بتائیے فوج بیچاری کیا کرے ؟
سید مجاہد علی
وزیر اعظم عمران خان نے بجا طور سے ایک انٹرویو میں فوج کی بے چارگی کااعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ فوج کیسے حکومت کی پشت پناہی کررہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن چاہتی کیا ہے، فوج آخر کیا کرے۔ وزیر اعظم کا بیان ’اس سادگی میں کون نہ مرجائے اے خدا‘ کا مضمون پیش کرتا ہے۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ فوج ہر اس وزیر اعظم کا ساتھ دے گی جو ملک کے لئے کام کرے گا‘۔ فوج کو پتہ ہے کہ میں کرپٹ نہیں ہوں۔اس وضاحت کے بعد اپوزیشن کا کام تو خود عمران خان نے ہی آسان کردیا ۔ اگر وزیر اعظم یہ اصول مان رہے ہیں کہ فوج صرف اسی وزیر اعظم کا ساتھ دیتی ہے جو اس کی صوابدید میں ملک کی بہتری کے لئے کام کررہا ہو، تو لگے ہاتھوں انہیں یہ بھی بتا دینا چاہئے تھا کہ فوج کو آئین کی کون سی شق کے تحت یہ فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ کون سی حکومت ملک کی بہتری کے لئے کام کرتی ہے اور کون سی نہیں۔ کیا یہ بیان دے کر وزیر اعظم یہ تسلیم نہیں کررہے کہ ان کی حکومت دراصل فوج کے متعین ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، اسی لئے اسے لایا گیا ہے۔ کسی کی پشت پناہی میں کام کرنا ، اس کے علاوہ کیا ہوتا ہے۔

عمران خان نے اپنا یہ مقبول نعرہ ایک بار پھر استعمال کیا ہے کہ فوج جانتی ہے کہ ہماری حکومت کرپشن نہیں کررہی۔ اول تو یہ اسی طرح کا تاثراتی بیان ہے جو باقی ماندہ سیاسی لیڈروں کو چور لٹیرے قرار دے کر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ موجودہ حکومت کی ایمانداری اور بے ایمانی کا حساب تو ان کی روانگی کے بعد ہوگا۔ جب اقتدار میں آنے والے مختلف لوگ اپنے پیشروؤں پر نااہلی، بدعنوانی اور دھوکہ دہی کا الزام لگا کر خود کو درست اور جائز ثابت کریں گے۔ ایک کھلاڑی اور سوشل ورکر کے طور پر عمران خان نے ضرور ایماندار ہونے کی شہرت حاصل کی ہے ۔ خاص طرح کے حالات میں ثاقب نثار کی منصفی میں اپنے لئے ’ایماندار‘ ہونے کی سند بھی حاصل کی ہے۔ یوں وہ خود کو ضرور ’سند یافتہ‘ ایماندار کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عمران خان کو یہ تکلیف دہ حقیقت بھی ماننا ہوگی کہ پاکستانی اسناد کو بیرن ملک کوئی خاص اعتبار حاصل نہیں ہے۔ ان کی بنیاد پر کسی یونیورسٹی میں داخلہ یا روزگار دینے کے لئے متعلقہ شخص کی اہلیت کو کئی دوسرے طریقوں سے بھی پرکھا جاتا ہے۔

تاہم سند کی وقعت اور عمران خان کی ایمانداری کے مصدقہ ہونے کی بحث سے پہلے عمرا ن خان کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ کس بنیاد پر فوج یا اس کے اداروں کو اس ’اہل ‘ سمجھتے ہیں کہ وہ جن کو ایماندار مان لیں، ان کی نیت کے بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی؟ جس طرح کسی حکومت کی وطن دوستی یا اہلیت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق کسی عسکری ادارے کو نہیں دیا جاسکتا ، اسی طرح کسی وزیر اعظم یا دوسرے سرکاری عہدے دار کے کردار کے بارے میں چھان پھٹک کا اختیار بھی کسی فوجی ادارے کے پاس نہیں ہے۔ اسی لئے آئین کی شق 62 کے تحت سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو غاصب اور عمران خان کو ’دیانت دار‘ قرار دیا تھا۔ یہ سرٹیفکیٹ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر سے جاری نہیں ہؤا تھا۔

