سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی الیکشن کمیشن کے اجلاس میں شرکت
No image مظفرآباد ( 18جون 2021) آزاد جمو ں وکشمیر قانون سازاسمبلی کے عام انتخابات 2021 ئ میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کے لیے نافذالعمل ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت کے لیے جمعہ کے روزآزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر)عبدالرشید سلہریا ، سینئر ممبر راجہ فاروق نیاز اور ممبر فرحت علی میر کی جانب سے نے آمدہ عام انتخابات کے لیے ضابط اخلاق کے اہم نکات کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم آزادکشمیرو صدر مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدرخان ،پیپلزپارٹی کے رہنماءسردار جاوید ایوب ، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءخواجہ فاروق احمد ، مسلم کانفر نس کے صدر مرزا محمد شفیق جرال اور دیگر تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر)عبدالرشید سلہریا نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آزادکشمیر کے انتخابات کو صاف وشفاف،آزادنہ اورغیر جانبدارانہ بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے توقع کا اظہار کیا کہ آمدہ الیکشن میں تمام جماعتیں ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گی۔
اس موقعہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر کے آمدہ انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے الیکشن کمیشن سے بھر پور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیرالیکشن کمیشن کو یقین دلاتا ہوں کہ ضابط اخلاق کے حوالہ سے حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی تاکہ انتخابات کی شفافیت پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی ایسا کام نہیں کرے گی جس کا الیکشن کی شفافیت پر منفی اثر پڑے گا۔ انہوں نے توقع کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں آمدہ الیکشن کو صاف، شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے آزادکشمیر کے آمدہ انتخابات کو صاف ، شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن کی کارکرگی پربھر پور ا عتماد کیا اور بہر طور الیکشن کمیشن کو اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ سیاسی قائدین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور ایسا کوئی عمل نہیں کریں گے جس کا انتخابات پربرا اثر پڑے۔
مشاورتی اجلاس کے شرکائ کو بریفنگ دیتے ہوئے ممبر الیکشن کمیشن فرحت علی میر نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آمدہ عام انتخاباتٍ25 جولائی 2021 کو ہوں گے۔آزاد کشمیر کی حدود میں 33 حلقوں اور مہاجرین جموں وکشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کی انتخابی فہرستیں مکمل اور شائع ہو چکی ہیں۔ ممبر الیکشن کمیشن نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے طلبیدہ تخمینا وسائل فراہم کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ کمیشن کو انتخابات کے سلسلہ میں مطلوبہ معاونت کی فراہمی بہر طور یقینی ہے۔ حکومت کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کو حکومت کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی طرف سے تقرر شدہ ضلعی ریٹرننگ افسران و دیگر عملہ کو گاڑیوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ کمیشن کی ضرورت کے مطابق جملہ لوازمات کی تکمیل کے سلسلہ میں انتظامیہ بھرپور تعاون کررہی ہے۔ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابات کو شفاف اور منصفانہ بنیادوں پر منعقد کرنے کے لیے ضابطہ اخلاق تحت جملہ رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں، انتخابی امیدوارن اور الیکشن ایجنٹ ہا آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 اور منجملہ انتخابی قوانین میں دیئے گئے عوام کے حقوق اور ان کی آزادی کو ہمہ وقت سربلندرکھیں گے۔ سیاسی جماعتیں، امیدواران اور الیکشن ایجنٹ ہا کسی ایسی رائے/خیالات کااظہار اور نہ ہی کوئی ایسا عمل کریں گے جو کسی بھی اندازمیں ریاست جموں و کشمیر کی مسلمہ حیثیت، سالمیت اورسلامتی یا امن عامہ کے خلاف ہو یا جس سے آزاد کشمیر اورپاکستان کی عدلیہ کی آزادی یا خودمختاری متاثر ہو یا جس سے عدلیہ یا افواج پاکستان کی شہرت کو نقصان ہو یا اس سے ان کی تضحیک ہو۔ سیاسی جماعتیں،امیدوارا ن اور الیکشن ایجنٹ انتخابات کے موثرانعقاد اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لئے الیکشن کمیشن کی وقتا فوقتا جاری کردہ تمام احکامات،ہدایات اور ضابطہ اخلاق کی کما حقہ پیروی کریں گے اور آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن یا اس کے فاضل چیئرمین و اراکین کی کسی بھی شکل میں تضحیک کرنے سے اجتناب کریں گے جیسا کہ ایسے افعال آزادجموں وکشمیر الیکشنز ایکٹ 2020کی دفعہ 10میں واضح طور پر توہین عدالت کی کارروائی پر منتحج ہونا قرار پائے ہیں۔ سیاسی جماعتیں،انتخابی امیدواران،الیکشن ایجنٹ اور انکے حمایتی کسی بھی شخص کو الیکشن میں بطورامیدوار حصہ لینے یا نہ لینے اور انتخابات سے بطورامیدوار دستبردار یا ریٹائر ہونے کی ترغیب دینے کےلئے تحائف،لالچ اور رشوت دینے سے گریز کریں گے۔اس ضابطہ کی خالف ورزی انتخابی بد عنوانی تصور کی جائے گی۔انتخابی امیدوار اور ان کے حمایتی انتخابی مہم کے دوران یا پولنگ کے دن تشد د کے لئے ترغیب دینے یاتشدد کو کسی صورت میں روا رکھنے سے سختی سے اجتناب کریں گے اور اس کی کھلم کھلا مذمت کریں گے اور ایسی زبان استعمال نہیں کریں گے جو تشد د کی طرف مائل کرے۔کوئی بھی شخص کسی بھی حال میں کسی دوسرے شخص کو نہ تو کوئی گزند پہنچائے گا اور نہ ہی کسی ملکیت کو کوئی نقصان پہنچائے گا۔ انتخابی اخراجات کی حد مطابق قانون (50) پچاس لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ تمام امیدواران اس حد کے اندر اخراجات کرنے کے پابند ہوں گے۔ ایسے تمام اخراجات جو کسی بھی شخص یا سیاسی جماعت نے امیدوار کی جانب سے کئے ہوں تو یہ اخراجات اسی امیدوار کے انتخابی اخراجات میں شامل ہوں گے۔اگر کوئی شخص یا جماعت کسی امیدوار کے لئے سٹیشنری،ڈاک،ٹیلی گرام،تشہیر،نقل و حمل کے ذرائع اور کسی بھی قسم کی دوسری چیز پر اخراجات کرتا ہے تو بھی یہ سمجھا جائے گاکہ یہ انتخابی اخراجات امیدوار نے بذات خود کئے ہوں۔امیدوار یا اس کا الیکشن ایجنٹ عام انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد 35ایام کے اندر انتخابی اخراجات کی تفصیل جمع کروائے گا۔ عوامی جلسوں اور جلوسوں میں اور پولنگ والے دن کسی بھی قسم کے ہتھیار اور آتشیں اسلحہ کو لے جانے یا ان کی نمائش کرنے پر مکمل طور پر پابندی ہوگی۔یہ پابندی حتمی نتائج مرتب کرنے کے 24گھنٹے بعد تک برقرار رہے گی اور اس سلسلہ میں تمام سرکاری قواعد کی سختی سے پابندی کی جائے گی اور قواعد کی خلاف ورزی غیر قانونی فعل تصور ہوگی۔ قانونی تقاضوں کےمطابق انتخابی مہم میں کوئی بھی امیدواربشمول وزیر اعظم و سپیکر /ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی سرکاری وسائل استعمال نہیں کرے گا۔اگرکسی امیدوار نے انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل کا استعمال کیا تو ایسے امیدوار کو انتخابات میں شرکت سے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔اگر کوئی سرکاری گاڑی الیکشن مہم میں استعمال ہوئی تو اسے ضبط کر لیا جائے گا اور سرکاری وسائل استعمال کرنے والے افسران فوری طور پر معطل کر کے زیر مواخذہ لایا جائے گا۔اسی طرح وزیر اعظم /وزراء/مشیران حکومت و خصوصی معاونین وغیرہ سرکاری گاڑی یا جھنڈااستعمال کرتے ہوئے الیکشن مہم میں حصہ نہیں لیںگے۔اس شرط کا اطلاق حکومت پاکستان کے سرکاری عہدیداران بشمول وزیر اعظم /وزراء/مشیران اور معاونین خصوصی پر بھی ہوگا۔ کسی بھی امیدوار کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہ ہو گی اور ایسا عمل ان کی نااہلی پر منتج ہو گا۔ الیکشن کمیشن کے منظور شدہ سائز سے بڑے پوسٹر،ہینڈبل،پمفلٹس،لیفلیٹس، بینرز پر پابندی عائد ہوگی۔کوئی بھی بینر نہ تو آویزاں کرے گا اور نہ ہی تقسیم کرے گا۔نیزکوئی بھی چسپاں ہونے واال پوسٹر،ہینڈ بل،پمفلیٹس یالیفلیٹ کا پبلک بلڈنگ پر لگانا مکمل طور پر ممنو ع ہوگا۔پوسٹر وغیرہ پینا فلیکس میٹریل سے تیار کئے جاسکتے ہیں مگر ان کا سائز کسی بھی صورت میں ذیل میں دیئے گئے سائز سے بڑا نہ ہو، پوسٹر18انچ23xانچ۔ہنڈ بلز/ پمفلٹس/لیفلیٹس9انچx 6انچ،پوٹریٹس 2فٹ x 3فٹ، سیاسی جماعتیں،امیدواران،الیکشن ایجنٹ یا ان کے حمایتی کسی بھی صورت میں دیواروں اور عمارتوں پرپوسٹرز چسپاں نہیں کریں گے۔ہورڈنگز،بل بورڈ ز،دیواروں پر لکھائی اورپینا فلیکس کے بڑے بڑے بینرز پر مکمل طور پر پابندی ہوگی۔اسکی خلاف ورزی غیر قانونی فعل تصور کی جائےگی۔تاہم پوسٹرز وغیرہ ضابطہ میں دیئے گئے سائز کے مطابق پینا فلیکس میٹریل سے تیار کرنے پر پابندی کااطلاق نہ ہوگا۔ ایک سیاسی جماعت کی طرف سے لگائے گئے پوسٹرز،پورٹریٹس اور بینرز کسی دوسری جماعت کے کارکن نہ ہٹائیں گے اور نہ ہی کسی دوسری سیاسی جماعت کے کارکنوں کو ہینڈ بل اور کتابچے تقسیم کرنے سے روکیں گے۔ اس کی خلاف ورزی غیر قانونی فعل تصور کی جائے گی۔ حکومت کے افسران اور حکومت کے منتخب نمائندے کسی بھی حلقے میں،جہاں الیکشن ہو رہا ہے،کسی خاص امیدوار یا سیاسی جماعت کے ناجائز فائدے کے لئے نہ ہی ریاستی وسائل استعمال کریں گے اور نہ ہی الیکشن میں حصہ لینے والے کسی خاص امیدوار یا سیاسی جماعت کے مفاد کو متاثر کرنے کے لئے ناجائز دباو ¿ڈالیں گے۔ملک بھر میں 19Covid-کے پھیلاو کے خطرہ کے پیش نظر حکومت کی جانب سے جاری شدہ ایس او پیز کی ہذا ایسی پابندیوں کے تناظرمکمل پابندی کی جائے گی۔