وزیر اعظم مودی کی بھارت نواز رہنمائوں سے ملاقات کے بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس
No image اسلام آباد ( کشیر رپورٹ۔25جون2021) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آج ( جمعہ کو) دفتر خارجہ میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبوضہ جموں وکشمیر کے بھارت نواز رہنمائوں سے ملاقات کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے ردعمل اور خیالات کا اظہار کیا۔شاہ محمود قریشی نے اس ملاقات کے حوالے سے کئی ایسی باتیں کہیں کہ جو ملاقات میں ہوئی ہی نہیں اور انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے حالات و واقعات اور صورتحال کو بھارت نواز سیاستدانوں کے نقطہ نظر سے ہی بیان کیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کل چوبیس جون کو دلی میں ایک بیٹھک ہوئی اور اس بیٹھک میں 14کے لگ بھگ کشمیری قائدین کو مدعو کیا گیا،اس نشست میں ،ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ جو گفتگو ہوئی وہ کشمیر کے مستقبل کے بارے میں ہوئی،یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ ساڑھے تین گھنٹے کی وہ نشست تھی اور اس کا کوئی طے شدہ ایجنڈا نہ تھا۔ ایک اوپن فلور ڈسکشن تھی ،سب کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا گیا اور سب نے اپنی گفتگو وہاں کی ۔
یہ بھی میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں اور یقینا آپ کے علم میں ہے کہ کل کی بیٹھک میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کو نہ دعورت دی گئی تھی اور نہ ہی وہ وہاں موجود تھے۔ان کا نقطہ نظر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے،وہ ہمیشہ حق خود ارادیت کی بات کرتے آئے ہیں اور کر رہے ہیں،وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ جموں وکشمیر کا جو مسئلہ ہے جو مدعا ہے،اس کا مستقل اور دیرپا حل سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے جڑا ہوا ہے،اور کشمیریوں کی امنگوں کے عین مطابق ہونا چاہئے،وہ ان کا کل بھی موقف تھا اور آج بھی یہی ان کا موقف ہے۔
یہ بھی آپ کے علم میں ہے کہ کل کی نشست سے پہلے 22جون کو ایک اور نشست ہوئی تھی اور وہ کشمیری قیادت جو مدعو کی گئی تھی ،24کینشست کے لئے، انہوں نے آپس میں مشاورت کی مجلس کی تاکہ جب وہ ' بی جے پی ' سرکار سے ملاقات کریںتو اس ملاقات میں وہ ایک متفقہ لائحہ عمل اپناسکیں، چناچہ انہوں نے وہ نشست کی،اور ان کے جو مطالبات تھی انہیں وہ زیادہ موثر طریقے سے ، ایک بڑے طویل عرصے کے بعد ان سے بالمشافہ بیان کرسکیں۔
ایک چیز جو بڑی واضح ہوئی کل کی نشست سے ،وہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات کا اعتراف کر لیا کہ دلوں کی دوری ہے اور کشمیری دلی سے دور ہیں،یہ تو بات سامنے آگئی ، اور کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس نشست سے دلوں اور دلی کی دوری کو مٹانا چاہتا ہوں ، یہ اعتراف تھا،یہ جو تاثر دیا جا رہا تھا پہلے کہ وہاں حالات معمول کی طرف لوٹ آئے ہیں،سب نے 5اگست2019کے اقدامات کو کھلے دل سے قبول کیا ہے اور ان اقدامات سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال میں خوشگوار تبدیلی آئے گی ،آج یہ جملے اس کی نفی کر رہے ہیں اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ جو کہا گیا تھا ،جن عزائم کاذکر کیا گیا تھا،ان اقدامات کے اعلانات کے ساتھ،وہ آج خاک میں مل گئے۔
