کیا اپوزیشن تھک چکی ہے؟
سید مجاہد علی
سیاست پاکستان میں اہم ترین موضوع ہے ، اس لئے اہل پاکستان باقی مسائل کو نظرانداز کرکے اس حوالے سے رونما ہونے والی ہر پیش رفت کا دھیان رکھنے اور اس پر گفتگو کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پہلے مین اسٹریم میڈیا اس شوق کو مہمیز دینے کے لئے کافی تھا لیکن سوشل میڈیا کے اضافے نے سیاسی مباحث میں تیزی پیدا کردی ہے۔ اب دور کی کوڑی لانے اور قیاسات کا ڈھیر لگانا آسان ہوچکا ہے۔اس وقت اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان جمہوری تحریک کے نام سے اتحاد کرکے چونکہ حکومت گراؤ مہم کا آغاز کررکھا ہے، اس لئے فی الوقت ساری توجہ اس نکتہ پر مرکوز ہوچکی ہے کہ کیا پی ڈی ایم ختم ہورہی ہے۔ کیا بالآخر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا اختلاف اپنا رنگ دکھانے لگا ہے اور اتحاد میں شامل ان دونوں بڑی پارٹیوں میں اختلاف رائے نے اتحاد کے مقاصد اور مولانا فضل الرحمان کے خوابوں کو بکھیر دیا ہے۔ مولانا کے بارے میں یہ قیاس کرلیا گیا ہے کہ وہ چونکہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب نہیں ہوسکے اور عمران خان سے سخت ناراض ہیں، اس لئے وہ کسی بھی قیمت پر حکومت گرانے کے لئے باقی سب پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے بے چین تھے۔ وہ 2019 میں آزادی مارچ کے نام سے اسلام آباد میں دھرنا دے کر دیکھ چکے ہیں، اس لئے وہ سمجھ گئے ہیں کہ ملک کی دونوں بڑی پارٹیوں کو ساتھ ملائے بغیر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

چند جلسوں اور تند و تیز بیانات کے بعد بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک ’تعطل ‘ کا شکار ہوچکی ہے۔ اس تعطل یا وقفہ میں ہر شخص اپنی مرضی کا تجزیہ کرنے اور رائے قائم کرنے میں آزاد ہے۔ حکومت کے نمائیندے اس موقع سے بھرپور فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں اور اپوزیشن پارٹیوں کے احتجاج میں سست روی کو سرکاری حکمت عملی کی کامیابی کے طور دکھانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ اس مؤقف کے مطابق پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی نے استعفے دینے کی حکمت عملی سے صاف انکار کردیا ہے اور اب وہ ضمنی انتخابات کے علاوہ سینیٹ کے انتخابات میں شامل ہونے پر زور دے رہی ہے۔ گزشتہ روز جاتی عمرہ میں پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ پی ڈی ایم نے ضمنی انتخاب میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا ہے لیکن سینیٹ کے انتخابات میں شرکت کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مریم نواز کے بیان نے پی ڈی ایم کی ’فاتحہ‘ پڑھنے کے شوقینوں کو خوشی سے اچھلنے کا ایک نادر موقع عطا کیا ہے۔ لانگ مارچ کی تاریخ اور حکمت عملی کے بارے میں ایک سوال پر مریم کا کہنا تھا کہ’ پی ڈی ایم موسمی صورت حال اور کارکنوں کی تیاری کے مطابق ہی کوئی فیصلہ کرے گی‘۔ مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کے ان بیانات کو پی ڈی ایم کی پسپائی قرار دیا جارہا ہے۔

