'' دھوپ کی دیوار''،پاکستان میں ہندوستانی موقف کی تشہیر میں ڈرامے کی تیاری
No image اسلام آباد( کشیر رپورٹ) پاکستان کی معروف ڈرامہ نگار عمیرہ احمد کی لکھی گئی ویب سیریز 'دھوپ کی دیوار' انڈین ویب سٹریمنگ پلیٹ فارم ''زی فائیو''پر دکھائی جائے گی ۔ '' بی بی سی'' کی ایک رپورٹ کے مطابق ریلیز کیے جانے والے ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک انڈین ہندو لڑکے کی ایک پاکستانی مسلمان لڑکی کے ساتھ نفرت اور لڑائی کیسے پیار بھرے رشتے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔دونوں کے والد انڈیا اور پاکستان کے فوجی ہیں اور دونوں انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر جاری کشیدگی کے دوران مارے جاتے ہیں۔ابتدا میں دونوں اپنے اپنے والد کی بہادری کی داستان سناتے اور ایک دوسرے کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیان دے کر لوگوں سے تعریف بٹورتے نظر آتے ہیں لیکن دھیرے دھیرے ان کی لڑائی دوستی میں بدل جاتی ہے اور وہ یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ملکوں کی کشیدگی لوگوں کی باہمی لڑائی ہرگز نہیں ہے۔ٹیزر کے اختتام پر احد رضا میر جو ڈرامے کا مرکزی ادا کر رہے ہیں وہ اداکارہ سجل علی جو اس ڈرامے میں پاکستانی لڑکی سارہ کا کردار کرتی نظر آتی ہیں ان کے لیے انگلش میں گانا گا رہے ہیں جس کا مطلب ہے 'سارہ غصہ مت کرو، ورنہ سارا انڈیا اور پاکستان اداس ہو جائے گا۔'عمیرہ احمد کا شمار پاکستان میں دور حاضر کے مقبول ترین ناول نگاروں اور مصنفوں میں ہوتا ہے۔ ان کے لکھے گئے کئی ڈرامے مقبول ہو چکے ہیں۔مصنفہ عمیرہ احمد نے انڈین ویب سٹریمنگ پلیٹ فارم کے لیے ویب سیریز لکھنے پر 'غدار' اور 'ملک دشمن' کہلائیجانے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دھوپ کی دیوار نامی ویب سیریز پر انھوں نے جنوری سن 2019 میں کام کرنے کا آغاز کیا تھا۔ان کے بقول پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ 'آئی ایس پی آر کو اس کی پوری کہانی بھیجی گئی تاکہ اگر کوئی قابل اعتراض مواد ہو تو اسے ایڈٹ کر دیا جائے۔'مصنفہ کا دعوی ہے کہ 'اس موضوع کو آئی ایس پی آر نے اوکے کر دیا تھا' اور اس کے ساتھ ساتھ انھیں راولپنڈی بلا کر ان سے میٹنگ بھی کی گئی اور کہا گیا کہ 'انڈیا پاکستان کے تعلقات پر فوج کا بھی یہی سٹانس ہے۔'آئی ایس پی آر سے کہانی کے اپروول سے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی جانب سیرابطہ کیے جانے پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا۔عمیرہ احمد کا کہنا تھا کہ 'یہ ڈرامہ کسی انڈین چینل کے لیے نہیں لکھا گیا تھا۔'انھوں نے وضاحت کی انھوں نے دھوپ کی دیوار سمیت تین ڈرامے گروپ ایم نامی پروڈکشن کمپنی کے ساتھ 2018 میں سائن کیے تھے جو کہ ایک پاکستانی کونٹینٹ کمپنی ہے۔عمیرہ احمد کا کہنا تھا کہ گروپ ایم نے ان میں سے دو پروجیکٹ 'الف' اور 'لعل' پاکستانی نجی چینل کو بیچے اور دو پروجیکٹ انٹرنیشنل پلیٹ فارم کو بیچنے کی کوشش کی، جن میں زی فائیو ، نیٹ فلکس اور چند دیگر فارم شامل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے متعدد ڈرامے عنقریب پاکستانی چینلوں پر بھی ریلیز ہو رہے ہیں اور اگر کسی پاکستانی مصنف کے کام کو بین الاقوامی سطح پرپذیرائی ملتی ہیں تو یہ ان کی نظر میں اچھی بات ہے۔دھوپ کی دیوار سیریز کی پروڈکشن کمپنی گروپ ایم سے بی بی سی نے اس موضوع پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا لیکن کمپنی نے اس کا جواب نہیں دیا۔

انڈیا سے دوستی بہت اچھی بات ہے ، جنوبی ایشیا میں امن ناگزیر ہے لیکن امن بندوق کی نوک پر نہیں ہو سکتا ، انڈیا سے '' دوستی'' کے نام پر انڈیا کی یکطرفہ شرائط پوری کرنا کمزوری،لاچارگی کا کھلا اظہار ہے، دونوں ملک عالمی طاقتوں کی مرضی کے بغیر امن سے مستفید نہیں ہو سکتے، اس بات کے امکانات پائے جاتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی ایما پہ انڈیا کی اطاعت قبول کئے جانے کی اقدامات زیر کار ہیں۔ محبتوں کا یکطرفہ اظہار کوئی موثر طریقہ نہیں ہوتا بلکہ اس بات کی دعوت ہوتا ہے کہ '' مجھے ہر صورت قبول ہے، چاہے قدموں میں گر کر ہی سہی''۔ تاہم یہ خام خیالی ہے کہ بلا اعلانیہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف طر ز عمل سے جان چھوٹ سکتی ہے اور عافیت نصیب ہو سکتی ہے۔پاکستان میں غاصب حاکمیت کی طرف سے ایسے انداز اپنائے گئے ہیں اور ایسی مہلک سوچ کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جو مملکت پاکستان کے جواز کی نفی کے مترادف ہیں۔ یہ ڈرامہ شرمناک ہے اور ' آئی ایس پی آر ' کی طرف سے اس ڈرامے کی منظوری المناک صورتحال ظاہر کرتی ہے۔انڈیا میں واضح اکثریت رکھنے والا انتہا پسند فرقہ طاقت کے جائز و ناجائز استعمال پر عمل پیرا ہے، کشمیریوں کے خلاف انڈیا کے بدترین ظلم و جبرکی صورتحال میں انڈیا کے ساتھ پیار و محبت کی پینگیں بڑہاتے ہوئے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ دریائوں کا پانی پاکستان کے زندہ رہنے کے لئے ناگزیر ہے، پاکستان کے تمام بڑے دریا سندھ،جہلم ہندوستانی مقبوضہ کشمیر سے ہی آتے ہیں۔ غاصب حاکمیت کاظلم عظیم یہ کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کی تقدیر پر دیرپا اثرات رکھنے والے فیصلے خفیہ طور پر کئے جا رہے ہیں اور عوام کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے۔اس ڈرامے سے واضح ہوتاہے کہ پاکستان انتظامیہ ہندوستانی موقف کی تشہیر پہ مامور ہو گئی ہے
واپس کریں