آزادکشمیر کے سٹیٹس کو چھیڑنے کی کوشش کی تو آزادکشمیر کے لوگ رکاوٹ بنیں گے۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کا بجٹ اجلاس سے خطاب
No image مظفر آباد ۔ وزیراعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاہے کہ اگر کسی نے آزادکشمیر کے سٹیٹس کو چھیڑنے کی ہمت کی تو آزادکشمیر کے لوگ راستے کی رکاوٹ بنیں گے۔ اگر کسی کے دماغ میں یہ ہے کہ آزادکشمیر کا الیکشن چوری ہوگا تووہ اس خوش فہمی میں نہ رہے،اپنے اداروں اور فورسز پر یقین ہے کہ وہ ان لوگوں کو آزادکشمیر جیسے حساس ایریامیں ایسی کوئی حرکت نہیں کرنے دینگے کہ کل کو سب ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر کسی نے ایسی حرکت کی کہ آپ کے ساتھ وہ سلوک کریں گے جو آئندہ آنے والی پاکستان کی حکومتوں کیلئے نشان عبرت ہوگا۔جب تک اس ریاست کانام’آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر‘ ہے کشمیر کا مسئلہ ختم نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی کر سکتا ہے۔ جب اس کو ختم کرنا مقصود ہوگا تو اسلام آباد سے پیراشوٹر اتریں گے۔ میری کوئی گردن بھی کاٹ دے پھر بھی مجھے اپنے مقصد کے حصول سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا، اس کیلئے ہمارے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ اپنے لوگوں کے حقوق کیلئے جو قربانی دینی پڑ ی تیار ہوں۔ اس حوالہ سے میری بات لوگ سمجھتے ہیں اور وہ ہماری بات پر دھیان دے رہے ہیں۔مسلم لیگ ن آزادکشمیر میں دوبارہ حکومت بنائے گی جس سے خوفزدہ ہو کر یہ سارے کام کیے جارہے ہیں۔ ہم کشمیر کونسل یا وزارت امور کشمیر کی وجہ سے پاکستانی نہیں ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق کشمیری ہیں، سوا لاکھ لوگوں نے اپنی جانیں تحریک آزادی کیلئے قربان کی ہیں، آج وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ اس مسئلے کا حل میری جیب میں ہے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کو کشمیریوں مرضی کے بغیر اس کا حل تجویز کرنے کی اجازت کس نے دی۔ میں نے کشمیر کا اصل نقشہ اپنے دفتر میں آویزاں کررکھا ہے۔ نقشے بدلنے میں اس مسئلے کاحل نہیں ہے، آپ نے ایک نقشہ 1971میں بھی بدلا تھا۔ میری کوشش ہے کہ اپنی قوم کو عزت و احترام ملے، مجھے میری لیڈرشپ نے بھی احترام دیا، قائداعظم نے ہمیشہ چوہدری غلام عباس کوکشمیریوں کا لیڈر ہونے کی حیثیت سے احترام دیا۔ مسلم لیگ ن کا مینڈیٹ چوری کرنے کیلئے گجرات اور دیگر علاقوں سے جرائم پیشہ افراد کو بھمبر لایا جارہا ہے۔ مجھے کہا گیا کہ آپ بلٹ پروف جیکٹ پہن لیں، ہمارے ممبران کو دھمکایا گیا، ایسا کرکے آپ کس ایجنڈے کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ آزادکشمیر کے باشعور عوام،مسلم لیگ ن کے کارکن اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس الیکشن کی مانیٹرنگ کریں، حکومت آزادکشمیر الیکشن کمیشن کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق ہر قسم کا تعاون کریگی، سرکاری ملازمین الیکشن میں کسی جماعت کے آلہ کار نہ بنیں،اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ بچ نہیں سکے گا۔ مسلم لیگ ن کو سیاست الگ کوئی نہیں کرسکتا، ہم میاں نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، نوازشریف ہمارا محسن ہے جس نے آزادکشمیر کے لوگوں کے ساتھ اچھائی کی ہے اور آزادکشمیر کے لوگ بے وفا نہیں ہیں‘ نہ کسی کی دھمکی میں آئیں گے اور نہ ہی کوئی ہمیں لالچ دے سکتاہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا کہ مسلم لیگ ن دوبارہ آزادکشمیر میں حکومت بنائے گی، اس وقت لوگوں کو الیکشن جیتنے کیلئے جس طرح برادریوں میں تقسیم کیا جارہاہے اس پر افسوس ہے، قرآن پر حلف اٹھا کر توڑنے والے جہنمی ہیں مسئلہ کشمیر پر امریکہ کوثالثی کی دعوت دینے سے بڑی اور کیا حماقت ہوسکتی ہے۔ مجھے کہا گیاکہ آپ ”آزاد“کا لفظ ہٹا دیں،اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟۔کشمیریوں نے قائد اعظم کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ کیا تھا‘ ہم اپنی مرضی سے پاکستانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کونسل کے ملازم ہمارے ٹیکس سے تنخواہ لیتے اور ہمیں آنکھیں دکھاتے تھے،ہماری سپریم کورٹ کے فیصلوں کو ایک جائنٹ سیکرٹری کینسل کر دیتا تھا۔ ہم نے ہائیڈ ل منصوبوں کو رن آف دی ریور لگانے پر زور دیا اور ڈائیورژن کی مخالفت کی۔ آج مسلم لیگ ن کی 2016کی صاف و شفاف انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت اپنا آخری بجٹ پیش کررہی ہے۔ ہم نے جب حکومت سنبھالی تو اپنی تین ترجیحات تحریک آزادی کشمیر، گڈ گورننس اور تعمیر وترقی کا تعین کیا۔ اس کے علاوہ ہم نے نظام تعلیم کی بہتری،انفراسٹرکچر کی تعمیر، صحت اور دیگر شعبوں کیلئے اہداف کر کے ان پر عملدرآمد یقینی بنایا۔ حکومتیں حکومتوں کا تسلسل ہوتی ہیں۔جو پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھتے ہیں وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ ہم نے پچھلی حکومت کے آخری بجٹ میں دیے گئے تمام منصوبہ جات پر سوفیصد عملدرآمد یقینی بنایا۔انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے آج ہمارے پاس 10ارب روپے کی خطیر رقم خزانے میں موجود ہے۔ پانچ ارب روپیہ ہم نے کشمیر بینک جمع کروا دیا ہے تاکہ اس کو جلد شیڈول بینک بنایا جا سکے۔ جب یہ شیڈول بینک بنا تو بیرون ملک سے آزادکشمیر میں سرمایہ آئے گا جو نسبتاً معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ ہماری حکومت نے میرٹ کا قیام عمل میں لایا جس سے حقدار کو اسکا حق ملا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے بعد ہم نے تمام محکمہ جات میں گریڈ سات سے لیکرسکیل15تک تمام محکمہ جات میں این ٹی ایس کا نفاذ کر دیا ہے تاکہ آئندہ کوئی بھی امیدوار لوگوں کو نوکریوں پر بلیک نہ کر سکے اور نہ ہی جھانسہ دے سکے۔ یہ اقدام صاف و شفاف الیکشن کی بنیاد بھی بنے گا۔ ہم نے 1بلین روپے سے ایم فل، پی ایچ ڈی لوگوں کو انٹرن شپ دینے کا پروگرام بجٹ میں شامل کیاہے۔ ختم نبوت کوآزادکشمیرکے آئین کا حصہ بنانا ہماری حکومت کا سب سے بڑ ا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا وکیل اگر اقتصادی طور پر توانا ہوگا تو میری وکالت بہتر طریقے سے کر سکے گا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ پرویز مشرف نے ہمارا کیس خراب کیااور کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ کیا۔ ہمیں پاکستان کے عوام پر مکمل اعتماد ہے، وہ روز اول کی طرح آج بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں آج بھی ان سے کوئی گلہ نہیں، افواج پاکستان کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے ہمارے لیے قربانیاں دیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ بجٹ میں پولیس ملازمین کے رسک الاؤنس میں 50فیصداضافہ کیا گیا ہے، پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار اور سرکاری محکمہ جات میں انہیں انٹرن شپ پر لیا جائے گا۔ جہلم ویلی میں چھم کے مقام پر ہائیڈ ل پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے70کروڑ جبکہ نڑدجیاں ہائیڈل پراجیکٹ کیلئے60کروڑ مختص کیے گئے ہیں، آئی ٹی ملازمین کے کنٹریکٹ میں ایک سال کی توسیع کی گئی ہے، تعلیمی اداروں کو اپ گریڈ کا اعلان کیا۔ بنیادی مراکز صحت کی تعمیرو اپ گریڈیشن، نئے سب ڈویژنز کا قیام اور دیگر عوامی نوعیت کے منصوبہ جات شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں سیاحت اور ہائیڈل کا وسیع پوٹینشل موجو د ہے، ہم نے اپنے طور پر بھی مزید ہائیڈل پراجیکٹس لگائے ہیں، برقی ترسیل کا نظام بہتر بنایا، نئے ٹرانسفارمردیے اور ریکوری کو بہتر بنایا۔ پالیسیوں کے تسلسل سے ہی نتائج سامنے آتے ہیں، ہم نے بڑی حد تک اہداف کا حصول یقینی بنایا ہے۔

واپس کریں