آزاد کشمیر بجٹ 2021-22، وزیرخزانہ ڈاکٹر نجیب نقی کی بجٹ تقریر
No image مظفرآباد( 29جون 2021)وزیر خزانہ و صحت آزادحکومت ریاست جموںو کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل 5واں عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے جس میں آزاد خطہ کی تعمیر وترقی کو مد نظر رکھتے ہوئے مکمل منصوبہ بندی کرتے ہوئے وسائل مختص کئے گئے ہیں تحریک آزاد ی کشمیر بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام الحاق پاکستان کی منزل حاصل کریں گے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں تاریخی 35فیصد اضافہ ، صحت ، تعلیم ، انفراسٹرکچر کے لئے اربوں روپے مختص کرنا موجودہ حکومت کاکارنامہ ہے ۔ منگل کے روز آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت اجلاس میں مالی سال 2021-22کاتخمینہ میزانیہ اور مالی سال 2020-2021کا نظر ثانی میزانیہ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی نے کہا ہے کہ ہم اللہ رب العزت کے دل سے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں یہ موقع عطاا فرمایا کہ ہم نے عوام کی خدمت کی اور اپنے منشور پر عملدرآمد کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت نے اپنے منشور کے نوے فیصد سے زائد نکات پر عملدرآمد کر کے ایک ریکارڈ قائم کیا ۔لیکن اس حکومت کے پانچ سالہ دور کا ماضی کی کسی بھی حکومت کے پانچ سالہ دور سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ دور ریاستی ترقی ،خوشحالی ،خود کفالت، میرٹ کی بحالی کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر نے حلف اٹھاتے وقت تین بنیادی ترجیحات کا اعلان کیا ان میں تحریک آزادی کشمیر ، گوڈ گورننس اور پائیداراور دیر پا ترقی جن پر شاندار پیش رفت ہوئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر جو کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے، کو برقرار رکھتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر نے تین سال مسلسل یورپین پارلیمنٹ کے دورے کیے ، انسانی حقوق کی سب کمیٹی کے چیئرمین کو متعدد خطوط لکھے اور اسی دوران کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سماعت بھی کی۔ وزیراعظم آزادکشمیر اپنے وفد کے ہمراہ کمیٹی کی خصوصی دعوت پر وہاں موجود تھے ۔امریکہ ،برطانیہ ،سمیت دیگر ممالک کا دورہ کیا ارکین پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کیں ۔مقبوضہ کشمیر کے اندر ہندوستانی مظالم کے دستاویزی ثبوت پیش کیے ۔صدر آزادکشمیر نے حکومت آزادکشمیر کی معاونت و مشاورت سے اندرون و بیرون ملک مسلہ کشمیر پر اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے بہترین انداز میں سفارتی مہم چلائی خصوصاً 05 اگست 2019کو ہندوستان کی جانب سے غیر آئینی ، غیر قانونی طور پر بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کر دیا جس سے پوری وادی عملًا جیل میں بدل گئی ۔ غیرریاستی شہریوں کو ریاست میں آباد کرنے اور اس اقدام کے خلاف وزیراعظم آزادکشمیر نے فوری طورپر آزادکشمیر کی تمام سیاسی ، مذہبی جماعتوں اور حریت کانفرنس کے ساتھ مشاورت کے لیے آل پارٹیز کانفرنسز کا انعقاد کیا اور ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ۔مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے بے پنا ہ قربانیاں دیں، وہیں آزادکشمیر کے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے لوگوں نے بھی اس میں بھرپور حصہ ڈالا۔وزیراعظم آزادکشمیر کی خصوصی ہدایت پر لائن آف کنٹرول پر شہید ہونے والے سویلین کے اہلخانہ کو ماہانہ فی کس تین ہزار روپے گزارہ الاونس کی ادائیگی کی جارہی ہے اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر حکومت پاکستان کے تعاون سے بنیاد ی سہولیات کی فراہمی کے منصوبہ کا فیز ون شروع ہو گیا ہے ۔حکومت آزادکشمیر نے اپنے بجٹ سے مہاجرین جموں کشمیر کے گزارہ الاونس میں اضافہ کیا۔ پاک فوج اور آزادکشمیر حکومت نے متاثرین لائن آف کنٹرول کے مسائل کے حل کے لیے باہم ملکر کام کیا افواج پاکستان نے کنٹرول لائن پر دفاع وطن کے لیے جانی و مالی قربانیاں دیں جنہیں خراج تحسین پیش کرنا قومی فریضہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسلامی فلاحی ریاست کی جانب عملی پیش رفت کرتے ہوے قانون ساز اسمبلی سے یتیم بچوں ،بیوہ عورتوں کی کفالت کا قانون بھی منظور کیا ۔انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات پر قابو پر کر ملازمین میں خود اعتمادی کی فضا بحال کی، اداروں کو مضبوط کیا، میرٹ اور انتخاب سے ہٹ کر نہ تو ترقیابی کی اور نہ ہی تقرری۔ ہم یہ بات بڑے فخر اور اعتماد سے کہتے ہیں کہ ہمارے پانچ سالہ دور میں محکمہ تعلیم میں تقرریوں کیلئے NTSکا نفاذ کیا اور یہی طریقہ کار اپنایا جاکر جملہ محکمہ جات کے لئے گریڈ07تا15 پر تقرری کے لئے بھی قانون سازی کر لی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری حکومت نے نامساعد مالی حالات کے باوجود ملازمین کے لیے بلاسود قرضہ جات کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھی ۔