لہذا ایسی پابندیوں کے تناظر میں عام انتخابات کے حوالہ سے بڑے عوامی اجتماعات اور جلسے جلوس پر مکمل پابندی عائد تصور ہوگی۔البتہ ہر امیدوار متعلقہ ضلعی ڈپٹی کمشنر کی اجازت سے وقت اور جگہ کے تعین کے بعد جملہ نافذ العمل احتیاطی لوازمات اپنا تے ہوئے ایک جلسہ منعقد کر سکے گا جس میں لاﺅڈ سپیکر کے استعمال کی اجازت ہو گی۔ گاڑیوں پرلا?ڈ سپیکر نصب کر کے کسی بھی امیدوار کواپنے حق میں انتخابی مہم کی تشہیر /اعلان /نعرہ بازی کروانے پر مکمل پابندی ہو گی نیز گاڑیوں، کار اور موٹرسائیکل ریلیزپر بھی پابندی ہوگی۔تاہم مختص جگہوں پر پہلے سے طے شدہ کارنر میٹنگ کرنے کی اجازت ہوگی جوکہ مخصوص احاطہ کے اندر رہتے ہوئے کی جائیں گی۔اور اس میں تعداد کسی بھی صورت 500نفوس سے زائد نہ ہو۔ان نشستوں میں وقت اور جگہ کے لئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینی ضروری ہوگی۔ان کارنر میٹنگز کے بارے میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور امیدوار اپنے کارکنان کے ذریعہ عوام الناس کو مطلع کریں گے۔اس کے لئے کسی قسم کے اعلانات بذریعہ لاﺅڈ سپیکر گاڑی پر کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس سلسلہ میں تمام امیدواروں کو کسی قسم کی تخصیص یا امتیازکے بغیر یکساں مواقع مہیا کئے گئے ہیں۔سیاسی جماعت یا امیدوار یا الیکشن ایجنٹ کارنر میٹنگز منظم کرتے ہوئے میٹنگ کے انعقاد کی جگہ کے ساتھ ساتھ اس کے دورانیہ کا تعین بروقت کرکے اس کی اطلاع ضلعی انتظامیہ یا حکام کو دیں گے اور اس پروگرام کی کسی صورت خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ اگر دو یا دو سے زیادہ سیاسی جماعتیں یا امیدواران ایک ہی راستہ یا اس کے کچھ حصوں سے ایک ہی وقت میں میٹنگ کے لئے گزرنا چاہتے ہوں تو منتظمین پیشگی ایک دوسرے سے رابطہ کریں گے اور ایسے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کریں گے کہ جس سے میٹنگ میں تصادم نہ ہو اور ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا نہ ہو۔اس حوالہ سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس کی مدد سے مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماو ¿ں یا کارکنان سے منسوب شدہ پتلوں کے استعمال یا ان پتلوں ، پوسٹرزاور دوسری جماعتوں کے جھنڈوں کو جلانے کی ہرگز اجازت نہ ہو گی جس سے میٹنگ کے شرکائ اشتعال میں آئے۔سیاسی جماعتیں یا امیدواران اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سیاسی جماعتیں یا امیدواران یا الیکشن ایجنٹ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ میٹنگ کے شرکائ کے پاس ایسے آلات نہ ہوں جنہیں ناپسندیدہ عناصر مشتعل ہجوم کی صورت میں غلط یا ضرر رسانی کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ سیاسی جماعتیں یا امیدواران اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ میٹنگ میں خلل ڈالنے یا اس میں کسی بھی قسم کی کوئی بد نظمی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے افراداپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہوں۔تاہم ایسی صورت میں منتظمین ایسے افراد کے خلاف بذات خود کوئی کارروائی نہیں کریں گے بلکہ اس ضمن میں ڈیوٹی پرموجود پولیس سے مد د طلب کریں گے۔