پی ڈی ایم اپنا مقصد حاصل کرچکی، اسے ناکام کہنا خود فریبی ہے
سید مجاہد علی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں وزیر اطلاعات شبلی فراز کے علاوہ پارلیمانی امور پر وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان نے گزشتہ روز نیب کے ہاتھوں مسلم لیگ (ن) کے لیڈر خواجہ آصف کی گرفتاری کو ’قانون کی عملداری ‘ قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان جمہوری تحریک ناکام ہوچکی ہے۔ تاہم یہ دعویٰ ملک کی معروضی سیاسی سچائی سے انکار کے مترادف ہے۔دریں اثنا وزیر داخلہ شیخ رشید نے اخباری نمائیندوں کے اس سوال پر کہ ’ اگلی باری کس کی ہے‘ جواب دیا ہے کہ فروری کے وسط میں نواز شریف کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہوگی، تو اس کی تجدید نہیں ہو گی۔ سرکاری نمائیندے سارا زور یہ ثابت کرنے پر صرف کررہے ہیں کہ اپوزیشن کا اتحاد پارہ پارہ ہوچکا ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ عام پاکستانی کے لئے اس سارے سرکس میں البتہ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اگر اپوزیشن خود اپنے ہی جال میں آچکی ہے تو حکومت کے سارے نمائیندے مسلسل کیوں بدحواسی کا مظاہرہ کررہے ہیں؟

پاکستان کے لئے کسی بھی سطح پر مسائل کی کمی نہیں ہے۔ داخلی بحر ان سے لے کر معاشی انحطاط، مہنگائی، بیروزگاری، گیس و بجلی کی گرانی و قلت کے علاوہ خارجہ تعلقات میں ملک کو گونا گوں مسائل کا سامنا ہے۔ امریکہ میں اگلے ماہ ہونے والی سیاسی تبدیلی کے بعد ان مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ علاقائی طور سے بھارت کے ساتھ شدید کشیدگی کے علاوہ مشرق وسطی کے اہم ملکوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات اس قدر سرد مہری کا شکار ہیں کہ اب برادارانہ تعلقات کے بارے میں بیان جاری کرنا ضروری ہوچکا ہے۔ حکومت تبدیل ہوتی علاقائی صورت حال میں کوئی مؤثر اور متبادل پالیسی سامنے نہیں لائی۔ ایسے میں اگر وزیر خارجہ اپوزیشن کے ایک ’معمولی ‘ لیڈر کی گرفتاری پر وزیر اطلاعات کے ساتھ پریس کانفرنس کرنے پر مجبور ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت اڑھائی برس میں صرف معیشت کی بحالی اور خارجہ معاملات کی سمت درست کرنے میں ہی ناکام نہیں ہے بلکہ وہ عام لوگوں کو یہ باور کروانے سے بھی قاصر رہی ہے کہ سب ادارے اپنے مقررہ دائرہ کار میں قانون کے مطابق کام کررہے ہیں، حکومت کا ان محکمانہ یا ادارہ جاتی امور سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

جب قانون کو بالادست قرار دیتے ہوئے کہا جائے گا کہ قانون سب کے لئے یکساں ہے تو اس کا یہ مطلب بھی ہوگا کہ صرف آئینی ادارے ہی نہیں بلکہ مختلف سرکاری محکمے جن میں پولیس، ایف آئی اے وغیر بھی شامل ہیں ، خود مختار ہیں ۔ اور ان کے روزمرہ فیصلوں اور تحقیقات سے حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ کجا وزیروں کی فوج ظفر موج ایک اپوزیشن لیڈر کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری پر طویل پریس کانفرنس کرکے چوری کے طریقوں اور بدعنوان سیاست دانوں کی داستان امیر حمزہ از سر نو سنانے پر مامور ہو۔ یا یہ بتانے پر وقت، صلاحیت اور دلائل کے انبار صرف کریں کہ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف جو اتحاد بنایا تھا وہ منتشر ہوچکا ہے۔ پیپلز پارٹی سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کرکے اپنی راہ لگ کرچکی ہے، خواجہ آصف کی گرفتاری سے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی دیانت کا رہا سہا پول بھی کھل گیا ہے ۔ اب راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ بد قسمتی سے حکومت کے راویوں کے چہرے کی پریشانی اور باتوں کی روانی ایک ہی کہانی سنا رہی ہے کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