الحمد اللہ سال رواں میں ہم ملازمین کو قرضہ کی مد تعمیر مکان میں دو ارب روپے قرضہ کی سہولت دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سال رواں میں عرصہ سے انتظار میں ترقیابی کے منتظر آفیسران و ملازمین کی بیشتر محکمہ جات کی اسامیوں کو اپ گریڈ کیاگیا ہے ۔ بطور خاصپرائمری و جونیئر اساتذہ کرام جو عرصہ دراز سے ترقیابی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے تھے کی اسامیاں اپ گریڈ/مبدل کرتے ہوئے بطور ایلیمنٹری ٹیچر کئے جانے کے علاوہ سکیل تنخواہ بی7-اور بی9-کے بجائے بی 11-کیا گیا ہے جس سے ملازمین کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک تعلیمی پیکج لائے جس کے تحت پرائمری سے ڈگری کالج تک درجہ بلندی کے علاوہ آزاد کشمیر بھر کے جملہ سکول و کالجز میں سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف کیڈر کی1300 آسامیاںاضافی فراہم کی گئیں۔جس سے آزاد خطہ میں معیار تعلیم میں بہتری ہوگی۔حکومت پاکستان کے ساتھ1992 کے Financial Arrangements کوRevise کرتے ہوئے2018 میں New Financial Arrangementsکے تحت آزادکشمیر کے وفاقی ٹیکس شیئر کو2.27% سے بڑھا کر3.64% کیا جس سے حکومت آزادکشمیر کو مالی استحکام حاصل ہوا۔تیرہویں آئینی ترمیم کے تحت2جون2018سے ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ آزاد کشمیر کونسل سے آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔ ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی/موثر انتظامی کنٹرول کی مضبوطی کیلئے سنٹر ل بورڈ آف ریونیو کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے2018 کے مقابلہ میں2021-22 کے آمدنی اہداف دوگنا ہو چکے ہیں۔ٹیکس نظام میں مزید بہتری کیلئے Automation of Tax Management System of AJ&K سکیم لاگتی63.000ملین روپے منظور کی گئی ہے، جس سے مزید بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر بینک بہت جلد ایک شیڈول بینک ہو جائے گا ،جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔گزشتہ سال2.44 ارب روپے کے قرضہ جات صارفین کودیئے گئے۔جس سیبینک آف آزاد جموںو کشمیر کے اثاثہ جات میں بھی نمایا ں اضافہ ہوا اورجن کی مالیت16.9ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کا بوجھ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ آئندہ سالوں میں اس بوجھ کو کم کرنے کے لئے موجودہ حکومت آئندہ مالی سال سے کنٹری بیوٹری پنشن سکیم شروع کر رہی ہے۔ جس سے خاطر خواہ رقم پنشن کی مد میں جمع ہو گی اور قومیخزانہ پر بوجھ کم ہو گا۔انہوں نے کہا کہ تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد آڈٹ اینڈ اکونٹس ڈیپارٹمنٹ حکومت آزاد کشمیرکے انتظامی کنٹرول میں آنے کے باعث ہر دو محکمہ جات کی Capacity Building میں مزید بہتری پیدا کرنے کے لئے دیگر سروس گروپس کی طرح آڈٹ اینڈ اکونٹس سروس گروپ قائم کیا گیا ہے جس سے ان ڈیپارٹمنٹس میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو روز گار میسر آنے کے علاوہ ان ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
وزیر خزانہ نے مالی سال 2020-21کے نظر ثانی میزانیہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ریونیو 28,500.000 ملین روپے
i۔ انکم ٹیکس 20,600.000 ملین روپے
ii۔ دیگر ٹیکسز 7,900.000 ملین روپے
Variable Grant 56,890.000 ملین روپے
ریاستی محاصل 21,460.000 ملین روپے
Water Usage Charges 700.000 ملین روپے
Capital Receipts (Loan & Advances) 450.000 ملین روپے
جاریہ اخراجات 108,000.000 ملین روپے
ترقیاتی اخراجات 24,500.000 ملین روپے
کل نظر ثانی میزانیہ 2020-21ء کے لئے 132,500.000 ملین روپے منظوری کے لئے پیش کئے جارہے ہیں۔
وزیر خزانہ ڈاکٹر محمدنجیب نقی خان نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت پاکستان نے مالی سال2021-22ء کے لیے آزاد جموں و کشمیر کے ترقیاتی میزانیہ کے لیے 28ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس میں2 ارب روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے ۔ اس طرح ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم مالی سال 2020-21ء کے مقابلہ میں 14فیصد زائد ہے۔ مزید براں وزارت امور کشمیر کے زیر انتظام جاریہ منصوبہ جات کیلئے 4ارب روپے کی رقم مہیا کی گئی ہے جس میں آزاد کشمیر کے سرحدی علاقوں میں بھارتی فائرنگ سے متاثرہ عوام کی فلاح و بہبود کے جاریہ منصوبہ جات کیلئے ایک ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے مالی مشکلات کے باوجود ترقیاتی فنڈز کی فراخدلانہ فراہمی پر ہم انکے انتہائی شکر گزار ہیں ۔ آزاد کشمیرکے ترقیاتی پروگرام کے لئے مالی وسائل کی فراہمی سے نہ صرف وفاقی حکومت کی آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی میں دلچسپی کی عکاس ہے بلکہ موجودہ حکومت پر اعتماد کا بھی مظہر ہے۔انہوں نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام مرتب کرتے وقت جاریہ منصوبہ جات کی بر وقت تکمیل کے لیے 66 فیصد فنڈز رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کے دوران176 منصوبہ جات کی تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ34 فیصد فنڈز نئے منصوبہ جات کے لیے تجویز کیے گئے ہیں ۔اس طرح مالی سال 2020-21 کے دوران تکمیل ہونے والے170 منصوبہ جات کو مد نظر رکھتے ہوئے209نئے منصوبہ جات شامل کئے گئے ہیں۔ تاہم مجموعی ترقیاتی پروگرام کو قابل عمل سطح کی حد تک برقرار رکھا گیا ہے ۔
