سوشلزم اور کمیونزم کے بارے میں مغالطہ اور اس کی تشریح
ظفروانی
ظفر محمود وانی

موجودہ دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کی خونخوار گرفت کی وجہ سے متبادل ممکنہ نظاموں کے بارے میں باقاعدہ طور پر منصوبہ بند طریقے سے میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عوام کے ذہنوں میں غلط فہمیاں اور ابہام پیدا کرنے کی باقاعدہ طور پر ایک مستقل مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے تحت سرمائے کی غیر متناسب تقسیم، ایک انتہائی محدود طبقے تک سہولیات کے ارتکاز اور انسانوں کی اکثریت پر مسلط کردہ ظالمانہ محرومیوں کو خدا کی رضا اور منشا بتایا جاتا ہے، اور ان محروموں کے لیے بعد از مرگ مکمل تلافی کی بشارت سے ان کی موجودہ محرومیوں کی تشفی کی کوشش کی جاتی ہے، بلکہ ان کے دنیاوی دکھوں، تکالیف اور محرومیوں کو ان کے سامنے ایک نیکی کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ گویا دنیاوی وسائل کے جائز حصے اور اس کے انسانی حق سے محرومی کی صورت دراصل ایک اچھائی یا نیکی ہے اور اس محرومی پر سوال اٹھانے کے بجائے ذاتی محرومیوں یا آلام پر صبر کی تلقین کی جاتی ہے، یہ نہیں بتایا جاتا کہ اگر اپنی محرمیوں اور تکالیف پر خاموشی ایک اچھی بات ہے تو اس رویے کو بڑے پیمانے پر قومی طور پر حکمرانوں اور امرا کے ساتھ مل کر کیوں نہ عمل میں لایا جائے تاکہ اس طرح ایک تو ان آلام کا حجم تقسیم ہونے سے کچھ کم ہو جائے گا دوسرے ان حاکم اور مقتدر طبقات کو بھی اس نیکی میں سے برابر کا حصہ ملے گا۔
کہیں یہی کام، وطنیت، قومیت اور نسلی و جغرافیائی تعصبات پیدا کر کے اور ان تعصبات کی حوصلہ افزائی کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہی رویہ ہر اس متبادل نظام کے بارے میں اپنایا جاتا ہے جس سے ان خون آشام درندوں کی شکار گاہ کے نظام میں کسی مثبت تبدیلی کا شائبہ تک ہو۔دنیا کے عوام کی اکثریت کو باقاعدہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تعلیم سے دور اور محروم رکھا جاتا ہے۔ تیسری دنیا اور چوتھی دنیا کے محروم اور غریب ترین عوام کی اکثرت کے لیے تعلیم اور علاج تک کی نجکاری کر کے عوام کی اکثریت کو اس بنیادی انسانی حق سے بدستور محروم رکھے جانے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے، شعور کیونکہ بنیادی طور پر تعلیم ہی کی ایک صنعت یا پراڈکٹ ہے ، کا راستہ روکنے کے لیے نجکاری کے ہتھیار سے عوام کی اکثریت کو تعلیم اور شعور سے محروم رکھنے کے مسلسل اقدامات عمل میں لائے جاتے ہیں اور اس کوشش میں مقامی استحصال کاروں، مسلط کردہ حاکموں کو دنیا میں بڑے عالمی طاقتور سرمایہ داروں کی پوری مدد اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔
جہاں ان کے اس خونخوار اور خون آشام نظام کے خلاف کسی بھی طرف سے کسی متبادل نظریے اس کی تشریح کی کوشش کا شائبہ بھی ہو ، اس کے خلاف میڈیا، پروپگنڈا سمیت تمام مروجہ ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے باقاعدہ جنگ چھیڑ دی جاتی ہے، اب چاہے کمیونسٹ، سوشلسٹ روس ہو، کیوبا ہو، وینزویلا ہو یا اسلامی انقلاب کا حامل ایران، ان کے نظریے کے خلاف کسی نہ کسی بہانے جنگ چھیڑ دی جاتی ہے اور جس اخلاقیات کے یہ اپنے آپ کو علم بردار کہتے اور جتلاتے ہیں ، کھلے عام ان تمام اخلاقی اصولوں کی کھلی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں اور ڈھٹائی سے اپنے ان ظالمانہ رویوں اور استحصال و ناجائز تجاوز کو بھی اخلاقیات کا تقاضا اور معیار ہی بتایا جاتا ہے۔
موضوع زیر بحث کی طرف آتے ہوئے صرف سوشل ازم کی بنیادی خصوصیات ، اس کے معاشرتی اور عوامی اطلاق پر ہی بات کو مرتکز کرتے ہیں۔ کمیون ازم ہوتا ہی مقامی مسائل کے متعلق ہے۔ یہ کوئی خود مختار مملکت نہیں ہوتی بلکہ یہ عام طور پر دیہات کے لیے قابل عمل ماڈل ہے، کسی بھی ملک کی سو فیصد آبادی دیہات میں نہیں رہا کرتی، بلکہ عوام کی ایک بہت بڑی تعداد شہروں میں بھی مقیم ہوتی ہے اور شہروں کے لیے وہاں کے شہریوں کی ضروریات کے لحاظ سے ایک دوسرا طریقہ یا ماڈل استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ عام طور پر بلاک کی طرح کام کرتا ہے تاکہ شہری ماحول کے لحاظ سے اور اس کے مطابق، یہاں کے باسیوں کو ممکنہ حد تک بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں اور ان کے کام اور تعلیم و تربیت کے لیے قابل عمل اور قابل رسائی نظام قائم کیا جا سکے۔
بنیادی طور پر کمیونزم ایک افقی ماڈل ہوتا ہے جس میں ان کے کھیت، ورکشاپس اور کارخانے بھی اس کمیون یا دیہاتی سوسائٹی کا ایک لازمی حصہ ہوتے ہیں اور سوشل ازم کا شہری ماڈل عام طور پر عمودی ہوتا ہے تاکہ محدود میسر جگہ میں عوام کے مفاد کے لیے بہترین منصوبہ بندی سے زیادہ سے زیادہ مفاد اور سہولت حاصل کی جا سکے۔ یعنی بنیادی مقصد ماحول اور وسائل کی مطابقت سے عوام کو ممکنہ حد تک بہترین، یکساں سہولیات اور مواقع کی فراہمی ہوتا ہے۔ایک سوشلسٹ مملکت میں عوام کے مسائل کے حل اور ان کو ممکنہ حد تک سہولیات کی فراہمی کے لیے منصوبہ بند قسم کی حکمت عملی جو دستیاب وسائل اور تکنیک و علوم کی مدد سے اپنے مقاصد حاصل کرتی ہے۔ پورے ملک، اس کے عوام کی ترقی و بہبود، وسائل کی مقدار اور معیار میں اضافے کے لیے منصوبہ بندی، شعبہ ہائے صحت عامہ، علوم و تحقیق، دفاع وغیرہ بنیادی طور پر اس نظام میں حکومت کے کام ہوتے ہیں۔ لہذا اس نظام کے کسی ایک جز کو علیحدہ سے دیکھنے یا تجزیہ کرنے کے بجائے اسے کل کے ایک حصے کے طور پر دیکھنا اور اس کل اور اس کے طریقہ کار کو سمجھنا اور تجزیہ کرنا، زیادہ مثبت اور بہتر طریقہ کار ہو گا۔

واپس کریں