آپ نے یہ بھی دیکھا ، اور میرا یہ تجزئیہ ہے ،جو میں نے گفتگو سنی ہے جو مجھے رپورٹ کیا گیا ہے اور میں نے مختلف لوگوں کے بیانات سنے ہیں،اگر میں مختصرا اس کا خلاصہ آپ کی خدمت میں پیش کروں تو میں توکہوں گا کہ جو کل کی بیٹھک تھی ،وگفتن ،نشستن،برخاستن۔ نشست ہوئی حاصل وصول کچھ نہ ہوا،میری نظر میں یہ ایک ناٹک تھا،اور ناٹک کیوں تھا،اس میں سے نکلا کچھ نہیں ،ناٹک اس لئے تھا کہ پچھلے دو سال کے جو اقدامات لئے گئے اور دو سال میں جو جموں وکشمیر پر جبر و تشدد مسلط کیا گیااس سے ہندوستان کا دانشوارانہ امیج ،جو ساکھ ہے وہ بری طرح متاثر ہوئی ،نہ صرف ہندوستان کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ وزیر اعظم مودی کی ذاتی شخصیت پر بھی بہت سے سوالیہ نشان اٹھائے گئے،اس خفت کو مٹانے کے لئے اور اپنے انٹرنیشنل امیج کو بحال کرنے کے لئے یہ ایک کوشش کی گئی۔کہتے رہیں کہ وہاں حالات بالکل معمول پر آگئے اور آپ نے دیکھا کہ کچھ چنے ہوئے لوگوں کو بھی وہاں لیجایا گیا،
لیکن جو کشمیری قائدین وہاں گئے انہوں نے کہا کیا ؟انہوں نے متفقہ ،یک زباں ہو کر 5اگست2019کے جو اقدامات تھے،ان کے' ریورسل 'کا مطالبہ کیا،یعنی کہ اس کو مسترد کیا،اور کہا کہ ہمارے لئے ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے،اور جو گفتگو سامنے آئی ہے اس سے واضح طور پر ہم تجزئیہ کر سکتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر ریاستی درجے کی بحالی کے خواہشمند ہیںاور اس کا اعادہ کل کی نشست سے بھی یہ تاثر ملتا ہے،وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے جو غیر قانونی اور ان کی نظر میں غیر آئینی اقدامات کئے ،وہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہیں،اور وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اقدامات چیلنج ہو چکے ہیں اور اس وقت بھی سپریم کورٹ میں ان کی پٹیشن پڑی ہے،دو سال سے وہاں پٹیشن ہے ،یہ اور بات ہے کہ ابھی تک شنوائی نہیں ہوئی اس کا فیصلہ نہیں ہوا،وہ معترض تھے سپریم کورٹ گئے،اگر انہوں نے خوش دلی سے فیصلہ قبول کیا ہوتا تو سپریم کورٹ نہ جاتے۔
اب واضح یہ دکھائی دے رہا ہے کہ کل کی ملاقات اور ' ریورسل' کا جو مطالبہ انہوں نے کیا ،اس پر انہیں کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا،یہ کہا گیا کہ ہاں ریاستی حیثیت بحال کر دی جائے گی موزوں وقت پر،یہ بڑی مبہم سی بات ہے،سوال اٹھتا ہے کہ مزید کتنی کشمیری جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑے گااس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ ہے اس کی اہمیت جتلانے کے لئے۔
