بنگلہ دیش: عیدگاہ کے قریب دھماکہ، ایک پولیس اہلکار ہلاک
No image بنگلہ دیش کے ضلع کشور گنج میں نمازِ عید کے اجتماع کے قریب بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور کم سے کم پانچ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ضلع کشور گنج میں مسلح افراد کے گروہ نے پولیس کی چیک پوسٹ پر پٹرول بم پھینکے اور یہ چیک پوسٹ اُس میدان کے قریب تھی جہاں نماز عید کا اجتماع ہو رہا تھا۔
بم دھماکے کے وقت میدان میں عید کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ ضلع کشور گنج ڈھاکہ دارلحکومت سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عید کے اجتماع میں دو لاکھ کے قریب افراد شریک تھے۔
اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت فائرنگ بھی ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کنٹرول روم میں ایک اہلکار ماہبور رحمان نے بتایا کہ ’اس حملے میں ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک اور ایک حملہ آور بھی مارا گیا ہے جبکہ ایک حملہ آور کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘
کشور گنج کے نائب پولیس آفسر طفزول حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ کئی افراد نے مل کر کیا اور بعض افراد کے پاس چاقو بھی تھے۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے حملہ آوروں نے پولیس کو چھوٹے بموں سے نشانہ بنایا اور پھر اُن کے اوپر چاقو سے وار کیے۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔‘
ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے اہلکار عزیز الدین بسواس نے بتایا کہ اس پولیس اور حملہ آوروں کے مابین جھڑپ سے نمازِ عید کے اجتماع متاثر نہیں ہوا۔‘
تاحال کسی نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
بنگلہ دیش کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والے ان حملوں میں مقامی شدت پسند تنظیم ملوث رہی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو دارالحکومت ڈھاکہ میں مسلح حملہ آوروں نے ایک کیفے پر حملہ کر کے 20 کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور اس کے تقریباً 12 گھنٹے بعد فوج کے آپریشن میں پانچ حملہ آور مارے گئے تھے جبکہ یرغمال بنائے گئے غیر ملکیوں سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے۔
واپس کریں