پیپلز پارٹی کو مفاہمت اور نواز شریف کو لڑنے میں فائدہ ہے
سید مجاہد علی
حسب توقع عوامی نیشنل پارٹی نے پی ڈی ایم کا ’شو کاز نوٹس ‘ ملنے کے بعد پاکستان جمہوری تحریک چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ سیاست میں پیپلز پارٹی کا اسٹیک زیادہ ہے، اس لئے وہ ایسا ہی فیصلہ کرنے میں کچھ وقت لگائے گی۔ ہوسکتا ہے کہ پارٹی قیادت کو خیرخواہوں سے مشورہ کرنے میں کچھ وقت درکار ہو۔ تاہم موجودہ طرز عمل کے ساتھ پی ڈی ایم کی دونوں بڑی پارٹیاں ساتھ نہیں چل سکتیں۔سوال ہے کہ پی ڈی ایم میں پھوٹ پڑنے اور دو پارٹیوں کے نکلنے سے کیا تحریک کمزور ہوجائے گی۔ یا جیسا کہ وزیر اعظم اور ان کے وزرا بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اپوزیشن کے احتجاج کا غبارہ پھٹ چکا ہے اور اب تحریک انصاف کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ موجودہ صورت حال میں پی ڈی ایم ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کے ماحول میں حکمران جماعت کے لئے زیادہ مؤثر خطرہ ثابت نہیں ہوسکتی۔ لیکن جس مقصد سے پاکستان جمہوری تحریک کا قیام عمل میں آیا تھا، اسے بہر حال تقویت حاصل ہوگی۔ لہذا سوال یہ نہیں ہونا چاہئے کہ کیا پی ڈی ایم کی فعالیت ختم ہوگئی ہے بلکہ یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ کیا ملک میں آئینی جمہوریت کی جد و جہد اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔

جو بھی یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلاف کے نتیجہ میں اسٹبلشمنٹ کے سیاسی اثر و رسوخ کی جیت ہوئی ہے اور اپوزیشن کی سیاست ہار گئی ہے، وہ ضرور یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ پی ڈی ایم ناکام ہوگئی ہے۔ کیوں کہ یہ تجزیہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ نے پی ڈی ایم میں شامل اپنی ’ہمدرد‘ پارٹیوں کے ساتھ مل کر اس پوزیشن اتحاد کو ختم کردیا ہے تاکہ 2018 میں ہونے والے انتخابات کے نتیجہ میں برسر اقتدار آنے والی حکومت کو کام کرنے کا موقع مل سکے۔ یہ اخذ کرتے ہوئے البتہ چند باتیں تسلیم کرلی جاتی ہیں۔ ایک تو یہی کہ اپوزیشن کا یہ الزام درست ہے کہ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کو انتخابی دھاندلی کے ذریعے ملک پر مسلط کیا گیا تھا۔ دوسرے یہ کہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کا کردار کسی بھی شک و شبہ سے بالا ہے۔ موجودہ سیاسی بحران یا انتشار میں اس تجزیہ میں یہ اضافہ بھی کیا جاتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی مخالفت کرنے والی کوئی سیاسی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی۔

واضح رہے عام طور سے یہ نتائج وہی عناصر اخذ کررہے ہیں جو تحریک انصاف کے حامی ہیں اور اس حوالے سے سیاست میں عسکری اداروں کی مداخلت کو قابل قبول طریقہ سمجھتے ہیں کیوں کہ اس وقت عسکری اسٹبلشمنٹ بظاہر تحریک انصاف کی حمایت کررہی ہے۔ یہ صورت حال اسٹبلشمنٹ کی سیاسی ترجیح بدلنے کے ساتھ تبدیل ہوسکتی ہے۔ البتہ اس نتیجہ تک پہنچنے والے یا عوام کو یہ باور کروانے والے مبصرین و دانشوروں کا ایک بہت بڑا گروہ ایسا بھی ہے جو ملکی مسائل کو صرف اسٹبلشمنٹ کی ’حب الوطنی‘ کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق سیاست دان بوجوہ ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ اس لئے عسکری قیادت کا ان پر نگاہ رکھنا اور انہیں قومی مفاد کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے روکنا وسیع تر قومی مفاد میں ہے۔ بدنصیبی سے اس وسیع قومی مفاد کی توضیح کرتے ہوئے ملک میں نافذ آئین کے تقاضوں یا ضروریات پر غور کرنے کی حاجت محسوس نہیں کی جاتی۔ سیاست دانوں کو جن عوارض کی وجہ سے خود مختارانہ حکمرانی کے قابل نہیں سمجھا جاتا ، ان میں مالی بدعنوانی سر فہرست ہے۔