اس مؤقف کو اگر حکومت کی خواہش و مؤقف بھی مان لیا جائے تو بھی ملک میں ایسے دانشوروں کی کمی نہیں ہے جو کئی دوسرے حوالوں سے پی ڈی ایم کی جد و جہد کو ناکام قرار دینے کا تاثر اجاگر کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ اس رائے میں یہ طے کرلیا جاتا ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی تبدیلی اسٹبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر نہیں آسکتی۔ اس لئے اپوزیشن اتحاد کو اگر تحریک انصاف کے خلاف سیاسی محاذ آرائی میں کامیاب ہونا ہے تو کسی نہ کسی سطح پر اسٹبلشمنٹ کی اعانت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس رائے میں دوسرا اہم ترین نکتہ یہ شامل کیا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی دراصل آصف زرداری کے کنٹرول میں ہے اور وہ کبھی بھی سندھ حکومت سے ہاتھ دھونے یا سینیٹ میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانیں گے۔ نواز شریف کی طرف سے فوجی قیادت کے نام لینے کے بعد پی ڈی ایم کے احتجاج کو اسٹبلشمنٹ مخالف مہم بنانے کو بھی اس جد و جہد کی ناکامی کی بنیادی وجہ کہا جا رہا ہے۔

اس تصویر میں اس دلیل سے بھی رنگ آمیزی کی جاتی ہے کہ احتجاج سے کسی بھی حکومت کو گرانا ممکن نہیں ہوتا ۔ پی ڈی ایم کے قائدین نے مولانا فضل الرحمان کی باتوں میں آکر عجلت میں لانگ مارچ اور استعفوں کے فیصلے کئے ہیں جن ہر عمل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم یہ قیاس آرائیاں کرتے ہوئے ، یہ حقیقت فراموش کردی جاتی ہے کہ کسی بھی احتجاج یا تحریک کا جو مقصد زور شور سے بیان کیا جارہا ہو ، وہ ممکن ہے اس کا حقیقی ہدف نہ ہو۔ یعنی پی ڈی ایم نے تحریک انصاف کی حکومت ختم کرنے اور عمران خان کے استعفیٰ سے کم پر راضی نہ ہونے کا جو سخت گیر مؤقف اختیار کیا ہے ، ہو سکتا ہے وہ اس تحریک کا حقیقی مقصد نہ ہو بلکہ ان نعروں سے حکومت کو بدحواس کرنا یا اس خوف میں مبتلا کرنا ہو کہ اگر لانگ مارچ ہوگیا یا اگر واقعی اپوزیشن کے تمام ارکان نے استعفے دے دیے تو کیا ہوگا۔

کوئی حکومت اگر اپنے اقتدار کو لاحق خطرہ کے خوف میں مبتلا ہوجائے تو اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے سارے ارکان دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے جوابی وار کرنے کے لئے بے چین رہتے ہیں ۔ حلیف جماعتوں کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کے لئے مشکل اور غیر ضروری فیصلے کئے جاتے ہیں۔ اس بدحواسی میں ایک طرف حکومت ڈلیور کرنے میں ناکام ہونے لگتی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن کو عاجز کرنے کی کوشش و خواہش میں ایسی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں جن کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ جس طرح چند روز پہلے خواجہ محمد آصف کو گرفتار کرکے ایک سنگین غلطی کی گئی ہے۔ اس سے پہلے شہباز شریف جیسے مفاہمت پسند لیڈر کو جیل میں بند کرکے مریم نواز کو لیڈر بننے کا موقع فراہم کیا گیا۔ بلاشبہ مریم نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا اور قومی سیاسی منظر نامہ پر خود کو اہم لیڈر کے طور پر تسلیم کروالیا ہے۔ اسے گدی نشینی، خاندانی سیاست یا جذباتیت کہہ کر مسترد کرنے کی جیسی بھی کوشش کی جائے لیکن اب قومی سیاست میں مریم نواز کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔ وقت کے ساتھ تمام حلقے ان کی ’ضرورت‘ کو بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔

یہ سچائی شک و شبہ سے بالا تر ہے کہ اپوزیشن نئے انتخابات چاہتی ہے۔ پی ڈی ایم کا مؤقف تو یہی ہے کہ عمران خان مستعفی ہوں اور ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے فوری انتخاب منعقد کروائے جائیں۔ لیکن اس کی قیادت نے یقیناً اس امکان پر بھی غور کیا ہوگا کہ اگر فوری انتخاب نہ بھی ہوں تو 2023 کے انتخابات تک حکومت کو اس حد تک بدحواس کیا جائے کہ عمران خان دوسری مدت کے لئے عوام کی حمایت حاصل نہ کرپائیں۔ عمران خان کا کوئی وارث تحریک انصاف کو نہیں سنبھالے گا۔ ان کی شدید خواہش ہوگی کہ وہ دوسری مدت کے لئے بھی وزیر اعظم منتخب ہوسکیں۔ بے نظیر شہید کی برسی کے موقع پر آصف زرداری کی تقریر کا یہ فقرہ معنی خیز بھی ہے اور اپوزیشن کی حکمت عملی کا کچھ اشارہ بھی دیتا ہے کہ ’ یہ حکومت خود اپنے ہی بوجھ سے گر جائے گی‘۔ ہوسکتا ہے کہ اپوزیشن کی حقیقی حکمت عملی حکومت کے بوجھ میں اضافہ کرنا ہی ہو ۔ باقی سب اعلانات یا تو نعرے ہوں یا سیاسی حکمت عملی کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کئے جارہے ہوں۔

