مودی کی کشمیر کے بھارت نواز رہنمائوں سے ملاقات، ریاستی بحالی کا معاملہ نئی حدبندی اور ریاستی الیکشن کے بعد دیکھنے کی یقین دہانی
No image نئی دہلی(کشیر رپورٹ۔24جون2021) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو جموں و کشمیر کے 14 بھارت نواز سیاسی رہنمائوں کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات کی ، جس میں فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی،عمر عبداللہ ، سجاد لون، یوسف تریگامی، غلام نبی آزاد،بی جے پی کے مقامی رہنما اور دیگر افراد شریک ہوئے۔وزیر اعظم مودی کی رہائش گاہ پہ منعقدہ اس اجلاس میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال،وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری پی کے مشرا ، اور مرکزی سکریٹری داخلہ اجے بھلا بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو یونین ٹیریٹری بنانے کے بعد کئے گئے مختلف اقدامات ، ترقیاتی منصوبوں، اسکیموں کے بارے میں ایک پریزینٹیشن بھی پیش کی گئی۔
ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے کہا کہ "ہماری ترجیح جموں و کشمیر میں نچلی سطح کی جمہوریت کو مستحکم کرنا ہے۔ حد بندی کو تیز رفتار سے ہونا ہے تاکہ انتخابات ہوسکیں اور جموں و کشمیر کو ایک منتخب حکومت ملی جو جموں و کشمیر کی ترقی کے راستے کو تقویت بخشے۔" وزیر اعظم مودی وزیر اعظم نے UT میں ترقی کی رفتار" پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ "لوگوں میں نئی امید اور آرزو پیدا کررہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں سیاسی اختلافات پیدا ہوں گے لیکن سب کو قومی مفاد میں کام کرنا چاہئے تاکہ جموں و کشمیر کے عوام اس سے مستفید ہوں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر میں معاشرے کے تمام طبقات کے لئے سلامتی اور تحفظ کی فضا کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ حد بندی کو تیز رفتار سے ہونا ہے تاکہ انتخابات ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح جموں و کشمیر میں نچلی جمہوریت کو مستحکم بنانا ہے۔ حد بندی کو تیز رفتار سے ہونا ہے تاکہ انتخابات ہوسکیں اور جموں و کشمیر کو ایک منتخب حکومت ملی جو جموں و کشمیر کی ترقی کے راستے کو تقویت بخشتی ہے ، " مودی نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد ، جہاں بہت سے لوگوں نے جموں و کشمیر کے ریاست کا مطالبہ اٹھایا تھا ۔مودی نے کہا کہ ریاست کی بحالی کے لئے نئی حد بندی اورپرامن انتخابات اہم سنگ میل ہیں۔امت شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نئی حد بندی اور الیکشن کے بعد ریاست کی بحالی کا معاملہ دیکھا جائے گا۔
بھارتی میڈیا ملنے والی اطلاعات کے مطابق ملاقات کی خاص بات یہ ہے کہ مودی حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی اور الیکشن کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ دیکھا جائے گا۔اس طرح مودی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بھارت نواز رہنمائوں سے اپنا مقصد حاصل کیا ہے اور ان رہنمائوں نے مودی حکومت سے تعاون کرنے کے روئیے کا اظہار کیا ہے۔
عمر عبداللہ نے ملاقات کے بعد کہا کہ اجلاس میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ وہ کشمیر کی دل اور دلی سے دوری ختم کرنا چاہتے ہیں۔بھارت نواز رہنمائوں نے ریاستی اسمبلی کے الیکشن سے پہلے مقبوضہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔غلام نبی آزاد نے کانگریس کی طرف سے ریاست کی بحالی، کشمیری پنڈتوں کی واپسی، ڈومیسائل قواعد کی تبدیلی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کی مطالبات پیش کئے۔"پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ملاقات اچھی طرح سے جاری رہی اور انہوں نے وزیر اعظم کو پاکستان کے ساتھ بیک چینل مذاکرات شروع کرنے کی تعریف کی جس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے اور دراندازی کی سطح میں کمی واقع ہوئی۔انہوں نے کہا ۔ "محبوبہ مفتی نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم امن عمل کو مزید فروغ دینے کے لئے ایک بار پھر پاکستان سے بات کر سکتے ہیں۔محبوبہ نے مزید کہا کہ .انہوں نے سرحد پار سے کنٹرول لائن تجارت کو بھی دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ۔ملاقات تقریبا تین گھنٹے جاری رہی۔یوں بھارتی وزیر اعظم مودی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بھارت نواز رہنمائوں کا ایک بھی مطالبہ تسلیم نہیں کیا تاہم ان سے انتخابی حلقوں کی نئی حدبندیوں اورمقبوضہ جموں وکشمیر اسمبلی الیکشن پر رضامندی حاصل کی ہے ۔ کشمیری حلقوں کے مطابق کشمیر کے بھارت نواز سیاسی رہنمائوں نے بغیر قیمت پرانی تنخواہ پہ کام کرنے پہ اتفاق کیا ہے۔

واپس کریں