کسی وزیر اعظم یا حکومت کی قومی مقصد سے وابستگی اور کسی سرکاری اہلکار کی دیانت داری کے بارے میں عسکری اداروں کے اختیار کی بات کہنے والا شخص، درحقیقت وہی سچائی اپنے انداز میں بیان کرتاہے جسے اپوزیشن لیڈر اب سیاسی نعرہ بنا چکے ہیں۔ یعنی ملکی سیاسی امور میں فوج کو فیصلے کرنے اور پارلیمنٹ سے بالا دست ہونے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔ عمران خان نے تازہ انٹرویو میں کہا کہ فوج ان کو دیانت دار سمجھتی ہے یا اس کے خیال میں موجودہ حکومت ملک و قوم کی بہتری کے لئے کام کررہی ہے۔ عمران خان کے نزدیک یہ ایک خوشگوار اور مثبت بات ہے کیوں کہ یہ رائے ان کی ذات اور حکومت کے بارے میں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے انہیں حکومت کا اہل سمجھا گیا ہے۔ ملک کا آئین فوج یا کسی دوسرے غیر منتخب ادارے کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا کہ وہ کس حد تک ملک کی بہتری کے لئے کام کررہی ہےیا اس کا سربراہ کتنا دیانت دار ہے۔ اگر کوئی حکومت ملک و قوم کے مفاد کے برعکس فیصلے کرنے کی مرتکب ہوتی ہے یا وزیر اعظم بدعنوان ہے تو اس کی پرکھ ملکی قانون کے مطابق عدالتی نظام میں دلیل اور شواہد کی روشنی میں ہو سکتی ہے۔

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے آج جاتی عمرہ میں اپوزیشن سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اپوزیشن 31 جنوری کے بعد لانگ مارچ کا فیصلہ کرے گی۔ البتہ اس موقع پر ان کا یہ فقرہ اس ساری بحث کا خلاصہ پیش کرتا ہے جو اس وقت ملک میں سیاسی تنازعہ کا سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم تب ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف کرنا ہے یا روالپنڈی کی طرف جانا ہے‘۔ گویا ملک میں اپوزیشن کی سیاسی تحریک کا سربراہ یہ واضح کررہا ہے کہ ملکی فوج براہ راست اس تنازعہ میں فریق ہے۔ عمران خان فوجی مداخلت کے ثبوت مانگتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کی سب سے بڑی گواہ تو پاکستان کی مختصر سیاسی تاریخ ہے ۔ اور اب ملک کے سابق وزیر اعظم براہ راست اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ جبکہ موجودہ وزیر اعظم بالواسطہ اس سرپرستی کو تسلیم کررہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اس جذباتی نعرے سے معاملات کو درست کرنا ممکن نہیں ہے کہ ’ فوج قربانیاں دے رہی ہے، یہ اس کے خلاف بیانات دے رہے ہیں‘۔ سرحدوں کی حفاظت فوج کی ذمہ داری ہے۔ قوم اپنا پیٹ کاٹ کر اسی لئے فوج کو مضبوط کرتی ہے۔ کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح فوج اپنی قانونی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے پر یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ اس کے سیاسی کردار کو تسلیم کیا جائے۔