وزیر خزانہ ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان نے اپنی بجٹ تقریر میں آزاد کشمیر کے ترقیاتی میزانیہ برائے سال 2021-22ئ کے اہم خدوخال بتائے جن کی تفصیل اس طرح ہے۔
٭ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2021-22ء میں سماجی شعبہ جات کیلئے مجموعی طور پر 22فیصد ،پیداواری شعبہ جات کیلئے10فیصداور انفراسٹرکچر کے شعبہ جات کیلئے68فیصد مالی وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔
٭ 500بستر ڈویژنل ہسپتال میرپور ، 200بستر جنرل ہسپتال راولاکوٹ اور تحصیل ہسپتال پٹہکہ کے مرحلہ اول کے منصوبہ جات کو مکمل کرتے ہوئے ان ہسپتالوں کی توسیع کیلئے مرحلہ دوئم منصوبہ جات کو آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں رکھا کیا گیا ہے۔علاوہ ازیںضلعی ہسپتال حویلی کے ہمراہ ڈاکٹر/نرسز ہاسٹل کی تعمیر ،تحصیل ہسپتال کیل ، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کھوئی رٹہ کے علاوہ AIMS اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال باغکے ہمراہ سنٹر برائے امراض قلب کے قیام کی تجویزہے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ مزید براں ضلعی ہسپتال کوٹلی کے ہمراہ 200 بستر نئے وارڈ کی تعمیر کا منصوبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ مظفرآبادمیں 200بستر جدید طرز ہسپتال اور ٹراما سنٹر کی تعمیر کیلئے 20کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
٭ عوام کو بہتر سفری سہولیات کی فراہمی کے لیئے آزاد کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملانے والی اہم شاہرات ، جبکہ بین الاضلاعی اور ضلع سے تحصیل صدر مقامات کی 939کلومیٹر شاہرات کی ری کنڈیشننگ اور 125کلومیٹر نئی سڑکات کی تعمیر کے منصوبہ جات پر تیزی سے کام جاری ہے۔ جن کوآئندہ مالی سال کے دوران مکمل کیاجائے گا تاکہ عوام کو جلد از جلد بہتر سفری سہولیات دستیاب ہو سکیں ۔نیز اٹھمقام تا دودھنیال اور کیل تا تائوبٹ شاہراہ کی تعمیرکے کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ جبکہ 2165کلومیٹر رابطہ سڑکوں کی تعمیر و بہترگی کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔
٭ میرپور میں زلزلہ سے متاثرہ اہم شاہراہ بانگ ہیڈ چیچیاںجاتلاںروڈ 14کلومیٹر کی بحالی و تعمیر نو کے علاوہ اپر جہلم نہر پر افضل پور کے مقام پر RCCپل کی تعمیر کے منصوبہ جات پر تیزی سے کام جاری ہے۔
٭ آزاد جموں و کشمیر کے اضلاع کے مابین باہمی رابطہ اور تجارتی /سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے کشمیر بائی وے کی فزیبلٹی اور تعمیر کے منصوبہ جات لاگتی 5 ارب روپے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے جانے کی تجویزہے۔
٭ علاوہ ازیں آزاد کشمیر میں سلائیڈ ٹریٹمنٹ ، روڈ سیفٹی اور انٹری پوائنٹس پر Weigh Stationsکے قیام کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ سڑکوں کی شکست و ریخت سے محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا جا سکے۔
٭ دیہی علاقوں میں عوام کو بنیادی اور فوری ضروریات کی فراہمی کے لیئے کمیونٹی انفراسٹرکچر پروگرام پر کام جاری رہے گا۔اس پروگرام پر مجموعی طور پر 45ہزار سے زائد چھوٹے منصوبہ جات کو مکمل کیا گیا ہے۔
٭ موجودہ حکومت نے گزشتہ 5سالوں کے دوران آزاد کشمیر بھر میں بجلی کی سہولیات کی فراہمی اور بہتری کیلئے عملی اقدامات کئے ہیں،جو آئندہ مالی سال بھی جاری رہیں گئے۔
٭ آئندہ مالی سال کے دوران سماھنی ، سہنسہ،ہٹیاںاور حویلی میں گرڈاسٹیشن کی تعمیر کے منصوبہ جات ترقیاتی پروگرام میں شامل کئے گئے ہیں جبکہ بجلی کے نظام کی مزید Augumentationکی جائے گی۔ علاوہازیں26.5میگاواٹ کے6 منصوبہ جات رواں مالی سال میں مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 14.4میگا واٹ جھینک ہائیڈل پاور پراجیکٹ بھی شامل ہے ۔آئندہ مالی سال کے دوران تقریباً 34میگا واٹ کے منصوبہ جات پرکام کا آغاز کیا جائیگا ان میں 22میگا واٹ جاگراں IV-کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
٭ ترقیاتی ادارہ جات مظفرآباد ، باغ ، راولاکوٹ ، کوٹلی او رمیرپور کی حدود میں سڑکوں ، پارکس کی تعمیر اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبہ جات پر کام جاری رکھا جائیگا۔
٭ مالی سال 2016-17سے جملہ ضلعی ہسپتالوں میں ایمر جنسی طبی سروسز کا آغاز کیا گیا ہے اور عوام کو مفت ایمرجنسی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔ آئندہ مالی سال کے دوران اس پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے ترقیاتی میزانیہ سے مزید 20کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جس سے ایمر جنسی ادویات سمیت ڈائیلاسیز اور محفوظ انتقال خون کی سروسز کوبہتربنانے کیلئے اقدامات عمل میں لائے جائیں گئے۔ اسی طرح COVID-19وبائی مرض کے علاج و معالجہ کیلئے آئندہ مالی سال میں 20کروڑ روپے کے منصوبہ پر عمل درآمد کی تجویز ہے۔
