عمران خان نے انتقام لے لیا، اب وقت ان سے حساب لے گا
سید مجاہد علی
چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں وزیر اعظم عمران خان نے ثابت کردیا کہ وہ انتقام لینا جانتے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی 7 مسترد ووٹوں کی وجہ سے سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ آج اتنے ہی مسترد ووٹوں سے وہ چئیرمین بننے سے رہ گئے۔ صادق سنجرانی کو عملی طور سے یوسف رضا گیلانی سے ایک ووٹ کم ملا لیکن وہ 49 کے مقابلے میں 48 ووٹ لے کر بھی جیت گئے۔ شاید سیاست اسے ہی کہتے ہیں۔
اس کامیابی کے بعد عمران خان کو بتانا چاہئے کہ چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں ووٹ خریدنے کا بھا کیا رہا ہے۔ کیوں کہ اس بار تو وہ خود بولی لگانے والوں میں شامل تھے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم ، سینیٹ کے انتخاب کو ووٹوں کی خرید و فروخت کے تناظر میں بکرا منڈی سے تشبیہ دیتے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں پارٹی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اب چئیرمین سینیٹ کے لئے بولی لگائی جارہی ہے اور تحریک انصاف کے ووٹ خریدنے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔ تاہم وزیر اعظم کے علاوہ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بار بار واضح کیا تھا کہ کسی بھی حد تک جانا پڑے اور کوئی بھی ہتھکنڈا اختیار کرنا پڑے، صادق سنجرانی کو ہر صورت کامیاب کروایا جائے گا۔ امور حکومت کو سمیٹ کر ایک طرف رکھتے ہوئے عمران خان اور ان کے سارے معاونین سر دھڑ کی بازی لگا کر اس امتحان میں سرخرو ہوئے ہیں۔

سینیٹ انتخاب میں خفیہ کی بجائے اوپن ووٹنگ کی بحث سے لے کر روپے دے کر ووٹ خریدنے کے الزامات اور گرما گرم شواہد کی بھرمار میں البتہ عمران خان قائدانہ کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ جس وقت اوپن ووٹنگ کا معاملہ سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی صورت میں زیر غور تھا تو ایک موقع پر وزیر اعظم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اوپن ووٹنگ سب کے لئے بہتر ہے ورنہ بعد میں اپوزیشن ہی روئے گی۔ شاید عمران خان نے یہ پیش گوئی آج ہی کے دن کے لئے کی تھی۔ آج اپوزیشن واقعی سخت نالاں اور غصے میں ہے کہ اس کا امید وار اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ناکام قرار دیا گیا ہے۔ کیوں کہ صدر عارف علوی کے مقرر کردہ پریزائیڈنگ افسر سید مظفر حسین شاہ نے ایسے سات ووٹ مسترد کرنے کا حکم دیا تھا جن پر ان کے خیال میں ووٹ دینے والے سینیٹرز نے بیلیٹ پیپر پر خالی جگہ پر مہر لگانے کی بجائے یوسف رضا گیلانی کے نام پر لگا دی تھی۔ اس لئے قواعد کی اس تشریح کے مطابق جو مظفر حسین شاہ کو کرنا ہی تھی، یہ ووٹ منسوخ کردیے گئے اور بظاہر کم ووٹ لینے والا کامیاب ٹھہرا۔