اپوزیشن نے نہ فوج سے موجودہ حکومت کو ہٹانے کے لئے کہا ہے اور نہ ہی فوج کے خلاف بیان دیا ہے۔ البتہ فوج کے بعض عناصر کے بعض فیصلوں اور رویوں کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے تاکہ ملک میں عوامی حاکمیت کا آئینی تصور حقیقی معنوں میں پورا ہوسکے۔ اس پر اختلاف رائے ہوسکتا ہے کہ یہ گفتگو جلسوں میں کرنا مناسب تھا یا اس گفت و شنید کے لئے کوئی آئینی پلیٹ فارم بہتر ہوتا۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت خود ہی پارلیمنٹ کو غیرفعال بنا یا ہے۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈروں پر بہتان طرازی کے ذریعے پارلیمنٹ کو فیصلہ ساز ادارے کی بجائے ربر اسٹیمپ بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ا س میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہی سب کے لئے بہتر ہوگا کہ سیاسی تنازعات کو پارلیمنٹ میں طے کرلیا جائے۔ لیکن کیا عمران خان اور ان کی حکومت ایسے اہم سیاسی و آئینی مکالمہ کے لئے مناسب ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے؟ اپوزیشن پر الزامات کی بارش کرکے سیاست میں عسکری اداروں کے کردار پر گفتگو کی دعوت کیوں کر بامعنی ہوسکتی ہے۔ ایک ایسا وزیر اعظم کسی آئینی انتظام کو مستحکم کرنے کی بحث میں کیسے قابل اعتبارفریق ہو سکتا ہے جو اپوزیشن کو ملکی مفاد کے خلاف دشمن کا آلہ کار بتانے اور خود کو قومی مفاد کا چیمپئن ثابت کرنے پر مصر ہو۔

وزیر اعظم کو اس سراب سے بھی باہر نکل آنا چاہئے کہ دوسروں کو بے ایمان اور خود کو ایماندار قرار دے کر وہ سرخرو رہیں گے۔ عمران خان کی دیانت کے حوالے سے جو بات ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ’یونیورسل سچائی‘ کے طور پر تسلیم کی جاتی تھی ، اب اسے چیلنج کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن کے جلسوں میں کرداروں کے نام لے کر براہ راست عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر حکومتی اختیا رکے ناجائز استعمال اور غیر قانونی مراعات کا الزام لگایا جارہا ہے۔ بنی گالہ کی رہائش گاہ کو قانونی کروانے کا عمل براہ راست عمران خان کی دیانت پر سوالیہ نشان ہے۔ کسی مہذب ملک میں کسی وزیر اعظم کی غیر قانونی رہائش گاہ اسی وقت جائز قرار دی جاسکتی تھی ، اگر اس علاقے کے تمام لوگوں کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جاتا۔ اسی طرح تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کیس اور بی آر ٹی پشاور کا معاملہ بھی عمران خان ، ان کی پارٹی اور حکومت کی دیانت پر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

عمران خان تقریر اور انٹرویو میں دلچسپ باتیں کرتے ہیں۔ وہ نیب کی خود مختاری کی گواہی بھی دیتے ہیں اور کابینہ میں خواجہ آصف کے خلاف معاملہ پر غور کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں مشکل و پیچیدہ معاملات کا ’آسان حل‘ بتا کر وہ عوامی سطح پر ضرور مقبول ہوئے ہیں لیکن یہ سادہ بیانی اسی وقت سیاسی مقبولیت کا باعث بنتی ہے جب عوام نے اس شخص کی حکمرانی میں اس سادگی کی بھاری قیمت ادا نہ کی ہو۔ ماضی میں لئے گئے قرضوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے آج بھی اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کی حکومت قرضے ادا کرنے کی وجہ سے عوام کو سہولتیں نہیں دے سکی۔ عمران خان کے اعتراف کے بغیر بھی عوام یہ جانتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے اڑھائی برس میں جو قرض لیا ہے وہ ماضی کے مجموعی قرض کا پچیس فیصد ہے۔ اور ابھی اس حکومت کے اڑھائی برس باقی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر جب عوام کو بتائیں گے کہ اس حکومت نے مدت پوری کی تو معیشت کی کیا حالت ہوگی تو انہیں اسے سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔


واپس کریں