٭ آزاد کشمیر کے کیپیٹل/ جملہ ڈویژنل ہیڈکوارٹر پر ضروری بنیادی اورشہری سہولیات کی فراہمی کیلئے 2ارب 50کروڑروپے کی رقم رکھی گئی ہے تاکہ ان شہروں کو ملک کے دیگر شہروں کے مساوی سہولیات میسرآسکیں۔
٭ آزاد جموں و کشمیر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیئے مالی سال 2021-22ء میںشعبہ پبلک ہیلتھ کے ذریعے کوٹلی، بھمبر ، آٹھمقام ، کہوٹہ ، ہٹیاں بالا ، پلندری ، باغ، میرپور، مظفرآباد، راولاکوٹ اورچندسب ڈویژنل ہیڈکوارٹر چکار ،عباس پور، ہجیرہ، بلوچ ، چڑہوئی ، سمائنی، کھوئی رٹہ ، سہنسہ ، بھڑنگ ضلع بھمبر اور ڈوبہ ہوتریڑی ضلع مظفرآباد کی سکیم ہاء پر عملدرآمد کئے جانے کی تجویز ہے۔
٭ ضلعی ہیڈکوارٹر کہوٹہ ، ہٹیاںبالا جبکہ سب ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بلوچ ، تھوراڑ ، کھوئی رٹہ ، پٹہکہ ، سماہنی اور دولہاں جٹاں کوٹلی میں دفتری مکانیت پریس کلب مظفرآباد ، دفتر نظامت لوکل گورنمنٹ ، احتساب بیورو کی عمارت کی تعمیر کے لئے سکیم ہاء پرعملدرآمد جاری ہے تاکہ سرکاری امور کو بہترطریقہ سے انجام دیا جا سکے۔
٭ قبل ازیں تحصیل ہٹیاں بالا ، دھیرکوٹ اور ڈڈیال کی حد تک لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جا چکا ہے ۔جبکہ آئندہ مالی سال میں مزید 10تحصیلوں کے لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کر نے کی نئی سکیم پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے ۔ نیز راولاکو
ٹ میں آئی ٹی بورڈ کے زیرانتظام ایک جدید طرز کا تربیتی مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔
٭ بھمبر میں ایک پولی ٹیکنیک کالج قائم کیا جا رہا ہے ۔ جس سے جدید معیاری فنی تعلیم کی سہولیات دستیاب ہو سکیں گی جو موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔علاوہ ازیں AJKTEVTAکے زیر انتظام 250افرادکو فنی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران مزید700افراد کو پیشہ وارانہ تربیت دی جائیگی۔
٭ ایک ارب روپے کا Skill Development Fundقائم کیا گیا ہے۔ جس کے منافع سے پاکستان کے بہترین اداروں میں نوجوانوں کو فنی تربیت دلائی جائے گی تاکہ یہ تربیت یافتہ افراد اندرون اور بیرون ملک ملازمتوںکے مواقع حاصل کرنے کے اہل ہو سکیں۔
٭ حکومت پنجاب کے مالی تعاون سے اخوت فاونڈیشن کے ذریعے آزاد کشمیر بھر میں 63724مرد و خواتین کو بلاسودقرضے فراہم کئے گئے ہیں جسکی مجموعی مالیت 2ارب 23کروڑ روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے مزید30ہزار افرادکو90کروڑ روپے کی سہولت فراہم کی جائیگی۔ اس اقدام سے خود روزگاری کے مواقع میسرہونگے۔
٭ زراعت /امور حیوانات کے ترقیاتی پروگرام کے تحت زرعی مشینری ، بیج اور کھاد رعایتی نرخوں پر فراہم کئے جائیں گئے علاوہ ازیں 30نئے ڈیری فارمز قائم کئے جاچکے ہیں ۔
٭ آزاد کشمیر کے گرلز ڈگری و انٹر کالجز،ہائیر سیکنڈری سکولز اور ہائی سکولز میں Missing facilitiesکی فراہمی کے منصوبہ کے لئے مجموعی طور 50کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ سکولوں اور کالجوں کے عمارات کی تعمیر اور ضروری سازو سامان کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جائیگا۔
٭ آزاد جموں و کشمیر میں خواتین کی اقتصادی خود انحصاری کو یقینی بنانے کیلئے ایک اہم منصوبہ پر عملدرآمد کا آغاز کیا جارہا ہے۔
وزیر خزانہ خزانہ ڈاکٹر محمد نجیب خان نے منگل کو اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال 2021-22ء میںشعبہ رسل و رسائل کیلئے 10ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے جوآزاد کشمیر کے مجموعی ترقیاتی پروگرام 2021-22ء کا 36فیصدہے۔رواں مالی سال کے دوران ریاست آزاد جموں و کشمیر میںمتعدد اہم شاہرات و رابطہ سٹرکات اور آر سی سی،سٹیل و معلق پل ہا کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔مالی سال 2020-21 کے دوران آزاد کشمیر میں مجموعی طور پر125کلومیٹر نئی سڑکات کی تعمیر کے علاوہ 939 کلومیٹر موجودہ سڑکات کی ریکنڈیشنگ عمل میں لائی گئی۔ علاوہ ازیں رواں مالی سال کے دوران642میٹر RCC، 79میٹر سٹیل پل نیز 98 میٹرSuspension پُل ہاء تعمیر کیئے گئے جبکہ 2165 کلومیٹر رابطہ سڑکات کی تعمیر و ریکنڈیشننگ کے منصوبہ جات پر عملدرآمد جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کو پاکستان سے ملانے والی ، بین الاضلاعی ،تحصیل کو اضلاع سے ملانے والی سڑکات کی تعمیر اور کئی دیگر بڑی شاہرات کی اپ گریڈیشن کا کام تیزی سے جاری ہے۔اس کے علاوہ ضلع حویلی اور ضلع پونچھ کے درمیان مسافت کو کم کرنے اور سیاحت کے فروغ کے لئے تولی پیرتا لسڈنہ روڈ کی تعمیرنیز ضلع نیلم میں مقامی آبادی اور سیاحوں کی سہولت کے لیئے اٹھمقام تا کیل روڈ 53کلومیٹرکی اپگریڈیشن کی سکیم ہا ء کی منظوری کے بعدان پر عملدرآمد جاری ہے نیز دودھنیال تا شاردہ 16کلومیٹر روڈ اور کیل تائوبٹ روڈ22کلومیٹر کی اپگریڈیشن کی سکیم ہا ء اور شاردہ نوری ناڑ ٹاپ روڈ، نوسیری اٹھمقام روڈ کے منصوبہ جات پر بھی رواں سال عملدرآمد جاری ہے۔ علاوہ ازیں کہوڑی پٹہکہ دیولیاں روڈ، گڑھی دوپٹہ کومی کوٹ چھتر کلاس روڈ، شاہ سلطان پُل ، چکار سدھن گلی روڈ، ڈھلی لسڈنہ روڈ،تنگیری چڑی کوٹ عباسپور روڈ، پلندری کلہ روڈ، تراڑکھل بلوچ روڈ ، بلوچ جھنڈا بگلہ تالاواڑی روڈ، سوا کراس گوئیں نالہ روڈاورمنگ کراس گوئیں نالہ تا منگ نکہ بازار روڈ کی سکیم ہا پر بھی عملدرآمد ہو رہا ہے۔ مزید برآں کوٹ جیمل افتخارآباد روڈ، جھنڈالا پیر گلی روڈ، جاتلاں علی بیگ روڈ ، ہال روڈ میرپور ، پیر گلی پیر کوڈی کالا ڈب روڈ، پلاک ڈڈھیال دھانگ گلی روڈ، کوٹلی پلندری کلہ روڈ، کوٹلی گلپور کیروٹ روڈ (بقیہ حصہ) اور کوٹلی نکیال روڈ (بقیہ حصہ) کے منصوبہ جات بھی منظوری کے بعد عملدرآمد کے مراحل میں ہیں۔