سرکار اور اس کے نمائیندوں کی یہ پریشانی بے جا بھی نہیں ۔ ملک کے تمام ماہرین اور عقل سلیم کی ہر جہت یہی کہتی ہے کہ کسی بھی ملک کو جب معیشت سنبھالنا ہو، دشمن سے مقابلہ درپیش ہو یا بین الاقوامی تعلقات بہتر بنانے کا مشکل کام کرنا ہو تو قومی یکجہتی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ 2020 میں کورونا وبا سے پیدا ہونے والی مشکلات سے ستائے ہوئے دنیا کے نوجوانوں کو وزیر اعظم عمران خان کا پیغام ہے کہ ’ہمت نہیں ہارنی چاہئے، کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ وقت کبھی نہیں رکتا اور یہ سیدھی لائن میں نہیں دائرے میں سفر کرتا ہے۔جو ڈٹے رہتے ہیں، وہی کامیاب ہوتے ہیں‘۔ یہ دانشورانہ مشورہ افراد کے لئے ضرور مفید ہوگا یا میدان میں اترے ہوئے کھلاڑیوں کے لئے کارآمد ہوسکتا ہے لیکن جو قومیں مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لیتیں اور ماضی کی عظمت پر یقین یا مشیت ایزدی پر بھروسہ کرکے ہاتھ پر ہاتھ دھرنے کوہی بہترین حکمت عملی سمجھتی ہیں، ان کے لئے مشکلات کا دائرہ سیدھی لکیر ہی بن جاتا ہے جو براہ راست تباہی کی طرف جاتی ہے۔

یوں بھی پاکستان کی تاریخ تو 70 برس سے پریشانی حالی کے بیان میں منجمد ہوچکی ہے۔ اس برف کو توڑنے کی کوئی کوشش کارآمد نہیں ہوتی۔ عمران خان کی مقبولیت اور کامیابی دراصل پاکستانی قوم کی اسی خواہش کا نتیجہ تھی کہ ان حالات کو تبدیل کیا جاسکے جو ازل سے ناکامی کے سائے کی صورت اہل وطن کے ہمسفر ہیں۔ عمران خان البتہ اس خواہش کو اپنی کاوش اور کامیابی سمجھنے کی سنگین غلطی کررہے ہیں۔ وہ جس طرح فرد کی کامیابی کا نسخہ ملک کی سرخروئی کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں ، اسی طرح وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خود جس طرح کوشش کرتے رہے بالآخر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بن گئے، جد و جہد کی تو شوکت خانم ہسپتال کھڑا کرلیا اور 22 سال سیاست میں ’لگے رہو منا بھائی ‘ بنے رہے تو آخر کار وزیر اعظم بن گئے۔ اسی طرح پاکستانی قوم اگر ان کی قیادت میں اچھے وقت کا انتظار کرتی رہے گی تو حالات ضرور تبدیل ہوجائیں گے۔ وزیر اعظم کو جاننا چاہئے کہ یہ تبدیلی ترک ڈرامے دیکھ کر اور الزام تراشی کے نت نئے ہتھکنڈے تلاش کرکے نہیں آسکتی۔ اس کے لئے انہیں لیڈر کے طور پر کوشش کرنا ہوگی۔ البتہ قیادت کے لئے رہنما کا حوصلہ، صبر اور وقار حاصل کرنا بھی اہم ہوتا ہے۔

الزام کا کیا ہے، یہ تو کوئی بھی کسی بھی وقت کسی پر عائد کرسکتا ہے۔ عمران خان اور ان کے چیلے نواز شریف اور آصف زرداری کو چور اچکے اور لٹیرے قرار دیتے ہیں اور نیب کے ذریعے انہیں تاحیات جیلوں میں بند رکھنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ خوش قسمتی سے پاکستان میں ابھی سعودی عرب یا چین کی طرح حکومت کے معتوب لوگوں کو الٹا لٹکانے یا پھانسی دینے کا رواج نہیں ہے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال اقتدار ملنے کی صورت میں عمران خان پر غداری کا مقدمہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے اپنے اقتدار کے لئے مودی کے ساتھ کشمیر کا سودا کیا ہے ، اسی لئے وہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے میں کامیاب ہوسکا تھا۔ تحریک انصاف کے حامیوں کو یہ الزام نہایت لغو لگے گا ۔بالکل ایسے ہی بدعنوانی کے وہ سارے قصے بھی زیب داستان کے لئے بیان کی گئی ایسی کہانیاں ہیں جنہیں کسی باقاعدہ عدالتی پلیٹ فارم پر کسی شک و شبہ سے بالا ثابت کرنا ابھی باقی ہے۔ ورنہ الزام کا کیا ہے۔ کوئی کسی پر لگادے۔ جیسے احسن اقبال نے عمران خان کو ’غدار‘ کہہ دیا۔

