وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی پریس کانفرنس میں متنازعہ ریاست کے مظلوم عوام کی بہترین ترجمانی
No image اسلام آباد ( کشیر رپورٹ۔30جون2021)وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیریوں کو شہید کیا گیا، گھروں کو اڑایا گیا،ان کو اقتصادی طور پر تباہ کر دیا گیا، سینکڑوں کی تعداد میں گمنام قبریں ہیں،میرے بچوں،بچیوں کی آنکھوں کی روشنی چھین لی گئی ہے پیلٹ گنوں سے، لوگوں کو ' ڈریکونئین' لاز کے تحت گرفتار کیا، جس طرح گنتانامو بے ہے اسی طرح سے ایک غیر ملک ہندوستان کی تہاڑ جیل ہے،پھر یہ کہتے ہیں کہ میں کشمیریوں کا سفیر ہوں،ا چھا سفیر ہے کشمیریوں کا ! مودی سے کہا کہ میں ثالثی کرائوں گا، سب سے بڑی حماقت ہو گی کہ پاکستان اور ہندوستان مان جائیں کہ امریکہ کشمیر پر ثالثی کرائے گا۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ یہ ( عمران خان) تقسیم کشمیر پر کارفرما ہیں،وہاں سے ہندوستان نے یہ کام کیایہاں سے انہوں نے ' یونیلیٹرلی' گلگت کا اپنا صوبہ بنا لیا، خود پاکستان گیا، خود پاکستان نے ' یو این ریزولیشنز' کی، سیکورٹی کونسل کی خلاف ورزی کی ،1957 کی قرار داد کی ،1956-57 میں مقبوضہ کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی نام نہاد اسمبلی نے ہندوستان سے الحاق کی قرار داد منظور کی ،جس پر پاکستان سیکورٹی کونسل میں گیا،قرار داد 122موجود ہے،کسی نے مٹائی نہیں ہے،انہوں نے ہندوستان کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ یہ رائے شماری کا نعم البدل نہیں ہے، آپ نے پہلے مرحلے میں وہ کیا اور اب آزاد کشمیر کو بھی صوبہ بنانا چاہتے ہیں،اس لئے کہ آزاد کشمیر کا جو موجودہ ' سیٹ اپ ' ہے ،یہ جب تک موجود ہے ،مسئلہ کشمیر کو کوئی ختم نہیں کر سکتا،یہ آزادی کا بیس کیمپ ہے اور قائد اعظم محمد علی جناح بانی پاکستان کی موجودگی میں بنا تھا،اعلان آزاد کشمیر 24اکتوبر1947کو آیا،اس حوالے سے میں قوم کو خبردار کرنا چاہتا ہوں ، کشمیر کی لائین آف کنٹرول پریا سیز فائر لائین پر سندھی کا بھی خون بہا ہے،پٹھان کا بھی ہے، پنجابی کا بھی بلوچی کا بھی اور آزاد کشمیر کے لوگوں کا بھی ہے،اور آزاد کشمیر کے لوگوں کا خون فاٹا اور بلوچستان میں بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگوں میں شامل ہوا،خون انہوں نے بھی دیا ہے،ہم ایک ہیں،عمران خان صاحب نے2015میں آزاد کشمیر کے ایک روزنامے کو انٹرویو دیا کہ ایک ہی حل ہے کہ اس کو تین حصوں میں تقسیم کردو،جموں لداخ ہندوستان کو دے دو،گلگت آپ کر لو اور آزاد کشمیر کے جو دو پرانے ضلعے ہیں ان کو ویلی سے ملا کر الگ ملک کر لو،اس پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے،گلگت پر بھی اور اس طرف بھی ،اب آزاد کشمیر رہتا ہے،اس کا پتہ نہیں کیا حشر کرنا چاہتے ہیں،مجھے اپنا نہیں، میں تو زندگی گزار چکا ہوں،مجھے اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے مفادات کا خیال ہے،ان کی خواہشات کا احساس ہے، مقبوضہ کشمیر میں جو قربانیاں دے رہے ہیں اس کا احساس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کہنا