وزیر خزانہ ڈاکٹر محمدنجیب نقی خان نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے رٹھوعہ ہریام پُل میرپور مالیتی6 ارب 48 کروڑ کے خلاف تعمیراتی کام جاری ہے اور متذکرہ منصوبہ کے لیے آمدہ مالی سال کے ترقیاتی میزانیہ میں مبلغ67 کروڑ 33 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ(NDRMF )کے تعاون سے پونچھ ڈویژن میں میجر سڑکات پر لینڈ سلائیڈ ز کی درستگی / تعمیر نو کا منصوبہ مالیتی 61 کروڑ 90 لاکھ روپے بھی عمل درآمد کے مرحلہ میں ہے۔
ر واں مالی سال2020-21ء کے نظرثانی ترقیاتی میزانیہ میں محکمہ برقیات کے لئے کل 1ارب10کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ان فنڈز کے خلاف مجموعی طور پر 7 ہزار9 سو ا یچ ٹی اورایل ٹی پولز،4 سو 50ٹرانسفارمرز کی تنصیب اور 27ہزارسے زائد بجلی کے کنکشن کی فراہمی کے اہداف مکمل کیے جارہے ہیں ۔جس سے آزاد کشمیر میں 1 لاکھ 33ہزارکی آبادی مستفیدہو گی اس طرح اب تک آزاد کشمیر بھر میں مجموعی طور پر تقریباً 96فیصد صارفین کو بجلی کے کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں ۔ آزادکشمیر کے ضلع میرپور اور بھمبر میں ستمبر 2019 ء کے زلزلہ کے باعث بجلی کے نقصانات کی بحالی کا منصوبہ بھی 4 کروڑ 41 لاکھ روپے مالیت سے مکمل کیا جا رہا ہے۔آزاد کشمیر کی میونسپل کارپوریشن / ٹائو ن کمیٹی کی حدود میں محکمہ برقیات کے نیٹ ورک کی بہتری کے لئے اور آزاد کشمیر کے بقیہ علاقہ جات جوابھی تک الیکٹریفکیشن پروگرام کا حصہ نہ بن سکے تھے، کو بجلی کی فراہمی کا کام رواں مالی سال میں مکمل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی سال2021-22ء کے ترقیاتی میزانیہ میں محکمہ برقیات کے لیے ایک ارب 20کروڑ روپے کے فنڈز رکھے جانے کی تجویز ہے جوکہ مالی سال 2020-21کے مقابلہ میں 9فیصد زائد ہے۔آئندہ مالی سال کے دوران 4 ہزار 6 سو 37 ایچ ٹی اور ایل ٹی پولز ، 2 سو22 ٹرانسفارمرز کی تنصیب اور 18ہزار نئے کنکشنز فراہم کیے جائیں گے جس سے آزاد کشمیر کی بقیہ آبادی میں سے 91 ہزار آبادی بجلی کی سہولت سے مستفید ہو گی ۔ نیز 132-KV گرڈ سٹیشن ہٹیاں بالا ضلع جہلم ویلی کی اپ گریڈیشن ، آزادکشمیر میں 5نئی ٹرانسفارمر ورکشاپس کی تعمیر ،33 کے ۔وی گرڈ سٹیشن سہار ضلع میرپور کے جاریہ منصوبہ جات کو مکمل کرنے کی تجویز ہے۔ علاوہ ازیں سما ہنی، سہنسہ اور فارورڈ کہوٹہ میں گرڈ اسٹیشن تعمیرکئے جانے کی تجویز ہے۔ان گرڈ اسٹیشن ہا کی تعمیر سے ان علاقوں میں وولیٹج کی بہتری اور بجلی کی ہمہ وقت فراہمی میسر ہو گی۔ مزید براں PESCO کے زیر انتظام گرڈ سٹیشن کی حوالگی کے سلسلے میں 38 کروڑ روپے مالیت کا منصوبہ زیر غور ہے جبکہ ضلع حویلی اور نیلم کے بقیہ علاقہ میں بجلی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
آزاد کشمیر میں آبی وسائل کے ذریعے تقریباً 9254 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی نشاندہی ہو چکی ہے اور حکومت آزادکشمیر پن بجلی کے ذریعے قدرتی و سائل کو بروئے کار لانے کیلئے خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ پبلک سیکٹر میں اب تک 79 میگاواٹ کے23 ہا ئیڈل پاور سٹیشنز مکمل ہوچکے ہیں۔ان پراجیکٹس سے سالانہ ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال2021-22ء کے ترقیاتی میزانیہ میں پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے لئے 33فیصد اضافہ کے ساتھ 80 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں جن میں 05 کروڑ روپے کی فارن ایڈ بھی شامل ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران نئے منصوبہ جات میں 3.22میگاواٹ نڑدجیاں ہٹیاں بالا،22 میگا واٹ جاگراں (IV)- ضلع نیلم، 4.9 میگاواٹ بٹدرہ ضلع مظفرآباد، 3.5 میگاواٹ خورشید آباد ضلع حویلی اور تعمیر 132 کے وی ٹرانسمیشن لائن جاگراں تا نوسیری منصوبہ جات شامل ہیںجن پر جملہ لوازمات مکمل ہونے کے بعد کام شروع کیے جانے کی تجویز ہے۔