اب اپوزیشن کے سیاست دان اور صحافی ووٹ دینے کے طریقہ کیبارے میں آویزاں کئے گئے ہدایت نامہ کی عبارت سے لے کر انتخابی قانون میں درج الفاظ تک سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ پریزائیڈنگ افسر کا فیصلہ غلط تھا۔ اگر مہر اس خانے میں لگی تھی جس میں کسی امید وار کا نام لکھا ہا تھا، تو اسے جائز ووٹ ہی سمجھنا چاہئے۔ یہی دلیل یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ سینیٹر فاروق نائیک نے بھی دی تھی۔ ان کا استدلال تھا کہ مسترد کئے گئے کسی بیلیٹ پیپر پر لگی ہوئی مہر اس لائن کو عبور نہیں کرتی جو امیدوار کے نام کی تخصیص کرتی ہے۔ اس لئے اس غلط فہمی کا کوئی امکان نہیں ہے کہ متعلقہ سینیٹر کسے ووٹ دینا چاہتا تھا۔ لیکن دلیل وہاں کام آتی ہے جہاں قاعدہ قانون پر عمل مقصود ہو۔ اگر بقول عمران خان منڈی لگی ہو اور لین دین روپے اور لالچ کی بنیاد پر ہورہا ہو تو ایسے کسی موقع کے لئے پہلے سے تیاری مکمل کر لی جاتی ہے۔ عمران خان کے معاونین تیار تھے اور پریزائیڈنگ افسر کو فیصلہ دینے میں کوئی دشواری نہیں تھی۔ صادق سنجرانی کامیاب قرار پائے۔ کیا ہا کہ انہیں سینیٹ کے ارکان کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ ضروری یہ ہے کہ ووٹنگ کے ایک مخصوص عمل کے بعد طے شدہ طریقہ کے مطابق ان کے ووٹ یوسف گیلانی سے زیادہ قرار دیے گئے ہیں۔ اپوزیشن شور مچارتی رہے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چن گئیں کھیت۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سینیٹ انتخابات سے متعلق روپے کے لین دین، رشوت ستانی اور بکا اراکین اسمبلی کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات عام کی گئی ہیں کہ اب یہ عمران خان پر پوری قوم کا قرض ہے کہ وہ ایمانداری سے بتائیں کہ انہوں نے اس بار سینیٹرز کا ضمیر خریدنے کے لئے بکرا منڈی میں کیا بھا لگایا تھا۔ انتخابی شفافیت کا حوالہ تو بہت دیا جاتا ہے لیکن ہر انتخاب کے بعد اس کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹتاچلا آرہا ہے۔ ابھی ڈسکہ کے ضمنی انتخاب پر چھائی دھند چھٹی نہیں تھی کہ سینیٹ انتخاب میں یوسف رضا گیلانی کی جیت نے مارکیٹ کے نئے ٹرینڈ کا پتہ دیا اور عمران خان ہاتھ ملتے رہ گئے۔ پوری تیاری کے ساتھ اس بار جو تماشہ ہا ہے ، اس کی کامیابی کا سہرا سو فیصد عمران خان کے سر باندھا جائے گا۔ انہوں نے اپنی قوت خرید یا بھا تا کی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ عمران خان اور ان کے وزیروں کے ٹوئٹ خواہ کتنا ہی چنگھاڑتے رہیں، وہ اس سچ کو چھپا نہیں سکتے کہ سینیٹ میں اقلیت میں ہونے کے باوجود حکومتی اتحاد کے امید وار نے اکثریتی اپوزیشن اتحاد کے امید وار کو کیسے شکست دی؟

ضمیر بیدار ہونے کا جو نعرہ اگست 2019 میں صادق سنجرانی کو عدم اعتماد سے بچانے کے بعد بلند کیا گیا تھا ، وہ اب اپنی مارکیٹ ویلیو کھو چکا ہے۔ اب یہ نعرہ خواہ کتنے ہی زور سے بلند کیا جائے، عمران خان کا انتہا پسند حامی بھی اسے تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے ارکان اسمبلی کے لالچ اور قابل فروخت ہونے کے بارے میں ایسے پر جوش دلائل دیے ہیں کہ اب دوست دشمن سب ہی جانتے ہیں کہ کوئی سینیٹر کسی فائدے کے بغیر ایسی معمولی غلطی نہیں کرسکتا جس کا براہ راست فائدہ ایک خاص فریق کو پہنچتا ہو۔ یوں بھی 342 ارکان کی قومی اسمبلی میں اگر روپوں کے زور پر یوسف رضا گیلانی سرکاری امید وار کو ہرا کر سینیٹر منتخب ہوسکتے ہیں تو 98 ارکان کی سینیٹ میں وسائل اور وعدے زیادہ بھرپور طریقے سے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ اس ہتھکنڈے کے بغیر کوئی سینیٹر اپنے دھڑے کے امیدوار کو ناکام نہیں کروائے گا۔ اس بار حکومت کا ریٹ اپوزیشن سے بہتر رہا ہوگا کیوں کہ اس نے بولی کی تیاری پہلے سے کی ہوئی تھی۔

