افغانستان سے امریکی انخلاء اور اس کے پاکستان پر اثرات
ظفروانی
ظفر محمود وانی

افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد بہت سے ایسے اشارے مل رہے ہیں، جیسےہمارے خلاف ایک نئی قسم کی جنگ کی تیاری ہے ، اس سلسلے میں طالبان سے بھارت کے مزاکرات کرواے گئے، اور امریکی انخلاء کے ساتھ ساتھ طالبان کی فتوحات کی " اوور ایکسپوزڈ" قسم کی تشہیر کروائی جا رہی ہے ، صف دوئم یعنی سیکنڈ لائن کے طور پر داعش کو "ریزرو " میں رکھا اور مختلف علاقوں میں تشکیل اور " ری گروپ کیا جا رہا ہے، ان پراسرار سرگرمیوں سے ہمارے زمہ دار ادارے ضرور واقف ہوں گے ، لیکن ہمیں سوات میں دہشت گردوں کی گروپنگ اور طاقت پکڑ کر تمام نظام کو یرغمال بنا لینے کی مثال بھی یاد رکھے جانےکی ضرورت ہے ،کہ ان کی بتدریج تیاریاں اور اجتماع کس طرح ابتدائی مراحل میں ہماری نظروں سے اوجھل رہا ، اور ان کے طاقت حاصل کر لینے کے بعد کس طرح بھاری جانی اور مالی قربانیاں اور نقصان اٹھا کر ہمیں یہ اندرونی محفوظ محل وقوع والا علاقہ " آزاد " کرواناپڑا تھا ۔

جیسے امریکہ والےخالی کئیے جانے والے فوجی مراکز میں، طالبان کے لئیے ایمونیشن ، اسلحہ اور وہیکلزچھوڑ کر جا رہے ہیں، اور انخلاء کے عمل میں وہاں حکومت اور حکومتی افواج کے ساتھ کواڈینیشن یعنی تعاون کا فقدان بالکل واضع ہے۔ اس سے کچھ شبہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ باگرام میں ہزاروں ٹن فضول ترین چیزوں کو توڑ کر ناقابل استعمال کر کے سکریپ کے ڈھیروں کی شکل میں چھوڑا گیا ہے ، لیکن اسلحہ ، ایمونیشن اورفوجی وہیکلز درست حالت میں چھوڑ کر گئے ہیں، ایسا ہی دیگر کئی مقامات پر بھی ہوا ہے ۔ ان واقعات اور معاملات کو طالبان کے امریکہ کے سٹریٹیجک پارٹنر بھارت کے ساتھ ہوے مزاکرات کے تین ادوار کے ساتھ ملا کر دیکھے جانے کی ضرورت ہے ۔ ہماری طرف سے گومگو کی پالیسی اور قوت فیصلہ کا فقدان بھی تشویشناک حد تک واضع ہے ۔

ارکان پارلیمنٹ کو دی جانے والی حالیہ بریفنگ میں افغانستان کے طالبان کے ٹی ٹی پی کے ساتھ رشتوں کی طرف اور اس سلسلے میں مستقبل کے خدشات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ۔ ویسے افسوس ہے کہ اکثر شعبوں میں ہم سابقہ جاسوس "اجیت دوگل " کے ڈاکٹرائن کے سامنے مات کھاتے دکھائی دے رہے ہیں، اورہماری نالائقی اور نااہلی کی انتہا یہ ہے کہ کئی شعبوں میں پہنچنے والےنقصان اور ڈیمیج کا ابھی تک ہم ادراک تک نہیں کر سکے، بلکہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ہم ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں ،جن کی وجہ سے دشمنوں کی سازشوں کو تقویت حاصل ہوتی ہے ، ہمیں تو وقت کی نزاکت کے پیش نظر آگے بڑھ کر ناراض عناصر کو گلے لگانا اور انھیں معاملات میں شامل کرنا چاہئیے ،جیسے قائد اعظم نے قیام پاکستان کے فوراً بعد قبائلی علاقوں سے فوج نکالنے کا اعلان کر دیا تھا، اور اسی بات سے قبائلی مسلمانوں کو یہ احساس پیدا ہوا کہ ہم آزاد ہو گئے ہیں ۔