مالی سال2021-22 میں پبلک ہیلتھ انجینئرینگ سیکٹر (نارتھ) میں جاریہ 15منصوبہ جات جن کی مالیت04 ارب 35 کروڑ43 لاکھ روپے ہے کے لیے 76 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔ جن میںگریٹر واٹر سپلائی سکیم ڈوبہ ہوتریڑی ضلع مظفرآباد،گریٹر واٹر سپلائی سکیم ہٹیاں بالا ،بقیہ کام دریک ڈیم راولاکوٹ، واٹر سپلائی سکیم پلندری ، واٹر سپلائی سکیم گڑھی دوپٹہ ، چکار ، چناری ،و اٹر سپلائی سکیم مظفرآباد اور سیوریج سسٹم مظفرآباد قابل ذکر ہیں۔جب کہ منصوبہ واٹر سپلائی سکیم ہجیرہ جس کی مالیت 15کروڑ روپے ہے کے لیے 05 کروڑ روپے رکھے جانے کی تجویز ہے جس پر تفصیلی ڈیزاننگ کے بعد کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔مجوعی طور پر اس سیکٹر کے لیے 81 کروڑ 50لاکھ روپے اگلے مالی سال میں رکھے جانے جانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2021-22 میں گورنمنٹ ہائوسنگ سیکٹر (سائوتھ )کیلئے23 کروڑروپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔ علاوہ ازیں09 نئے منصوبہ جات پر بھی باقاعدہ پلاننگ کے بعد کام کا آغاز کر دیا جائے گا جب کہ 07 منصوبہ جات رواں سال مکمل ہو جائیں گے اور 04 نئے منصوبہ جات کو اگلے مالی سال میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ جن سے حکومت کی تعین کردہ ترجیحات کے مطابق سرکاری محکمہ جات اور اداروں کی دفتری اور رہائشی مکانیت کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2021-22 میں مجموعی طور پر اس سیکٹر کے لیے 69 کروڑ روپے رکھے جانے کی تجویز ہے جس کے تحت ضلعی و تحصیل صدر مقامات میر پور ، بھمبر اور کوٹلی میں آب رسانی اور سیوریج کے منصوبہ جات پر عملدآمد کیا جائے گا۔جبکہ07 نئے منصوبہ جات پر بھی تفصیلی پلاننگ / ڈیزائینگ کے بعد کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا ۔ جن میں گریٹر واٹر سپلائی سکیم کوٹلی (فیز- II)، واٹر سپلائی سیکم بڑہنگ ضلع بھمبر ، واٹر سپلائی سکیم سہنسہ و کھوئی رٹہ قابل ذکر ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2021-22 میں مجموعی طور پر اس سیکٹر کے لیے 69 کروڑ روپے رکھے جانے کی تجویز ہے جس کے تحت ضلعی و تحصیل صدر مقامات میر پور ، بھمبر اور کوٹلی میں آب رسانی اور سیوریج کے منصوبہ جات پر عملدآمد کیا جائے گا۔جبکہ07 نئے منصوبہ جات پر بھی تفصیلی پلاننگ / ڈیزائینگ کے بعد کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا ۔ جن میں گریٹر واٹر سپلائی سکیم کوٹلی (فیز- II)، واٹر سپلائی سیکم بڑہنگ ضلع بھمبر ، واٹر سپلائی سکیم سہنسہ و کھوئی رٹہ قابل ذکر ہیں۔آئیندہ مالی سال 2021-22 میں کیپٹل / ڈویژنل ھیڈکوارٹرز ترقیاتی پیکج کے تحت 02 ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیںجس کے تحت مظفرآباد ، راولاکوٹ اور میرپور کے شہروں کے لیے جامع منصوبہ بندی کے تحت انتہائی ضروری نوعیت کے منصوبہ جات کو مکمل کر لیا جائے گا۔
محکمہ لوکل گورنمنٹ کے تحت مالی سال2021-22ء میں جاریہ و نئے منصوبہ جات کے لیے01ارب 70کروڑروپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2021-22میں 100فیصد اضافہ کرتے ہوئے 20کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں ۔ جس کے تحت رواں مالی سال خرید اراضی برائے تعمیر کشمیر کالونیز (چکوال،اٹک اور واہ کینٹ)برائے مہاجرین مقیم پاکستان کے منصوبہ پر عملدرآمد کیاگیا اور اگلے مالی سال2021-22ء میں مذکورہ منصوبہ کو2کروڑ53لاکھ روپے کی فراہمی سے مکمل کیئے جانے کی تجویز ہے۔ مالی سال 2021-22 ء میں آزادکشمیر میں پٹوار خانہ جات کی تعمیر کے علاوہ کشمیر کالونیوںکے گرد چاردیواری کی تعمیر اورمہاجرین کی آباد کاری کے لئے خرید اراضی اوربنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبہ جات شامل ہیں۔
آئندہ مالی سال2021-22میں محکمہ کے جاریہ ونئے ترقیاتی منصوبہ جات کے خلاف60کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں جوکہ مالی سال 2020-21کے مقابلہ میں 14فیصد زائد ہیں۔آزادجموں وکشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (AJK-TEVTA)کے زیر انتظام تمام تربیتی مراکز کوجدید مشینری اورآلات سے مزین کئے جانے کے ساتھ ساتھ طلباء کو ہر سال آزاد کشمیر اور پاکستان کے اعلی سطحی ادارہ جات میں مختلف ٹریڈ زمیں تربیت دی جارہی ہے۔اس مقصد کیلئے حکومت آزاد جموں وکشمیر نے 1ارب روپے کا Skill Development Fundقائم کیا ہے۔علاوہ ازیں جدید سہولیات سے آراستہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی،بھمبر بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔
آئندہ مالی سال2021-22 میں محکمہ ٹرانسپورٹ کا ایک نیامنصوبہ مالیتی 2 کروڑ50 لاکھ روپے تجویز کیاگیا ہے۔تاہم آئندہ مالی سال میں اس شعبے کے لئے 2کروڑ روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے ۔
محکمہ سپورٹس، یوتھ و کلچرکے لیے رواں مالی سال 2020-21 میں 22 کروڑ روپے رکھے گئے جس سے 13کروڑ 68 لاکھ روپے کی لاگت سے سکندر حیات سپورٹس سٹیڈیم کوٹلی اور 6کروڑ36لاکھ روپے کی لاگت سے تمام اضلاع میںمنی گراونڈز کی تعمیر کے منصوبے مکمل کئے ہیں۔موجودہ دور حکومت میںسپورٹس کمپلیکس جلال آباد، مظفرآباد ،سپورٹس سٹیڈیم راولاکوٹ، پلندری اور مظفرآباد، اسکوائش کورٹ مظفرآباد ، ویمن سپورٹس کمپلیکس اسلام گڑھ ضلع میرپور،سپورٹس کمپلیکس دھمول ضلع کوٹلی اور منی سپورٹس گرائونڈہٹیاں بالا مکمل کئے گئیجبکہ آئندہ مالی سال 2021-22کے ترقیاتی میزانیہ میں 14فیصد اضافہ کے ساتھ 25 کروڑروپے رکھنے کی تجویز ہے۔
