' سی آئی اے ' ڈائریکٹر کا پاکستان کا خفیہ دورہ، امریکہ فوجی انخلاء کے بعد افغانستان کے ہمسایہ ملک میں اپنے اڈے قائم کرنا چاہتا ہے، نیویارک ٹائمز
No image واشنگٹن( کشیر رپورٹ) افغانستان سے امریکی فوج کے فوری انخلاء سے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ' سی آئی اے' پر افغانستان میں انٹیلی جنس اور کائونٹر ٹیرر ازم کے حوالے سے دبائو میں اضافہ ہو گیا ہے۔' سی آئی اے' نے گزشتہ بیس سال افغانستان میں ڈرون حملوں اور طالبان ، القاعدہ اور داعش کی مانیٹرنگ کا کام کیا ہے اور اب خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی فوجی انخلاء کے بعد طالبان افغانستان کی حکومت حاصل کر سکتے ہیں۔امریکی حکام فوجی انخلاء کے بعد افغانستان کے قریب محفوظ اڈے قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں سے مستقبل میں افغانستان میں آپریشن کئے جا سکیں۔
'' نیو یارک ٹائمز'' میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق صدر بائیڈن نے افغانستان سے مکمل انخلاء کی حتمی تاریخ 11ستمبر متعین کی ہے اور جولائی کے وسط تک وہاں سے تمام فوج نکال لی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق امریکی اور پاکستانی حکام کے درمیان بات چیت میں پاکستانی حکام کی طرف پاکستان میں امریکی بیس( اڈے) قائم کرنے کے حوالے سے بعض شرائط پیش کی گئی ہیں۔امریکی حکام کا خیال ہے کہ افغانستان میں طالبان ایک سال تک حکومت حاصل کر سکتے ہیں جس سے افغانستان میں مغرب کے لئے خطرہ بننے والے مسلح گروپ سامنے آ سکتے ہیں۔
امریکی حکام افغانستان میں ایسی طویل المدت موجودگی چاہتے ہیں جس سے ' سی آئی اے' کائونٹر ٹیرر ازم کے آپریشن کر سکے۔افغان آپریشن میں امریکہ نے کئی ٹریلین ڈالر خرچ کئے اور چوبیس سو امریکی فوجی افغانستان میں ہلاک ہوئے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ' سی آئی اے' کے ڈائریکٹرولیم جے برنز افغانستان سے فوجی انخلاء کے بعد ایجنسی کو درپیش چیلنجز کا ادراک رکھتے ہیں ۔' نیو یارک ٹائمز'' کے مطابق ولیم برنز نے چند ہفتے قبل اسلام آباد پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے پاکستان ملٹری اور '' آئی ایس آئی'' کے سربراہان سے ملاقات کی ہے ۔اس کے علاوہ ڈیفنس سیکرٹری لیوڈ آسٹن تھری افغانستان میں مستقبل کے آپریشنز کے حوالے سے پاکستانی فوج کے سربراہ سے فون پر بات کرتے رہتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹر' سی آئی اے' نے اپنے دورے کے موقع پر امریکہ اور پاکستان کے درمیان وسیع البنیاد کائونٹر ٹیرر ازم کے حوالے سے تعاون پر بات کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ فوجی انخلاء کے لئے بحری ایئر کرافٹ کیرئر کے فائٹر جنگی طیارے استعمال کر رہا ہے تاہم طویل المدت بنیادوں پر بحری جنگی بیڑے کا استعمال موزوں تصور نہیں کیا جا رہا۔امریکہ خلیج فارس میں موجود اپنے جنگی بحری بیڑے کے ذریعے ایم کیو 9ریپر ڈرونز استعمال کر رہا ہے جو پینٹاگان اور سی آئی اے حملوں اور انٹیلی جنس کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔تاہم ان ڈرونز کو افغانستان تک نو گھنٹے کی پرواز کرنا پڑتی ہے جو آپریشنز کو مہنگابنا دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض امریکی حکام کو یقین ہے کہ پاکستان اپنے ملک میں امریکہ کو فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دے سکتا ہے تاہم وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان میں قائم کئے جانے والے اڈوں کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق کچھ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان سے اس سلسلے میں مزاکرات تعطل میں ہیں جبکہ بعض حکام کے مطابق مزاکرات سے ایسا معاہدہ ہوسکتا ہے۔

واپس کریں