قارئین جانتے ہیں کہ ملکی سیاسی تاریخ میں یہ نسخہ ہر دور میں برتا گیا اور تیر بہدف رہا۔ البتہ عمران خان نے جدید میڈیا کے ذریعے اس الزام کو ’سائنس ‘بنا کر اپنی پوری سیاست جسے وہ نظریہ یا ویژن بھی کہتے ہیں، اس ایک نکتہ پر استوار کی۔ ملکی معاملات چلانے میں تحریک انصاف کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ نعرہ بھی ہے۔ عمران خان نے اپنی سیاسی زندگی میں دوسروں کو الزام دینے اور نعرے لگانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ اقتدار ملنے کے بعد بھی وہ یہ طرز عمل ترک نہیں کرسکے۔ ان کا خیال ہے کہ وہ اگر اپوزیشن لیڈروں کو دباؤ میں رکھیں گے تو امور حکومت خود بخود طے پاتے رہیں گے اور عوام کو بالآخر اس کے فوائد ملنے لگیں گے۔ وہ شاید اب بھی پوری دیانت داری سے یہی سمجھتے ہیں کہ سول بیورو کریسی معاملات کو درست طریقے سے چلانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، لیکن مفاد پرست سیاسی لیڈر اسے کام نہیں کرنے دیتے۔ یہ وجہ تھی کہ ان کے متعدد نعروں میں سے ایک یہ بھی رہا ہے کہ اگر اوپر لیڈر ایماندار ہو تو سارا نظام درست کام کرنے لگتا ہے۔ قباحت صرف یہ ہے کہ ان کا یہ اندازہ اور تفہیم بے بنیاد ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہےکہ انہوں نے اڑھائی برس حکومت کرنے کے بعد بھی یہ نہیں سیکھا کہ سیاسی، مالی، سفارتی اور انتظامی امور کو درست رکھنے کے لئے وزیر اعظم کو ہر شعبہ میں قابل اعتماد اور اہل لوگوں کو متعین کرنا پڑتا ہے۔ عمران خان ایک اچھی ٹیم بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نعروں اور ہوس اقتدار کی سیاست کرنے والے میں اچھی سیاسی و انتظامی ٹیم بنانے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور اسے اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ اسے متعدد معاملات میں مفاہمت سے کام لینا پڑتا ہے۔ جیسا کہ مرکز اور پنجاب میں اقتدار کے لئے حلیف جماعتوں کو مطمئن کرنے کے علاوہ اسٹبلشمنٹ نواز عناصر کو مناسب نمائیندگی دینا بھی عمران خان کی سیاسی مجبوری رہی ہے۔ یہ بات بہت بار کہی جاچکی ہے لیکن جب اقتدار ہی مطمح نظر ہو تو ایسی خامیوں کی نشاندہی کو دراصل مخالفین کا حسد سمجھا جاتا ہے۔ عمران خان بدستور وزیر اعظم رہنے کے لئے جوڑ توڑ کی کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اپوزیشن نے پی ڈی ایم کے ذریعے جب ان پر دباؤ میں اضافہ کیا تو وہ حلیفوں اور اسٹبلشمنٹ کی طرف مزید جھکنے اور ہر مطالبے ماننے پر مجبور دکھائی دینے لگے۔ اسے عمران خان کی سیاسی ’مصلحت پسندی‘ کہا جاسکتا ہے لیکن اسی راستے پر چلتے ہوئے ماضی میں سیاسی لیڈروں نے آئینی جمہوری انتظام کے راستے میں کانٹے بچھانے کا اہتمام کیا تھا ۔ اور جب کسی بھی لیڈر نے مزاحمت کی کوشش کی تو اسے میمو گیٹ یا ڈان لیکس وغیرہ کی صورت میں اس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔

یہی وجہ ہے کہ مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی ایک کھیپ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کے کردار کو نہ صرف جائز و ضروری سمجھتی ہے بلکہ اسے ملک کو سیاست دانوں کی بداعمالیوں سے بچانے کے لئے بھی اہم قرار دیتی ہے ۔ ان تجزیہ نگاروں کے نزدیک ملکی مفاد کسی ایسی غیر مرئی شے کا نام ہے جس کی حفاظت کے لئے آئین کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے ہمہ وقت عسکری قیادت کی سرپرستی درکار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ کے جلسہ میں جب نواز شریف نے پہلی بار آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لے کر انہیں ملکی حالات اور جمہوری کجی کا ذمہ دار قرار دیا تو کہیں اس بیان کو ملک دشمنی سے محمول کیا گیا اور کہیں اسے نواز شریف کی مجبوری بتایا گیا۔ اب تو یہ بات تواتر اور تسلسل سے کہی جاتی ہے کہ نام بنام عسکری قیادت پر الزام لگا کر نواز شریف نے خود ہی اپنی سیاست کو دفن کرلیا ہے۔

یہ تجزیہ کرنے والے درحقیقت نواز شریف یا پی ڈی ایم کے اس مؤقف کی تائد کرنے کا سبب بنتے ہیں کہ عسکری قیادت ناجائز اور غیر آئینی طور سے سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی ہے اور منتخب لیڈروں کو اپنی صوابدید کے مطابق کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ بلکہ اب صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اسٹبلشمنٹ صرف ان عناصر کو انتخابات میں کامیاب ہونے کی ’اجازت‘ دیتی ہے جو اس کے اختیار کو آئینی ضرورت سے بھی زیادہ مقدس تسلیم کرتے ہوں۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو پی ڈی ایم اور نواز شریف اپنے مقصد میں کامیاب رہے ہیں۔ ان تبصروں کی روشنی میں پی ڈی ایم کی تحریک نے کم از کم یہ ثابت کردیا ہے کہ کسی بھی سیاسی تحریک یا پارٹی کو اس وقت تک کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک وہ اسٹبلشمنٹ کے حق حکمرانی کی غیر تحریری بیعت کا اقرار نہ کرلے۔ پی ڈی ایم کا انتشار اگر سیاست میں اسٹبلشمنٹ کے حتمی اختیار کو نہ ماننے کی وجہ سے سامنے آیا ہے تو بھی مرتے مرتے یہ تحریک اس ایک نکتہ کو بہت واضح اور دو ٹوک انداز میں عوام کے سامنے رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہے کہ ملک میں اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی جب تک منتخب لیڈروں کو مکمل اختیار کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہ ملے ۔ اور اسٹبلشمنٹ کی سیاسی ہوس کے ہوتے یہ کام نہیں ہوسکتا۔

پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے حوالے سے جو حکمت عملی اختیار کی اور اسے احتجاج سے مفاہمت کے راستے پر گامزن کرنے کی جو کوشش کی گئی، اس کی وجہ سے اپوزیشن کا یہ احتجاج بظاہر ناکام ہوچکا ہے ۔ جمہوریت میں لیکن بالآخر عوام کا ووٹ ہی حتمی فیصلہ کرتا ہے۔ اگر اس انتشار سے عوام کی اکثریت اسٹبلشمنٹ کے ہتھکنڈوں سے آگاہ ہوئی ہے تو مستقبل کے کسی بھی نئے انتخاب میں اس آگاہی کا اظہار دیکھنے میں آئے گا۔ پیپلز پارٹی کے حجم اور سندھ میں حکومت کی مجبوری کی وجہ سے آصف زرداری کے لئے شاید مفاہمت ہی کا راستہ مناسب اور درست ہوگا۔ لیکن نواز شریف کو ایسی کوئی مجبوری لاحق نہیں ہے۔ ان کے لئے ڈٹے رہنے میں ہی فائدہ ہے۔اب تو صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس چومکھی میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کتنا سفر طے کرتے ہیں۔ یا بیچ منجھدار ان کا سانس بھی پھولنے لگے گا۔


بشکریہ کاروان
واپس کریں