مقبوضہ کشمیر میں مزید ہندوستانی فوجی دستے متعین،مودی حکومت کی طرف سے کسی بڑے اقدام کا امکان
No image سرینگر( کشیر رپورٹ) ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی روز سے بڑی تعداد میں مزید فوجی دستوں کی آمد کی صورتحال میں اس طرح کی غیر مصدقہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ ہندوستان کی مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق کوئی بڑا اقدام کرنے کی تیاری میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے صحافتی حلقوں میں یہ اطلاعات زیر گردش ہیں کہ جموں کی ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی اوروادی کشمیر کو دو یا تین مرکزی(ہندوستانی) زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں۔یہ اطلاع بھی ہے کہ کشمیری پنڈتوں کے لئے وادی کشمیر میں الگ '' ہوم لینڈ'' کا خطہ تشکیل دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے مقبوضہ کشمیر کے شمالی علاقوں اور جموں میں فوجی دستوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے انتخابات کے بعدیہ فوجی دستے واپس کشمیر پہنچ رہے ہیں۔جبکہ صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی حکومت 5اگست2019کی طرح کا کوئی بڑا اقدام کرنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں مزید فوجی دستے متعین کرتے ہوئے فوجی نقل و حرکت میں اضافہ کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ فوجی متعین ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی 103انٹیلی جنس ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔
واپس کریں