چاہتا ہوں کہ 2021کا الیکشن' نلکے ٹوٹی' کا الیکشن نہیں ہے،ہم نے آزاد کشمیر بہت ڈویلپمنٹ کرا لی ہے ،اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ہے،میں میاں نواز شریف کا شکر گزار ہوں،شاہد خاقان عباسی صاحب کا شکر گزار ہوں،مفتاح اسماعیل صاحب کا شکر گزار ہوں،جو انہوں نے بحیثیت وزیر اعظم،وزیر خزانہ13ویں ترمیم میں اور میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر کو ' اپ لفٹ' کرنے کے لئے 2016 کو بحیثیت وزیر اعظم آزاد کشمیر میں تشریف لائے،ہم ان کے شکر گزار ہیں۔
راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ یہ مسئلہ میری بقاء کا ہے،یہ میری امنگوں کا مسئلہ ہے، میرے بزرگوں کی قربانیوں کا یہ مسئلہ ہے ، میں اس کو فراموش نہیں کر سکتا، یہ کہا گیا کہ ماضی کو بھول جائو! آپ بھول جائیں ناں آپ کو کیا ہے؟ ہم تو نہیں بھولیں گے اس کو، کیوں بھولوں گا؟جن باتوں کا میں نے تذکرہ کیا ہے اگر ان کو بھول جائیں تو ہم سے بڑا بے غیرت کوئی نہیں ہو گا، ایشیا کی سرزمین پہ ،جنوبی ایشیا میں کہ اگر ہم اپنی قربانیوں کو بھول جائیں۔
عمران خان صاحب ! آپ جس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں،آزاد کشمیر کے لوگ اس کو پورا نہیں ہونے دیں گے، آپ جو مرضی کر لیں،آپ الٹے بھی لٹک کر آ جائیں،آپ اپنے اس ناپاک ایجنڈے پر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے، ہم مزاحمت کریں گے اس کو ، انشاء اللہ تعالی مسلم لیگ نواز میاں نواز شریف صاحب کے بیانئے کے ساتھ کھڑی ہے جو ہمارا لیڈر ہے ، جو فخر سے کہتا ہے کہ میری رگوں میں کشمیری خون دوڑتا ہے،اس لئے میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بات نہیں ہو سکے گی۔
میں میڈیا کے توسط سے آزاد کشمیر کے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جو نظام ہے وہ چلنے والا نہیں ہے،یہ اس سال کے اواخر تک ختم ہو جائے گا، منی لانڈرنگ، کل پرسوں بھی ایک اجلاس ہوا ،آزاد کشمیر میں منی لانڈرنگ ہو رہی ہے،یہ کروڑوں روپے کدھر سے آگئے؟یہ ریل پیل کدھر سے آ گئی آزاد کشمیر کے الیکشن میں ،یہ پیسے کہاں سے آ رہے ہیں؟یہ کون دے رہا ہے؟وزیر اعظم پاکستان کا دفتر استعمال ہو رہا ہے،اس کی سرکاری رہائش گاہ استعمال ہو رہی ہے،ہمارے لئے پاکستان کو کوئی بھی وزیر اعظم ہو وہ قابل احترام ہے،لیکن جو ' پی ٹی آئی ' کے چیئر مین نے بحیثیت وزیر اعظم پاکستان آزاد کشمیر میں کھلواڑ کرنا چاہتے ہیں،وہ نہیں ہو گا عمران خان صاحب ،وہ آپ کو جو غلط لوگوں سے پالا پڑا ہے ہم وہ لوگ نہیں ہیں،آپ ہمیں چبا نہیں سکتے،یہ میں آپ کو واضح کرنا چاہتا ہوں،اور وزیر اعظم پاکستان کی ایسی ننگی جارحیت ! وہ سب کے لئے وزیر اعظم ہے،ہم آپ سے کچھ نہیں مانگتے ،لیکن آپ پاکستان کے وزیر اعظم کے منصب کو آزاد جموں وکشمیر کے اندر متنازعہ نہ بنائیں، اور یہی بات اس طرف بھی جائے گی،میں یہ بات کہنا نہیں چاہتا کہ ادھر کی اورادھر کی لیڈر شپ جو سوچتی ہے جس کو اللہ نے سوچنے کی صلاحیت دی ہے جن کو درد دل دیا ہے،کہ وہ آپ کے بارے میں کیا بات کرتے ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اور مودی نے اکٹھے مل کر 5اگست کے معاملے پر آپ کا ' اپروول' تھا، یہ میں برسر عام الزام لگاتا ہوںکہ آپ اس ناپاک منصوبے کے اندر شامل ہیں،بالکل شامل ہیں ،کیا کیا ہے آپ نے؟