اس تناظر میں اب حکومتی نمائیندوں کے بیانات اور رد عمل پر نگاہ ڈالی جائے تو تصویر مزید واضح ہوجاتی ہے۔ وزیر خارجہ تسلسل سے بیان دے رہے ہیں کہ عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے ، اپوزیشن جو چاہے کرلے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید کا بیان ہوتا ہے کہ لانگ مارچ اسلام آباد آیا تو اس سے قانون کے مطابق نمٹیں گے۔ یا اب انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ فوج کے خلاف بیان دینے والوں کے خلاف بہتر گھنٹے کے اندر ایف آئی آر درج ہوگی۔ شبلی فراز مسلسل پی ڈی ایم میں انتشار اور اس کی ناکامی کی کہانی سناتے ہیں۔ پھر وزیر اعظم کی قیادت میں سارے وزیر کورس کے انداز میں بیان جاری کرتے ہیں: ’این آر او نہیں ملے گا‘۔ اس بیان بازی سے اپوزیشن سے زیادہ حکومت کی پریشانی ظاہر ہوتی ہے۔ کوئی بھی سیاسی تحریک اگر یہ مقصد حاصل کررہی ہے تو اسے اور کیا چاہئے؟

پی ڈی ایم کی ناکامی کی سب سے بڑی نشانی یہ بتائی جارہی ہے کہ یہ استعفے دینے کے دعوے کرتے ہیں لیکن اب ضمنی اور اس کے بعد سینیٹ انتخاب میں شریک ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔ حالانکہ اس حکمت عملی میں آخر کیا برائی ہے۔ اپوزیشن نے کبھی انتخابی عمل سے انکار نہیں کیا ۔ اس کا احتجاج دھاندلی کے خلاف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کو عوام پر ناجائز طور سے مسلط کیا گیا ہے۔ اپوزیشن کے دباؤ میں وزیر اعظم اور ان کے ساتھی ایسے بیان جاری کرتےہیں جو خود ان کے لئے سیاسی طور سے مشکلات کا سبب بنیں گے۔ ضمنی انتخاب یا سینیٹ انتخاب میں حصہ لے کر اپوزیشن کا یہ بنیادی مطالبہ ہرگز متاثر نہیں ہوگا کہ سیاست میں عسکری اداروں کی غیر آئینی مداخلت بند ہونی چاہئے۔ بلکہ کسی سیاسی تحریک نے پہلی بار سیاست میں فوج کی دلچسپی کو موضوع گفتگو بنا کر یہ لائن کھینچ دی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی سیاسی انتظام پر فوجی اسٹبلشمنٹ کا تصرف محدود ہوگا۔سیاسی احتجاج سے شاید موجودہ حکومت کو گرایا نہیں جاسکتا لیکن شاید یہ اس کا بنیادی ہدف بھی نہیں ہے۔ نئے انتخابات جب بھی ہوں تحریک انصاف کی حکومت اگر عوام کو مطمئن کرنے کا اہتمام نہ کرسکی تو کرپشن کے نعرے اس کی دوسری انتخابی کامیابی کا سبب نہیں بنیں گے۔ پاکستانی سیاست میں قبل از وقت انتخابات کا امکان موجود رہے گا ۔لیکن اگر انتخاب اپنے وقت پر بھی ہؤا تو بھی آنے والا ہر لمحہ تحریک انصاف کی سیاسی حیثیت کو متاثر کرے گا۔
واپس کریں