سیاسی جماعتیں اور امیدواران اپنی عوامی میٹنگز سے متعلق مقامی انتظامیہ کو کم از کم تین دن پیشتر آگاہ کریں گے۔ضلعی /مقامی انتظامیہ مناسب حفا ظتی انتظامات کرنے کی ذمہ دارہوگی اور ایسی میٹنگز کو اس انداز سے منظم کرے گی کہ ایسی میٹنگز کے انعقاد میں دلچسپی رکھنے والوں کو مساوی مواقع میسر آسکیں۔ الیکشن پروگرام کے اعلان کے بعد پولنگ کے دن تک سیاسی جماعتیں،امیدواران اور ان کے حمایتی،حکومت کے عہدیداران اور منتخب نمائندے،مجموعی طور پر اپنے کسی ترقیاتی منصوبے یا کام کا اعلانیہ یا خفیہ اعلان نہیں کریں گے اور نہ اس کا افتتاح کریں گے اور نہ ہی کوئی ایسا عمل کریں گے جوکسی سیاسی جماعت یا خاص امیدوار کے حق میں یا اس کی مخالفت میں انتخابات پر اثر انداز ہوسکے۔اور نہ ہی اپنے متعلقہ حلقہ میں کسی بھی ادارے کو کوئی چندہ یا عطیہ دیں گے نہ ہی چندہ یا عطیہ دینے کا وعدہ کریں گے۔البتہ الیکشن پروگرام کے جاری ہونے سے پہلے سے جاری یا منظور شدہ انفرادی منصوبے جاری رہیں گے۔انتخابی امیدواران،الیکشن ایجنٹ اور ان کے حمایتی ایسی تقریروں سے اجتناب کریں گے جو علاقائی اور فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دیں اور صنفی ، فرقہ بندی ، گرو ہ بندی اور لسانی بنیاد پر تنازعات کا باعث ہو۔ دیگر سیاسی جماعتوں اور مخالف امیدواروں پر تنقید کوصرف ان کی پالیسیوں اور پروگراموں اور اسی حوالہ سے ماضی کے ریکارڈ اور ان کے کام تک ہی محدود رکھا جائےگا۔سیاسی جماعتیں اور امیدواران دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماو ¿ں یا کارکنوں کی نجی زندگی کے کسی ایسے پہلو پر تنقید کرنے سے اجتناب کریں گے جس کا عوامی سرگرمیوں سے اور پولیٹیکل زندگی اور کردارسے کوئی تعلق نہ ہو۔ایسی تنقید سے پرہیز کیا جائے گا جس کی بنیاد غیر مصدقہ الزامات یا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر ہو۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور انتخابات میں حصہ لینے والےامیدواران کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی رضا کارانہ بنیادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ آمدہ عام انتخابات کے پر امن اور شفاف انداز میں انعقاد کے لیے امن وامان کی بحالی کے سلسلہ میں آزادکشمیر پولیس کے علاوہ افواج پاکستان ، رینجرز اور فرنٹیئر پنجاب کنسٹیبلری کے دستوں کی مامورگی۔ انتخابی مہم کے دوران حکومتی وزرائ اور پاکستان سے سرکاری حیثیت میں آزادکشمیر میں تشریف لانے والے سیاسی قائدین اور حکومت وزراء کو ضابطہ اخلاق کے مطابق پاکستان اور آزادکشمیر کے سرکاری وسائل کے استعمال سے اجتناب کو یقینی بنانا۔ انتخابی مہم کی مانیٹرنگ کے سلسلہ میں مامور کردہ مانیٹرنگ ٹیموں کے ساتھ تعاون۔ سیاسی جماعتیں اور انتخابی امیدواران سرکاری ملازمین کو اپنی انتخابی سرگرمیوں سے منسلک کرنے یا اس کاحصہ بنانے سے اجتناب کریں گے اور ان کی طرف سے انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر حوصلہ شکنی کریں گے۔تمام انتخابی امیدواران کی طرف سے الیکشن ایجنٹ کی مامورگی کی جائے گی۔ جو قانونی تقاضوں کے مطابق انتخابی اخراجات کا حساب کتاب رکھیں گے اور قانون کے مطابق امیدواران کے الیکشن اخراجات ریٹرننگ افسر کے پاس پیش کرنے ہوں گے۔

واپس کریں