سال 2014کے تباہ کن سیلاب کے بعد عالمی بنک کے تعاون سے مالی سال 2016-17 سے ایک منصوبہ "Disaster and Climate Resilience and Improvement Project" لاگتی3ارب77کروڑ روپے جاری ہے ۔ منصوبہ زیر بحث کے ذیلی منصوبہ جات کے تحت مختلف حفاظتی بندوں کی تعمیر ، ہائیڈرو پاور پروجیکٹس ، پروٹیکیشن والز ، آبپاشی چینلز کی بحالی ، سٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور دیگر محکمہ جات کی استعداد کا ر نیز آفات سماوی سے بچنے کی حکمت عملی کے لیے منصوبہ جات پر عملدرآمدجاری ہے ۔حالیہ کرونا وباء کے لیے DCRIPسے خصوصی طور پر 12کروڑ روپے کے طبی آلات اور PPEsہنگامی بنیادوں پر خریدے گئے اور تمام اضلاع اور سیکرٹریٹ کے دفاتر میں Video Conference Systemsکی تنصیب کے لیے 7کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔نئے مالی سال 2021-22میں منصوبہ کے خلاف72کروڑ روپے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس کے تحت باقی ماندہ تمام اہداف مکمل کر لئے جائیں گے۔
محکمہ زراعت ،امور حیوانا ت ،آبپاشی واسماء کیلئے مالی سال 2021-22میںمنصوبہ کے لیے 47 کروڑ 41لاکھ روپے رکھے گئے ہیںجس سے(278) واٹر چینلز اور (120)واٹر ٹینکس بنائے جائیں گے۔ وفاقی حکومت کے مالی تعاون سے ایک اور ترقیاتی منصوبہ مالیتی 91کروڑ55لاکھ روپے جاری ہے۔ جس کے تحت مالی سال 2021-22میں منصوبہ کے لیے17کروڑروپے رکھے گئے ہیں ۔
جنگلات کے لئے آئندہ مالی سال2021-22میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 44 کروڑ50لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جوکہ مالی سال 2020-21 کے مقابلہ میں 27فیصد زائد ہے۔
منصوبہ ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال 2021-22کے لیے وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی سے4ارب49کروڑ روپے کے وسائل کی فراہمی کیلئے تجویز دی ہوئی ہے۔ جن سے 4کروڑ21لاکھ پودے تیار کئے جاکر36ہزار ایکڑ رقبہ پر تنصیب کیئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جنگلات کی قدرتی پیداوار کے حصول کے لیے جنگلات کے رقبہ جات کو بند کرتے ہوئے 5کروڑ80لاکھ پودے حاصل کئے جائیں گے۔
جنگلی حیات و ماہی پروری سیکٹر میں مالی سال2020-21کے نظر ثانی شدہ ترقیاتی میزانیہ کے تحت3کروڑ50لاکھ روپے خرچ کئے گئے ۔ جس کے تحت سراں پیرچناسی، بنجوسہ اور منگلا میں جنگلی حیات کے بریڈنگ سنٹر/چڑیا گھروں کی تکمیل کے ساتھ ان کو فعال کرتے ہوئے بریڈنگ سنٹر/چڑیا گھر منگلا میرپور کو عوام الناس کے لیے کھول دیا گیا ہے۔نیز بنجوسہ ، سراں پیرچناسی کے مقام پر قائم کردہ چڑیا گھر بھی جلد عوام الناس کے لیے کھول دیئے جائیں گے۔ مالی سال 2021-22میں اس شعبہ کے لیے 4کروڑ 67لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
آزاد کشمیر میں سیاحوں کو بہتر اقامتی، سفری اور تفریحی سہولیات کی فراہمی حکومت کی تر جیحی پالیسی ہے- مالی سال2020-21کے دوران سیاحت کے شعبہ کو 20کروڑ روپے فراہم کئے گئے تھے جبکہ مالی سال 2021-22 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شعبہ سیاحت کے فروغ کیلئے گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں 100فیصد اضافے سے40کروڑروپے کی رقم رکھے جانے کی تجویز ہے۔
انفارمیشن بورڈ کیلئے مالی سال 2021-22 ء کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شعبہ ہذا کے لیے 33 کروڑ روپے کی رقم رکھے جانے کی تجویز ہے ۔ اس طرح مالی سال 2020-21کے مقابلہ میں 53فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
محکمہ تعلقات عامہ تحریک آزاد ی کشمیر، آزاد خطہ کی تعمیر و ترقی اور دیگر حکومتی اقدامات کی تشہیر کے لیئے موثر کردار ادا کرتا آرہا ہے ۔مالی سال2020-21 ء میں شعبہ ہذا کو4 کروڑ50 لاکھ روپے نظرثانی میزانیہ میں فراہم کئے گئے ۔ جس کے تحت محکمہ کے استحکام کا منصوبہ کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے - سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارمز سے تمام تر اہداف کی جدید اور کمپیوٹرائزڈ خطوط پرتشہیر کے ساتھ ساتھ1947 ء کے بعد اخبارات اور دیگر ضروری دستاویزات کو محفوظ کرنے کیلئے کام تیزی سے جاری ہے ۔ مالی سال2021-22 ء میں اس شعبہ کو 4 کروڑ روپے رکھے جانے کی تجویرہے -مجوزہ نئے ترقیاتی منصوبہ جات میں ضلعی دفاتر کے استحکام اور جدید مواصلاتی سہولیات اور لائحہ عمل کی آگاہی وعملدرآمد کے دو منصوبہ جات شامل ہیں ۔
سماجی بہبود و ترقی نسواں کیلئے مالی سال 2020-21 ء میں فراہم کردہ 14 کروڑ 8 لاکھ روپے سے نیلم اور حویلی اضلاع میں پناہ گاہوںکے قیام اور آزاد کشمیرمیں کمزور طبقات کے سماجی تحفظ کے منصوبہ جات مکمل کئے گئے ۔ جبکہ مالی سال 2021-22 ء کیلئے20 کروڑ کی رقم رکھی ہے جو کہ 33فیصد اضافہ ہے۔
ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن کے لئے نظرثانی سالانہ ترقیاتی پروگرام 2020-21ء میں اس شعبہ کیلئے دو ارب تریسٹھ کروڑر وپے مہیا کیے گئے ہیں جن میں ایک ارب اسی کروڑ روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2021-22 ء میں اس شعبہ کیلئے دو ارب تیس کروڑروپے رکھے جانے کی تجویز ہے ۔ جس میں ایک ارب تیس کروڑروپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے ۔ان فنڈز سے30 مڈل اور 06 ہائی سکولوں کی عمارات پر تعمیراتی کام جاری رکھتے ہوئے 30پرائمری سکولوں کی عمارات تعمیر کئے جانے کی تجویز ہے۔ نیز10 ہائی اور 20 ہائیر سیکنڈری سکولز کے ساتھ اضافی مکانیت کا کام شروع کیا جائے گا اورآزادکشمیر کے ہائیر سیکنڈری سکو لزمیں فر نیچرسامان، آئی ٹی سامان اور سا ئنسی آلات فراہم کیے جانے کے علاوہ آزادکشمیر میں سکولوں کی خطرناک عمارات کی بحالی کا کام کیے جانے کی تجویز ہے نیزگرلز ہائی سکولوں کے ساتھ چار دیواری ،پینے کا پانی ، ٹائیلٹس وغیرہ کی سہولیات فراہم کیے جانے کے لیے پندرہ کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں۔جبکہ ہائرایجوکیشن کے لئے آئندہ مالی سال 2021-22میںشعبہ ہذا کے لئے49فیصد اضافہ کے ساتھ مجموعی 72 کروڑ50 لاکھروپیرکھے گئے ہیں ۔اس رقم سے زیر تعمیر کالجز کی عمارات کا کام تیز کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 12گرلزکالجز کی تعمیر اور گرلز ڈگری و انٹر کالجز میں Missing Facilitiesکی فراہمی کیلئے 20کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2021-22 میںکیڈٹ کالج مظفرآباد کی جاریہ سکیم میں ہاسٹل کی تعمیرکا کام جاری رہے گا۔ آزاد جموں و کشمیر کی خواتین یونیورسٹی باغ ، منگ کمیپس پونچھ یونیورسٹی راولاکوٹ اور جہلم ویلی یونیورسٹی کمپس ہٹیاں بالا کیلئے مجموعی طور 12کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس کے خلاف خرید اراضی اور چار دیواری کی تعمیر کے منصوبہ جات پر عملدرآمد کیا جائیگا۔
صحت عامہ سیکٹر کے لیے رواں مالی سال کے نظر ثانی میزانیہ میں 1ارب روپے جبکہ آئندہ مالی سال2021-22ء کے ترقیاتی میزانیہ میں 1 ارب 75کروڑروپے رکھے گئے ہیں۔ اس سیکٹر میں مالی سال 2020-21کے مقابلہ میں 75فیصد اضافہ تجویز ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے5 سالہ دور حکومت میں شعبہ صحت عامہ کے 21سے زائد منصوبہ جات کومکمل کر کے ہسپتال ہاء میں 520بستروں کا اضافہ یقینی بنایا۔ اس کے علاوہ آزادکشمیر کے جملہ ضلعی ہسپتالوں میںمفت ایمر جنسیCOVID-19/ ادویات کی فراہمی سے چوبیس گھنٹے مفت ایمر جنسی و حادثاتی صورتحال سے نمٹنے کو یقینی بنایا۔اس سہولت سے ہر سال اوسطاً سات سے آٹھ لاکھ مریض مستفید ہو رہے ہیں۔آزاد کشمیر میںقائم شدہ میڈیکل کالجزمحترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور اور میر واعظ محمد فاروق میڈیکل کالج مظفرآباد کی عمارت کی تعمیر کے لئے رواں مالی سال وفاقی حکومت مالی وسائل مہیاکر رہی ہے ۔اس کے علاوہ جاریہ منصوبہ جات میں تعمیر رورل ہیلتھ سینٹر بیر پانی، رورل ہیلتھ سنٹر ہاء تھوراڑ وبیٹھک اعوان آباد،200 بستر ہسپتال راولاکوٹ اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پٹہکہ اور آزاد کشمیر کے ضلعی ہسپتالوں/ سی ایم ایچ ہا میں میڈیکل/ ایمرجنسی آلات کی فراہمی،150بستر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال پلندری ، 10بستر رورل ہیلتھ سنٹر حاجی صحبت علی پتن شیر خان ، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکار،50 بسترکارڈیک ہسپتال مظفرآباد اور عباس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز مظفرآبادکے سرجیکل بلاک کی مرمتی/تزئین و آرائش کے منصوبہ جات پر عملدرآمد جاری رکھا جائے گا۔ جبکہ ضلعی ہسپتالوں کوٹلی اور بھمبر میں OPDکو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منگ کے منصوبہ جات رواں مالی سال مکمل کر لئے جائیںگے۔ جس سے عوام کو مقامی سطح پر طبی سہولیات دستیاب ہونگی۔آئندہ مالی سال 2021-22 ء کے دوران اپ گریڈیشن ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپور، تعمیر ڈاکٹر و نرسز ہاسٹل ہمراہ ضلعی ہسپتال حویلی ، کارڈیک سینٹرضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال باغ، تعمیر 200بستر وارڈ ہمراہ ضلعی ہیڈکوارٹر کوٹلی ، تعمیر 50بستر وارڈ ہمراہ ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال بھمبر، فراہمی مفت ایمر جنسیCOVID-19/ ادویات اور مظفرآبادمیں جدید طرز کے 200بسترہسپتال معہ ٹر اما سینٹر ، تعمیر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کیل اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کھوئی رٹہ کے منصوبہ جات پر عمل درآمد کی تجویز ہے۔
سرکاری ملازمین کسی بھی حکومت میں کلیدی کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ ہماری حکومت سرکاری ملازمین کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ وفاقی حکومت کی تجویز/شرائط کے مطابق آزاد کشمیر کے سرکاری ملازمین گریڈ 1تا22 کو یکم جولائی2021سے بذیل ریلیف دیئے جانے کی تجویز ہے۔جس کے تحت ۔ بنیادی تنخواہ سکیل کے25% کے برابر (Disparity Reduction Allowance) DRA، 10% ایڈہاک ریلیف الائونس بنیادی تنخواہ، اردلی الائونس کی شرح14000/-روپے سے بڑھا کر 17500/- روپے ماہوار کئے جانے کے علاوہ درجہ چہارم کے لئے دھلائی و وردی الائونس شرح میں100% اضافہ شامل ہے ۔بجٹ میں 10%پنشن میں بھی اضافہ کی تجویز ہے ۔

قبل ازیں وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی زیر صدارت آزاد جموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس منگل کے روز منعقد ہواجس میں کابینہ نے نظر ثانی میزانیہ 2020-21 ء 1کھرب 32ارب 50کروڑ اور تخمینہ میزانیہ مالی سال 2021-22ء 1کھرب 41ارب 40کروڑ روپے کی منظوری دے دی ۔

واپس کریں