عمران خان کی حکومت اس دھند سے باہر نکلے گی تو ہی اسے راستہ سجھائی دے گا۔ یہ درست ہے کہ الزمات کی طویل فہرست اور پی ڈی ایم کے انتشار کی چٹخارے دار گفتگو کے بعد وزیر داخلہ یہ ضرور فرماتے ہیں کہ ’ جس نے مذاکرات کرنے ہیں وہ اسمبلیوں میں آکر مذاکرات کرے اور جس نے مال پانی بنایا ہے وہ دوسرے بڑے گیٹ پر آئے‘۔ شیخ رشید نے بوجوہ ’آنے‘ کی دعوت دی ہے ، حقیقتاً وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ’ جو راہ راست پر نہیں آئے گا ان کا حشر وہی ہوگا جو کل خواجہ آصف کا ہؤا ہے‘۔خواجہ آصف نے البتہ نیب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں تو نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑنے پر اب پکڑا گیا ہے لیکن یہ کوششیں گزشتہ اڑھائی برس سے مسلسل ہورہی ہیں۔ نواز شریف کا مؤقف جانا جائے تو ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کوششیں ان کی وزارت عظمی کے دور سے ہی شروع ہوگئی تھیں۔ پہلے انہیں دھرنوں سے ڈرایا گیا، پھر پاناما کیس میں الجھا کر اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اور 2018 کے انتخابات میں سیاسی انجینرنگ کے ذریعے کامیابی مسلم لیگ (ن) سے چھین کر تحریک انصاف کی جھولی میں ڈال دی گئی۔ اور پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت عمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیا گیا۔

پی ڈی ایم کے نام سے بننے والے اتحاد نے عمران خان کو یہ سنہرا موقع دیا تھا کہ وہ اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش رکھنے والے عام انسان سے قوم کا حقیقی رہنما بننے کی کوشش کرتے ۔ سیاسی مخالفین کو ایک قدم آگے بڑھ کر منانے کی کوشش کرتے تاکہ قوم کو درپیش مسائل پر بات ہوتی اور تنزلی کی بجائے ارتقا کا سفر شروع ہوسکتا۔ لیکن جس لیڈر نے شیخ رشید اور شاہ محمود قریشی جیسے گھاگ لوگوں کو اپنے کان اور آنکھیں بنا رکھا ہو ، وہ کیسے دیکھ سکتا ہے کہ پاکستان جمہوری تحریک تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکی۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئیں کھیت۔ اب تو یہ آواز چھتوں چوباروں پر پہنچ چکی ہے کہ سیاست میں غیر جمہوری اور غیر آئینی ملاوٹ اب منظور نہیں ہے۔

حکومت نیب یا دوسرے ہتھکنڈوں سے کتنے لیڈروں کو کتنی دیر تک حراست میں رکھ سکتی ہے۔ اب یہ ان لیڈروں کا انفرادی معاملہ نہیں رہا۔ اب یہ قومی شعور کا مسئلہ بن چکا ہے جو حکومت سے بالا ایک حکومت کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ عمران خان اس تحریک کا حصہ بن کر سیاست کے قد آور لیڈر بن سکتے تھے لیکن وہ تو فریب کے ہشت آئینہ جادو گھر میں قید سامری کابچھڑا بن چکے ہیں۔یہ دعوی سیاست کی مبادیات سے انحراف کے مترادف ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک ناکام ہوگئی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کا اختلاف، سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ یا استعفوں پر اختلاف رائے کوئی انوکھی یا انہونی بات نہیں ہے۔ یہ سب باتیں درست ہوں تو بھی پاکستان جمہوری اتحاد اپنا مقصد حاصل کرچکا۔ وہ اہل پاکستان کو یقین دلا چکا ہے کہ اس ملک میں حکومتیں کیسے بنتی ٹوٹتی ہیں۔ جو کھیل ستر سال سے کھیلا جارہاہے، وہ چند مزید برس بھی جاری رہ سکتا ہے۔ لیکن سیاست کو آلودہ کرنے والے کرداروں کے چہروں سے نقاب نوچا جاچکا ہے۔ ان کی کامیابی بے نام رہنے میں تھی۔ جان لیا جائے کہ پردے کے پیچھے کون پتلیاں نچا رہا ہے تو تمسخر ، تجسس کی جگہ لے لیتا ہے۔ عمران خان دیکھ لیں وہ کہاں پر کھڑے ہیں۔


واپس کریں