یہ دلیل بھی بے وزن ہوچکی ہے کہ خفیہ نمبروں سے فون کرکے بعض پراسرار ذرائع سینیٹرز کو وفاداری تبدیل کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ اسی لئے 2019 میں صادق سنجرانی اپوزیشن کی بھاری بھر کم اکثریت کے باوجود سرخرو ہوئے تھے اور اسی وجہ سے آج بھی انہوں نے اپنے دھڑے کی عددی کمتری کے باوجود اکثریت حاصل کر لی ہے۔ فون والوں کی بات مان کر ووٹ دینے والے اس اقرار کا معاضہ لینا نہیں بھولتے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمران خان کے بقول اپوزیشن، تحریک انصاف کے ارکان کو بدعنوانی سے کمائی ہوئی دولت میں سے ادائیگی کرتی ہے لیکن سرکار ایسے ہتھکنڈے میں سرخرو ہو تو اس کا بوجھ عوامی خزانے کو ادا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ایسے حریص ووٹرز کا منہ بھرنے کے لئے سرکاری مر اعات فراہم کی جاتی ہیں ۔۔۔ کوئی عہدہ، کوئی لائسنس، کوئی کاروباری رعایت یا پھر ترقیاتی فنڈز کی کسی قسم میں بالواسطہ حصہ داری۔۔۔ کیا کچھ حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ اس کا حساب عمران خان آج نہ بھی دیں تو انہیں اپنی باقی ماندہ سیاسی زندگی میں ہر مرحلے پر اس سوال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آج سینیٹ میں چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے عہدوں کے انتخاب میں صورت حال بہت دلچسپ تھی۔ سینیٹ کے کل 98 ارکان حاضر تھے۔ سرکاری سینیٹرز کی تعداد 47 اور اپوزیشن پارٹیوں سے وابستہ سینیٹرز کی تعداد 51 تھی ۔ سب سینیٹرز نے پورے ملی شعور کے ساتھ انتخاب میں حصہ لیا۔ کامیاب ہونے والے چئیرمین صاد ق سنجرانی کو 48 ووٹ ملے۔ یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ مل سکے۔ 8 ووٹ مسترد ہوئے۔ ایک سینیٹر نے انصاف کرتے ہوئے دونوں امیدواروں کے نام پر مہر لگادی ۔ 7 ووٹروں نے مہر تو یوسف رضا گیلانی کے خانے میں ہی لگائی لیکن وہ جزوی طور سے نام کے اوپر تھی جس کی وجہ سے ووٹ مسترد ہوئے۔ اس سے تھوڑی ہی دیر بعد ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں سرکاری امیدوار مرزا محمد آفریدی کو 54 ووٹ ملے اور ان کے مد مقابل اپوزیشن کے امید وار مولانا عبدالغفور حیدری کو 44 ووٹ مل سکے۔ کوئی ووٹ مسترد نہیں ہا۔

پاکستان میں تو کوئی یہ نہیں مانے گا کہ چئیرمین سینیٹ کے لئے ووٹ دیتے ہوئے آٹھ سینیٹرز سے غلطی ہوگئی اور اس طرح سرکاری امید وار جیت گیا۔ یہ غلطی قصدا کی جانے والی کارروائی ہے تاکہ وہ مقصد حاصل کیا جاسکے جو حکومت اور اس کی پشت پناہ ریاست نے متعین کیا تھا۔ ڈپٹی چئیرمین کے عہدے پر انتخاب کو چونکہ زیادہ اہمیت نہیں دی گئی تھی لہذا کوئی ووٹ بھی ضائع نہیں ہا اور وو ٹوں کی تعداد سے سرکار کی برتری بھی واضح ہوگئی۔ یعنی اپوزیشن کے کم از کم 7 سینیٹرز نے ڈپٹی چئیر مین کے لئے سرکاری امیدوار کو ووٹ دیا۔ یوسف رضا گیلانی کے معاملے میں چونکہ دبا زیادہ تھا۔ ہوسکتا ہے کہیں کسی مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر قسمیں وغیرہ بھی کھائی گئی ہوں لہذا ووٹ ضائع کرکے یہ مقصد حاصل کیا گیا ۔

انتخاب کے بعد وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اعلان کیا ہے کہ اس ناکامی کے بعد پی ڈی ایم دفن ہوگئی ہے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اپوزیشن کی تحریک کب دفن ہوگی لیکن ایک بات واضح ہے کہ اس انتخاب سے تحریک انصاف کا دیانت داری کا ڈھونگ اور شفافیت پر مبنی نظام استوار کرنے کے دعوے ضرور دفن ہوگئے ہیں۔ دوست دشمن سب پر یکساں طور سے واضح ہوگیا ہے کہ عمران خان پاکستان کے عام سے سیاست دان ہیں جو اقتدار کے لئے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں ، کوئی بھی سودے بازی کرسکتے ہیں اور کسی بھی اصول کو قربان کرسکتے ہیں۔ آج سینیٹ میں ثابت ہا کہ عمران خان کا نیا پاکستان اتنا ہی ناقص اور فرسودہ ہے، جتنا وہ پرانے پاکستانی نظام کو قرار دیتے ہیں۔ عمران خان نے خود کو اپنے حریف سیاسی لیڈروں سے زیادہ ہوشیار ثابت کرنے اور اقتدار کو عارضی سہارا دینے کے لیے جو کھیل کھیلا ہے، اسے گندی سیاست اور شکست خوردہ ذہنیت کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا۔

بشکریہ ' کاروان' ناروے
واپس کریں