میرا کشمیر کہاں چلا گیا !
ظفروانی
ظفر محمود وانی

ایک دوست نے اپنی وال پر ایک سوال کیا کہ کشمیر متنازعہ یعنی ڈسپیوٹڈ ہے یا مقبوضہ یعنی آکوپائڈ ، تو میرا تبصرہ یہ تھا کہ بھارت پاکستان کے لئیے یہ سٹیٹ " ڈسپیوٹڈ " یعنی متنازعہ ہے اور ہم کشمیریوں کی نظر میں " آکوپائڈ " یعنی مقبوضہ ہے ۔ ہم کشمیریوں کے لئیے بہت افسوسناک بلکہ خطرناک دور آ رہا ہے کہ ہم دن بدن قومی اتحاد سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور دنیا بھی قابض ممالک کے موقف کی طرح اس مسئلہ کو ایک قوم کے حق خود ارادیت کے بجاے دو ممالک کے درمیان ایک علاقائی جھگڑے کے طور پر دیکھنے لگی ہے۔ گویا فلم " حیدر " کے ایک کردار کی طرح ہم بھی پوچھتے ہیں کہ " ہم ہیں بھی یا ہم ہیں ہی نہیں ، یا ہم تھے ہی نہیں، یا ہم اگر تھے تو کہاں چلے گئے ؟ ". ہم کشمیری عوام کے جزبات کی ترجمانی ان الفاظ سے بہتر کی ہی نہیں جا سکتی ۔

ایک اور عنصر بھی ہماری تحریک کی بدنامی اور تقریبا ناکامی کا باعث ہے وہ افراد یا لیڈرز جن کا زریعہ معاش مسئلہ کشمیر ہے یا اس سے وابستہ ہے " یہ ہر جماعت کی صفوں میں پاے جاتے ہیں لہزا ایک دوسرے کو الزام دینے کے بجاے ہمیں اپنے اپنے آس پاس اور قریب ان افراد کی تلاش اور پہچان کرنی چاہئیے ۔

اب بات بہت زیادہ سنجیدہ ہو چکی ہے تو ایک لطیفہ بھی سن لیں کچھ ہماری پوزیشن پر صادق آتا ہے. ایک ٹیچر اپنے سٹوڈنٹس سے کہنے لگی کہ اب آپ لوگ جوان ہو گئے ہو مجھ سے وعدہ کرو کہ سگریٹ یا کوئی نشہ نہیں کرو گے ، سب لڑکے زور سے بولے نہیں کریں گے " ٹیچر نے کہا ایمانداری اور سادگی سے زندگی بسر کرو گے ، سب لڑکے زور سے بولے سادگی اور ایمانداری سے زندگی بسر کریں گے ۔ ٹیچر بولی ، عورتوں سے دور رہیں گے ۔ سب ہم آواز ہو کر بولے ، دور رہیں گے ، ٹیچر پھر بولی اپنی زندگیاں وطن پر قربان کر دیں گے سب سٹوڈنٹس زور سے بولے ،، کر دیں گے ایسی زندگیوں کا کرنا بھی کیا ہے ۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ زندگی تو ضائع ہو ہی گئی وقت اپنے وطن کے مرغزاروں کے تخیل میں گزر گیا ۔ ہم اپنے وطن جا تک نہیں سکتے تو ان سٹوڈنٹس کی طرح خیال آتا ہے کہ ایسی زندگی کا کرنا بھی کیا ہے کیوں نا کسی دن دونوں قابض افواج کے درمیان " نو مینز لینڈ " میں جا کر منٹو کے کردار " ٹوبہ ٹیک سنگھ " کی طرح کھڑا ہو جائوں اور جس طرح اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ " قصبہ کہاں چلا گیا تو میں بھی ان سے پوچھوں کہ میرا کشمیر کہاں چلا گیا ؟ اور وہیں جان دے دوں ، یہ الفاظ میں زیب داستاں کے لئیے تحریر نہیں کر رہا بلکہ سچ میں یہ میرے دل کی آواز ہے ۔

ہر ملک کی اپنی مجبوریاں ہیں لیکن کشمیری، جن کا وطن ہے ان کے نقطہ نظر کی بنیادی اہمیت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کشمیر ایک سیاسی اور عسکری سے زیادہ انسانی المیہ بن چکا ہے اور ہم کشمیریوں کے لئیے سب سے تکلیف دہ پہلو اس کا انسانی المیہ ہونا ہی ہے ۔ ہم پرامن لوگ ہیں ہماری جڑیں اور رشتے مقبوضہ وادی میں موجود ہیں، ہم کو کیوں اجازت نہیں کہ ہم اپنے وطن اپنے عزیزوں اور پیاروں کے پاس جا سکیں۔ ماضی میں جب بصد مشکل " " عارضی طور پر " اجازت ملتی بھی تھی تو وہ بھی ہمارے لئیے توہین آمیز ہوتی تھی کہ اپنے ہی گھر جانے کے لئیے دوسروں سے " اجازت " لے کر جانا ۔اب ان حالات میں جب بھارت نے ہمارے وطن کو اعلانیہ اپنے اندر " ضم " کر لیا ہے اور اس کے تشخص کی رہی سہی ضمانت تک ختم کر دی ہے ان حالات میں دوسری طرف ہمارے " وکیل " کی بے بسی اور تقریبا خاموشی اور بے عملی ،ہمیں اپنیانسانی حق کے لئیے بولنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اب کثر صرف یہ رہ گئی ہے کہ اپنے فراموش شدہ بنیادی انسانی حق کے حصول کی آواز اٹھانے کی پاداش میں ہمیں مزید دوسری طرف سے بھی معتوب کی جائے ۔
واپس کریں