مالی، انتظامی اختیارات دلوانا ن لیگ حکومت کا نصب العین تھا،وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا آزاد کشمیر کے سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب
No image مظفرآباد( 10جون 2021 ) وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے مالی اور انتظامی اختیارات دلوانا ن لیگ کی حکومت کا نصب العین تھا جس میں رب العزت نے کامیابی عطا فرمائی۔گورننس ہو،ترقیاتی شعبہ ہو یا انتظامی اصلاحات کا پانچ سالوں کا فرق سب کے سامنے ہے، پاکستان کے کسی بھی کونے سے آزادکشمیر میں داخل ہوں آپ کو تبدیلی واضح طورپر نظر آئیگی۔پانچ سال تک ایمانداری اور نیک نیتی سے حکومت چلائی،13 ویںآئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات واپس لیے،ترقیاتی بجٹ میں دوگنا اضافہ کروایا اور آج یہ تین گنا ہونے کے قریب ہے،مالیاتی اختیارات حاصل کرنے اور ذرائع آمدن میں اضافے بہترین مالیاتی ڈسپلن قائم کرنے کی بدولت ریاست معاشی خودکفالت کی منزل پر پر پہنچی، آج ہم پر ایک روپیہ قرض نہیں،ریاستی بیوروکریسی میں اہلیت و صلاحیت کی کوئی کمی نہیں گریڈ بائیس ان کا حق تھا جو دیا کبھی غیرقانونی کام کے لیے دباو نہیں ڈالا اور ٹرانسفررپوسٹنگ میرٹ پر کی کابینہ اور بیوروکریسی نے ملکر کام کیا جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں،پانچ سالوں میں پوری کوشش رہی کہ قانون کی حکمرانی قائم کی جاے حلفا کہتا ہوں کہ پبلک سروس کمیشن اور این ٹی ایس میں کسی ایک امیدوار کی بھی سفارش نہیں کی،ماضی میں سیاسی جماعتوں کے عہدیداران کمیشن کے سربراہ اور ممبران رہے اور تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی رہیں ہم نے حقدار کو اس کا حق دیا جس کی وجہ سے آزادکشمیر کی بیوروکریسی کو باصلاحیت افراد کی ایک کھیپ میسر آئی۔ہمارے پانچ سالہ دورمیں کوئی مالیاتی سکینڈل سامنے نہیں آیا ماضی کی کوئی حکومتیں اس سے بچ نہیں پائیں۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں منعقد ہ سیکرٹریز حکومت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری،ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل،پرنسپل سیکرٹری،سینیر ممبر بورڈ آف ریونیو،سیکرٹری سروسز اور تمام محکمہ جات کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔اجلاس میں بیوروکریسی کی جانب سے پانچ سالوں میں آئین و قانون کی حکمرانی اور ریاستی مسائل کے حل کے لیے اٹھاے جانے والے اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا۔
اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ موجودہ اسمبلی نے ریکارڈ قانون سازی کی ہم نے عوامی مفادات میں قانون بناے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے پر سزاے موت کا قانون سب سے پہلے ہم نے منظور کیا،یتیم بچوں کی پرورش ہویا دیگر اہم امور قانون سازی ہمارے حصے میں آئی ہم نے میرٹ کے نظام کو متعارف کروایا جب میرٹ ہو گا تو بیوروکریسی کو کام کرنے میں آسانی ہو گی آزادکشمیر کے اندر عبوری حکومت نہیں نئے وزیراعظم کے حلف تک پورے اختیار کے ساتھ وزیراعظم ہوں بیوروکریسی آئین و قانون اور ضابطے کو مد نظر رکھے میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا جس کی بدولت ن لیگ اپنے منشور کے بیشتر نکات پر عملدرآمد میں کامیاب ہوئی پولیس ملازمین کی تنخواہوں و دیگر معاملات پر لاعلم نہیں ہم نے باقی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا ان کو بھی ان کا حق دینگے۔آزادکشمیر میں مفاہمت اور رواداری کی سیاست کو فروغ دیا کسی شخص کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں کی، پاکستان میں کی گئی تو پھر حالات سب کے سامنے ہیں کہ کوئی کام نہیں ہورہا انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی غلط بات کو غلط کہنے اور قانون ضابطے پر ڈٹ جاے جب آفیسران ایسا کرینگے تو پھر ہی نظام چل سکے گا سیاستدان پانچ سال بعد تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن بیوروکریسی پر پوری ریاست کا نظام کھڑا ہے آزادکشمیر کا اقتدار سنبھالا تو اپنے قائد نوازشریف صاحب سے ایک ہی گزارش کی تھی کہ مداخلت نا کی جاے اور رب انہیں خوش رکھے انہوں نے کبھی کسی کی سفارش کی نا مداخلت کی کشمیر کے حوالے سے ایک بات پر ہمیشہ افسوس ہے کہ ہم سب اپنا وہ اجتماعی کردار ادا نہیں کر سکے جو ہمیں کرنا چاہیے تھا اس حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پاکستان پر عائد ہوتی ہے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے حوالے سے ہم نے کھل کر بات کی اور اپنا موقف پیش کیا۔
اس موقع پر چیف سیکرٹری نے بیوروکریسی کی جانب سے پانچ سالوں میں آئین،قانون کی بالادستی اور رولز آف بزنس کے نفاذ کے حوالے سے وزیراعظم آزادکشمیر کی جانب سے اٹھاے جانے والے اقدامات اور آفیسران کی عزت نفس کا تحفظ کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون کے تحت اختیارات کا دائرہ کار متعین ہے ،مجھے یہاں آئے اگرچے تھوڑا عرصہ گزرا ہے مگر یہ جان کر خوشی ہوئی کہ موجودہ پانچ سالہ دور میں ہر شعبے میں اصلاحات لائی گئیں جس کے ثمرات آنے والی نسلیں سمیٹیں گی۔
واپس کریں