کے آثار دکھائی دیے اور نہ ہی نواز شریف نے کسی قسم کی پشیمانی کا اظہار کیا۔ ملکی سیاست میں طویل تجربہ رکھنے کے علاوہ تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کے بارے میں یہ امید لگالینا کہ اس کا ایک بیان ہی اس کے لئے ’جال ‘ بن جائے گا، سیاسی خوش فہمی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے نواز شریف اور اپوزیشن پر ملک سے غداری اور بھارتی ایجنڈے کو نافذ کر نے کے بارے میں الزامات خود اپنی موت آپ مرگئے۔ سرکاری میڈیا کے علاوہ ہمدرد یوٹیوب چینلز نے ملکی تاریخ میں غداری کے ایک نئے باب کا سراغ لگانے کی حتی الامکان کوشش کی لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ اسی لئے لاہور جلسہ رکوانے کے لئے حکومت کی سب سے بڑی دلیل کورونا وائرس کی صورت میں سامنے آئی۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن سے براہ راست اپیل کی کہ جلسوں کو چند ماہ کے لئے مؤخر کردیا جائے۔ حکومتی حلقوں کی طرف سے گزشتہ ہفتہ عشرہ کے دوران مفاہمانہ اشارے دیے گئے تھے ۔ یہ اشارے بھی اسی لئے کام نہیں آئے کیوں کہ حکومت نے اس کا ہوم ورک نہیں کیا تھا اور بات چیت کے لئے کوئی ٹھوس ایجنڈا یا موضوع تجویز کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ بین السطور این آر او نہ دینے کو سب سے طاقت ور ہتھیار سمجھتے ہوئے استعمال کیا جاتا رہا۔

اپوزیشن جلسہ کے فوری بعد جب صوبے کا وزیر اعلیٰ ٹوئٹ پر تصاویر لگا کر اسے ’ناکام‘ ثابت کرنے کی کوشش کرے اور ملک کا وزیر اعظم اپنے ٹوئٹ بیان میں اس پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھے تو کسی اجتماع کی کامیابی کی، اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔ یوں لگتا تھا کہ حکومتی قائدین سانس روکے جلسہ ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے کہ جوں ہی یہ ختم ہو تو منفی تبصروں کے ذریعے اس کا ’زہر‘ نکالنے کی کوششوں کا آغاز کیا جائے۔ بلکہ اے این پی کے لیڈر میاں افتخار حسین نے تو اپنی تقریر میں اس مزاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بجا طور سے یہ کہا کہ ’ جلسہ ابھی شروع نہیں ہؤا تھا لیکن حکومتی ترجمانوں نے اسے ناکام قرار دینے کے بیان دینا شروع کردیے تھے‘۔ اس رویہ سے اس خوف کا سراغ لگایا جاسکتا ہے جو اپوزیشن احتجاج کی وجہ سے حکومت پر طاری ہے۔

اپوزیشن کے احتجاج سے نمٹنے کے معاملہ میں عمران خان سے دوسری بڑی غلطی یہ ہورہی ہے کہ انہوں نے اس بارے میں عسکری حلقوں کی رائے سننے یا براہ راست یہ مواصلت کرنا ضروری نہیں سمجھا کہ اگر اپوزیشن کے ساتھ تصادم کی صورت حال پیدا ہوگئی اور سول انتظامیہ احتجاج اور مظاہرین کو دبانے میں ناکام رہی تو کیا فوج سول حکومت کی مدد کے لئے باہر نکلے گی۔ آئینی لحاظ سے کسی بھی حکومت کا یہ حق ہے کہ وہ کسی بحران میں فوج کی مدد طلب کرلے لیکن جب لڑائی ہی سول معاملات میں فوج کی غیر آئینی مداخلت کے معاملہ پر ہورہی ہو تو فوج کے لئے براہ راست احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اپوزیشن کا دعویٰ بھی ہے اور عمران خان نے یہ تاثر خود ہی قوی کیا ہے کہ انہیں فوج کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے۔ لیکن پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی تقرری سے لے کر متعدد ایسے معاملات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جب وزیر اعظم نے عسکری حلقوں کی رائے کو ’اہمیت‘ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس لئے موجودہ سیاسی صورت حال میں سربراہ حکومت کا یہ گمان خطرناک ہوسکتا ہے کہ وہ چونکہ بااختیار ہیں اور اپوزیشن پر عسکری حلقوں کو اعتبار نہیں ہے۔ ، اس لئے کسی بھی مشکل میں فوج ان کا ہر ’حکم‘ بجا لائے گی ۔ یہ توقع نہ صرف ملکی تاریخ کے تناظر میں غیر حقیقی ہے بلکہ موجودہ سیاسی صورت حال میں بھی اس پر عمل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں خطاب کرتے ہوئے اسی نکتہ کو واضح کیا ہے اور کہا ہے کہ’ آج اپنی دفاعی قوت اور اسٹبلشمنٹ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ عوام کو راستہ دیں، عوام کو اسلام آباد پہنچنے دیں۔ حکومت عوام کی ہو گی، دھاندلی کا نظام نہیں چلے گا۔ اب کہیں وہ دن نہ دیکھنے پڑیں کہ جہاں اسٹبلشمنٹ بمقابلہ پاکستان کے عوام ہو‘۔ حکومت لاہور کے جلسہ میں سامنے آنے والے پیغام کو خواہ اہمیت نہ دے لیکن مقتدرہ کی ہر سطح پر نواز شریف، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کی تقاریر میں دیے گئے اشاروں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔

عمران خان کے پاس ابھی وقت ہے کہ وہ اس امتحان کو طویل اور سنگین ہونے سے بچائیں۔ کرپشن اور این آر او کا منتر اب اپنے معانی کھو چکا ہے۔ اب اپوزیشن این آر او نہ دینے کا اعلان کررہی ہے۔ آج لاہور میں کی گئی تقریروں میں کرپشن کے وہ الزامات عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو لوٹائے گئے ہیں جن سے وہ ابھی تک اپوزیشن لیڈروں کا شکار کرتے رہے ہیں۔ بہتر ہوگا سیاست دان خود ہی آپس میں بات کریں۔ اس کے لئے البتہ حکومت کو جارحیت اور عمران خان کو انانیت چھوڑنا پڑے گی۔
واپس کریں