لیکن آج کی سول اور فوجی مقتدرہ میں وہ فراست اور اخلاص کا معیار کہاں سے آے ۔ ہم تو وہ ہیں جوبھارت کی خوشنودی کے لئے حافظ سعید ، لکھوی اور مسعود اظہر کی قربانی تو دے دیتے ہیں لیکن چار سو بےگناہ افراد کے قاتل راو انوار کی حمایت اور سرپرستی کر کے قبائلی علاقے کے نوجوانوں میں رد عمل پیدا کرنے سے نہیں ڈرتے ۔ ورنہ نام نہاد مفاد کے لئیے جب اتنے "اثاثوں" کی قربانی دی جا سکتی ہے، تو ایک راو انوار کے ساتھ بھی قانون کےمطابق سلوک ہمیں قبائلی علاقوں کے نوجوان کے دلوں میں پھیلنے والی نفرت اور مایوسی کے مستقبل میں پڑنے والے منفی اثرات سے بچاسکتا ہے ۔

اسی طرح وقت جو تیزی سے ہمارےہاتھوں ے نکلتاجا رہا ہے ، کی نزاکت اور ضرورت کا احساس کرتے ہوے ہمیں ناراض بلوچ نوجوان کو گلے سے لگانا چاہئیے، اور اخلاص کے ساتھ ان کی شکایات کا ازالہ کرناچاہئیے ۔ اور اپنے مغربی ہمسائیوں یعنی ایران اور افغانستان کے ساتھ واضع اور خلوص اور بھائی چارے پر مبنی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئیے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنےمغربی بارڈر پر " فول پروف " کنٹرول قائم کرنا چاہئیے، اور کسی بھی طرح ان ممالک یعنی افغانستان اور ایران کے ساتھ ڈبل گیم سے احتراز کرنا چاہئیے ۔ اس کے علاوہ ہمیں روس ، وسطی ایشیا کے ممالک اور چین کے ساتھ ہر شعبے میں قریبی تعلقات قائم کرنے چاہئیں اور اپنےملک میں تعمیر و ترقی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر اور صنعت کاری کے لئیے روس اور چین کے علاوہ ایران کو بھی شامل کرتے ہوے قریبی اور مخلصانہ ، دیرپا تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ سب سے بڑھ کر امریکہ کے ایماء پراپنے خلاف روز بروز تنگ ہوتے ہوے دہشت گردی کے الزامات کے دائرے ، ہماری معاشی تباہی اور ہمیں زیادہ سے زیادہ اقتصادی مجبوری کا شکار کرنے والی امریکہ اور اس کی حامی مغربی طاقتوں کی ایماء ہم سے اختیار کروائی جانے والی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوے ، ہمارے وطن میں مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لئیے تعینات کرواے گئے، عالمی بینک کے کارندوں کو فوری طور پر اپنی اقتصادی اور مالیاتی مشین سے نکال باہر پھینکنا چاہئیے ، اور اس بارےمیں مضبوط پالیسی اختیار کرنی چاہئیے ، آخر ہمیں کہیں نہ کہیں تو جا کر رکنا ہی ہے توکسی اندھی کھائی یا گہرے سمندر میں گرنے سے پہلے پہلے ہمیں دستیاب زمین پر اپنے قدم جما لینے چاہئیں۔

امریکہ اس کے حمایتی ممالک اور بھارت کے سامنے ان کی منشاء کے مطابق مسلسل پسپائی کی " حکمت عملی " ہمیں خدانخواستہ ایسے مقام پر پہنچا دے گی جب ہمارے بارے میں ہر فیصلہ ہمارے دشمن کریں گے، جس کی ایک جھلک ہم کشمیر میں اٹھاے جانے والے جارحانہ بھارتی اقدامات، اور ان کے جواب میں اپنے معزرت خواہانہ روئیے کی شکل میں دیکھ رہے ہیں ۔ اپنے ملک کی سالمیت اور اس کے مفاد کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ ملک میں بغیر کسی جلّی یا مخفی مداخلت کے جمہوری نظام کو کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئیے ، اور پالیسی سازی کی مکمل زمہ داری منتخب شدہ عوم کے اصل نمائندوں پر چھوڑ دی جانی چاہئیے، اگر تو کسی بیرونی طاقت کے مفاد کی تکمیل اور نگرانی ترجیع اور مقصد نہیں تو پھر یہ فیصلے کا وقت ہے، کہیں بیماری ناقابل علاج مرحلے میں نہ داخل ہو جاے ، اپنے وطن کی محبت ہم سے یہ تقاضہ کرتی ہے کہ زاتی مفادات سے بلند ہو کر ملک و قوم کے مفاد میں اقدامات اٹھائیں ۔


واپس کریں