دین کا پیغام اور متشدد روئیے
ظفروانی
ظفر محمود وانی
طویل وقت گزرنے کے ساتھ مذاہب کا پیغام پیوریفائی یعنی مزید خالص اور مرتکز ہوا، یا ڈیلیوشن یاتحلیل کا شکار ہے ؟ جس طرح ہم مزہبی جاہلیت ، وحشت اور نفرت و تفرقہ بازی و انتہا پسندی کا شکار بنتے جا رہے ہیں ، اور بہتری کے بجاے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان قباہتوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، تو ان حالات میں کون سی طاقت اب اصل اور خالص دین اور قومی اتحاد و وحدت ملی و دینی کی طرف رجوع کروائے گی ,جبکہ امت پچھلے چودہ سو سال سے اللہ تعالی کی کتابِ ہدایت قران مجید اور اس کی مجسم تشریح یعنی سنت نبوی کی حامل ہے لیکن ہم اور ہمارا معاشرہ، ان واضع ہدایات کے باوجود اخلاقی اور سماجی طور پر انحطاط کا شکار ہے ۔ کیوں، یہ لمحہ فکریہ ہے اور اب تو یہ عالم ہے کہ ہمارے علما بھی مایوسی کا شکار ہو کر کبھی دجال کی آمد کے ذکر اور کبھی قرب قیامت کی نشانیوں کے زکر میں پناہ ڈھونڈتے دکھائی دے رہے ہیں، اور کبھی مثبت مکالمے کے بجاے معاشرے میں تشدد کے زریعے تحفظ دین کی طرف مائل کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔

یورپی یونین کی طرف سے حالیہ پابندیوں کی سفارش اور اس زہنیت اور مذہبی انتہا پسندی کا پورے عالم اسلام میں سے صرف پاکستان میں موجود ہونے کا ذکر، ہمارے لئیے ایک لمحہ فکریہ ہے -اس منظر نامے میں ہمارے درمیان مذہب کے کسی مثبت پہلو پر مباحثہ ایک بے معنی بلکہ مضحکہ خیز عمل لگتا ہے ۔ وقت ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس جاہلانہ انتہا پسندی سے خود بھی باہر نکلیں اس کی حوصلہ افزائی کے "گناہ " میں شریک نہ ہوں ورنہ خدانخواستہ یہ پابندیاں ہمارے خلاف آخری قدم نہیں ہو گا بات اس سے بہت آگے تک بھی جانے کا خدشہ ہے ۔ غلط تعبیرات اور متشدد روئیے اب پوری سوسائٹی میں تیزی سے پھیل چکے ہیں اور ان میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ جب ایک ظاہری طور پر اچھا خاصا تعلیم یافتہ فرد بھی " سر تن سے جدا " والے روئیے کی حمایت اور وکالت کرتا دکھائی دیتا ہے، تو یہ بات واقعی قابل تشویش اور پریشان کر دینے والی بن جاتی ہے ۔ اسلامی تعلیمات پر مبنی اتنے زیادہ بنیادی اور تشریحی لٹریچر کی موجودگی میں بھی اگر رویوں کا یہ جاہلانہ اور ظالمانہ انحطاط تیزی سے جاری اور بڑھ رہا ہے ,تو پھر تو لمحہ فکریہ ہے کہ اب کون سی ایسی طاقت آے گی جو اس ظالمانہ اور جاہلانہ رجہان اور عوام انساس میں پھیل جانے والی غلط تشریحات اور نظریات کی درستگی یا سدباب کرے گی ۔

معذرت کے ساتھ شخصیات پر مبنی ہماری مزہبی "انونٹری" میں تو ایسا کوئی دکھائی نہیں دے رہا، بلکہ متوازن بات کرنے والے علما کو خود ان شدت پسندوں کے ہاتھوں جان کا خطرہ درپیش ہے ۔ لگتا ایسا ہے کہ ایسی شخصیت "اتا ترک " کی طرح دوسرے لبرل کیمپ سے نمودار ہو گی، اور اسی " زبان "یعنی متشدد طریقے سے ان عناصر کا سدباب کرے گی , جو زبان اور رویہ یہ خود بولتے اور سمجھتے ہیں ۔ خدشہ ہے کہ اس کینسر کے خلاف اس آپریشن میں بہت خون بہے گا ,اور تباہی ہو گی، کیونکہ معاملہ یہاں کچھ ملٹی لئیر ہے کہ ڈیپ سٹیٹ یا مقتدرہ ان عناصر کو اب تک اپنے ایک اثاثیکے طور پر سرپرستی اور اپنے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف ایک تباہ کن اور ہلاکت خیز ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی آئی ہے ۔ وہ یہ تطہیر کبھی نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اس طرح ان کو بھی دنیا کے دوسرے مہزب ممالک کی طرح اپنی آئینی اور قانونی حدود تک ہی اکتفا کرنا پڑے گا ، جس کا امکان کم از کم مستقبل قریب میں نظر نہیں آ رہا ۔
واپس کریں