یہ بات سامنے آئی کہ کل وہاں اس بات کا ذکر بھی ہوا کہ ہمارا اعتماد اٹھ گیا ہے اور اس اعتماد کو بحال کرنے کے لئے اور اعتما د بحال کرنے کا جو واحد طریقہ ہے وہ ہے ریاست کے درجے کی مکمل بحالی،یہ کہا گیا اور میں نے سنا یہ جملہ ۔ یہ بھی سامنے آیا کہ تذکرہ ہوا کہ کشمیری بہت غصے میں ہیں ،نالاں ہیں ،تکلیف میں ہیں،کرب میں ہیں اور اپنی تضحیک محسوس کر رہے ہیں،ان کی جموں وکشمیر کی سٹیٹ کو آپ نے ' ڈائون گریڈ ' کر دیا،یونین ٹیریٹری میں،ان کی گفتگو سے لگتا ہے کہ انہیں اس کی تکلیف ہے،وہ چبن موجود ہے،اس نشست سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ وہاں بہت سرمایہ کاری ہو جائے گی ،وہاں کوخوشحالی آئے گی،معاشی طور پر خوشحالی آئے گی، وہاں حالات اس کے برعکس ہیں،مطالبہ کیا گیا،'کمپنسیشن' کا ،کہ جو دو سالوں میں تاجروں کا دیگر طبقات کا کسانوں کا ، باغ اجڑ گئے،ان کی کمائی کا ذریعہ ٹورازم ہے،برباد ہو گئی،لوگوں کو بے پناہ مالی نقصان ہوا،ذہنی اذیت کے علاوہ،انسانی مشکلات کے علاوہ جو ان کا مالی نقصان ہوا، اس کا تذکرہ ہوا،ایک صاحب نے کہا کہ پچاس فیصد صنعت بند پڑی ہے مقبوضہ کشمیر میں،کہاں خوشحالی آئی ہے ،بربادی آئی ہے۔
ایک اور چیز جو بڑی واضح ہو کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ دو سالوں کا جو عرصہ گزرا ہے،اس میں مکمل فوجی گھیرائو برقرار ہے،قیادت نہ صرف ٹاپ کی بلکہ سیکنڈ اور تھرڈ لیئر بھی قید میں ہے،اور چارجز بھی فریم نہیں کئے گئے،بہت سے لوگوں کو بند کیا ہوا ہے،قید کیا ہو اہے،نظر بند کیا ہوا ہے،ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ جاری ہیں،بنیادی انسانی حقوق بلکل سلب ہیں،اور جتنے سٹیٹ ٹولز آف اوپریشن ہیں،ان کو بروئے کار لایا گیا،لیکن جو حیران کن اور حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ اس کے باوجود وہ ان کے عزم کو توڑ نہیں پائے،ہماری مصدقہ اطلاعات یہ کہہ رہی ہیں۔
جو ' اے پی سی' بلائی گئی،گفتگو تو ہو گئی،گفتگو میں مانگا کیا گیا؟ڈیمانڈز کیا تھیں؟وہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی،وہ مطالبہ کر رہے ہیں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی،ماورائے عدالت کلنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں،کارڈن سرچ آپریشن سے جو چیزیں منسلک ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں، وہ مطالبہ کیا کر رہے ہیں کہ ' ریورسل آف ال لیگل اینڈ یونیلیٹرل سٹیپس' ،قابل غور بات یہ ہے کہ یہ کون کہہ رہا ہے ،پاکستان نہیں کہہ رہا،یہ کشمیری کہہ رہے ہیں اور کشمیری قیادت کا وہ حصہ کہہ رہا ہے جو ماضی میں حکومتوں کا حصہ رہا ہے،میں کسی کانام نہیں لینا چاہتا لیکن دلی کے ساتھ ان کے مراسم رہے ہیں،یعنی کہ میں حریت کی قیادت کی بات نہیں کر رہا ،میں اس لیڈر شپ کی بات کر رہا ہوں جن کا دلی سرکار کے ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھا گفتگو ہوا کرتی تھی،نشستیں ہوا کرتی تھیں،کولیشن گورنمنٹ بناتے رہے، ' ایلینیشن' کا یہ عالم ہے۔
میری نظر میں کل کی نشست ناکام تھی، بے سود تھی ،بے مقصد تھی،اس سے کچھ حاصل وصول نہیں ہو گا،کشمیری میری نظر میں آج بھی اپنے تشخص کی تلاش میں ہیں،وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی ' اٹانومس سٹیٹس' کا، خود مختاری، وہ تحفظ چاہتے ہیں اور ڈیموگریفک ریسٹکچنگ کو ذہنی طور پر قبول نہیں کر رہے،وہ اس پر احتجاج کر رہے ہیں،وہ تحفظ چاہتے ہیں پراپرٹی رائٹس کی ،ملازمتوں کی جو ان کے بچوں کا مستقبل ہے جو تاریک دکھائی دے رہا ہے،وہ فکر مند ہیں۔ یہ صورتحال سامنے آئی ہے۔
وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز رہنمائوں کے قد کاٹھ کو بلند کرنے کی کوشش کرتے نظر آ رہی ہے۔
واپس کریں