ہندوستان کا وزیر خارجہ 43ملکوں میں گیا، آپ کا وزیر خارجہ کہاں گیا؟ یہ کہانی سنانے کے لئے اچھا ہو سکتا ہے آپ بچوں کو کہانیاں سنائیے،بڑی اچھی گفتگو کرتا ہے یہ، لیکن بحیثیت کشمیریوں کے سفیر کے ،یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یو این میں ، میں قسم اٹھاتا ہوں کہ ایک فیصد بھی پاکستان کا وزارت خارجہ کا ،یورپی یونین کے اندر جو کشمیر کی حمایت ہوئی اس میں ایک فیصد بھی ان کا حصہ نہیں ہے،برسلز میں کشمیر کونسل کا ، ڈائس پورہ کا اس میں کنٹری بیوشن ہے،ابھی جو قرار داد ہو ئی فرانس کے حوالے سے صرف دو ممبروں نے آپ کی حمایت کی، چھ سو نے آپ کی مخالفت کی، آپ جائیں ناں ، بتائیں نا اپنی کامیاب سفارت کاری،آج آپ کے ساتھ کون کھڑا ہے؟ ایک سال کے لئے پھر آپ کو گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے،یہ خوش ہو رہے ہیں بغلیں بجا رہے ہیں کہ شکر ہے کہ ہمیں بلیک لسٹ نہیں کیا،یہ ہے آپ کی فارن پالیسی ؟کوئی آپ کا اتہ پتہ ہی نہیں، مڈل ایسٹ کے مسلم ممالک آپ کے ساتھ نہیں ہیں، یہ آپ کا عظیم ہمسایہ،جبکہ آپ نے دونوں کشتیوں پر ٹانگ رکھی ہوئی ہے،اگلا آپ کا ٹیلی فون سننا ہی نہیں چاہتا ،اور مشیر صاحب کہتے ہیں کہ ہم کسی فون کا انتظار نہیں کر رہے، جبکہ آپ انتظار کر رہے ہیں،آپ کو پوچھا تک نہیں اس نے،اس نے بھوٹان کو رکھا کریڈٹ کنٹرول میں آپ کو نہیں رکھا،اور آپ کہہ رہے ہیں کہ گیارہ ارب درخت لگا رہا ہوں، آپ کی باتوں پر باہر کوئی اعتبار ہی نہیں کرتا،باہر آپ کی کوئی ساکھ ہی نہیں ہے۔
ممریم نواز صاحبہ اور مسلم لیگ ن کی دوسری مرکزی قیادت آزاد کشمیر آئے گی، وہ دورہ کرے گی اور ہم اس الیکشن میں ان کو تقسیم کشمیر کے ایجنڈے کو بیانیہ بنا کر آزاد کشمیر کے لوگوں کے پاس اور پاکستان کے 22کروڑ عوام کے پاس جائیں گے،جن پر ہمیں فخر ہے جو گزشتہ تہتر ، چوہتر سال سے ہماری پشت کر کھڑی ہے، میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں،اور ڈائس پورہ میں لے کر جائوں گا، میں جگہ جگہ ، یہ کشمیر کا سودا کر کے باہر پھرے گا؟یہ سفارت خانے کی عمارت سے باہر نہیں نکل سکے گا،یہ سرکاری رہائش گاہ سے باہر نہیں نکل سکے گا۔
سوالات کے جواب میں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی قیادت اور ہماری وزارت خارجہ ایک ہی ہے،دفعہ 370کشمیریوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے تھی،رائے شماری کے نعم البدل کے طور پر کہ یہاں صدر بھی ہیوزیر اعظم بھی ہے اور پھر9اگست 1953 میں اسی وزیر اعظم شیخ عبداللہ کو ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں، آپ ' سٹیٹس کو بحال کرنا چاہتے ہیں،کیا دفعہ 370 رائے شماری کا نعم البدل ہے ،اگر ہے تو بتائیں، یہ تو محبوبہ مفتی اور عبداللہ خاندان کو اقتدار میں لانے کے لئے ہے، مجھے لگتا ہے کہ گپکار کانفرنس ان کی ہی ایماء پہ ہوئی ہے، میں وزارت خارجہ گیا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا کیا ہے آپ نے ؟ کہنے لگے جی غلط ہو گیا ہے،کیا کریں، میں نے کہا کہ کل بریفنگ ہے آپ اس کی تردید کریں، آپ کشمیر کے ہندوستان نواز لوگوں کی حمایت کرتے ہو؟ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ غلام بنی آزاد، فاروق عبداللہ مودی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے تھے،ان کی تائید کرتے ہیں آپ ؟ان کی باتوں کی تائید کرتے ہیں،اس سے بڑی زیادتی ،جن لوگوں نے اپنا خون بہایا کشمیر کے اندر ،شہداء کے ساتھ غازیوں کے ساتھ ،یا میرے بیٹے ، بیٹیاں جو آج بھی جدوجہد کر رہے ہیں ،اس سے بڑی غداری اور کوئی نہیں ہو سکتی۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی میٹنگ میں مجھے شرکت کی دعوت دی گئی ہے میں عمدا نہیں جا رہا،ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے،میرا جب نقشہ ہی بدل دیا گیا تو میں نے نیشنل سیکورٹی کی میٹنگ میں کیا جا کر کرنا ہے، معید یوسف صاحب میرے پاس آئے تھے،ہم نے انہیں اپنی تجاویز دے دی تھیں، اب جس شخص نے بلایا ہے ،جن حالات میں بلایا ہے،اس وقت جانا میں سمجھتا ہوں کہ کشمیریوں کے زخموں پہ نمک پاشی کے مترادف ہو گا۔
راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ' جی بی ' والا معاملہ نہیں ہو گا، ہمارے دو آدمی ہی گئے ہیں، یہی پری پول رگنگ ہوتی ہے اور وہ پری پول رگنگ کر رہے ہیں،پیسہ استعمال کر رہے ہیں،دوسرے ذرائع استعمال کر رہے ہیں،لوگوں کو ڈرانا چاہتے ہیں ممبران پر دبائو ڈال رہے ہیں، پنجاب میں سے قاتلوں کو ضمانت پر رہا کرا کے بھمبر بھیجا جا رہا ہے مختلف حلقوں میں ۔
جب تک آزاد کشمیر کا موجودہ سیٹ اپ قائم ہے ،یہ تحریک آزادی کشمیر کابیس کیمپ ہے، اگر یہ کرے گا تو ہم اس پر پاکستان کی زمین بھی تنگ کر دیں گے،قبر تک اس کا پیچھا کریں گے، نہیں چھوڑیں گے اس کو،یہ جو کشمیریوں سے غداری کرنا چاہتا ہے، مجھے اس کی ایسی بہت سی باتوں کا پتہ ہے، یہ کیا سمجھتا ہے کہ ہمیں پتہ نہیں ہے،ہم ناواقف ہیں ،ہم کوئی سڑکوں سے چل کر آئے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا کہ آزاد کشمیر کو ' او آئی سی ' میں آبزرور کا درجہ دلا دیں تا کہ آزاد کشمیر کو کہیں تو کشمیریوں کی نمائندگی حاصل ہو جائے،فاروق حیدر نے کہا کہ مالک بزدل ہیں میرے،مالک بزدل ہیں،مجھ پہ وہ اعتبار نہیں کرتے ،ان کو یقین نہیں ہے میرے بارے میں،اس سے زیادہ کشمیریوں کے ساتھ،ان کی توہین و تذلیل کوئی نہیں ہو سکتی کہ ہم پر اعتبار نہ کیا جائے۔
ہم کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کی طرز کا سیٹ اپ دیا جائے بلکہ آزاد کشمیر سے بڑھ کر اختیارات دیئے جائیں، گلگت کے لوگوں کا حق تسلیم کیا جائے،انہیں یہاں کونسل کے دفتر نہ آنا پڑے، اس کونسل نے آزاد کشمیر کا بھی خانہ خراب کئے رکھا تھا، ان کے مسائل و امور کے فیصلے گلگت میں ہی ہوں۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے نیشنل سیکورٹی میٹنگ میں شامل نہ ہونے کی ایک وجہ اور بیان کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کچھ کہہ دیا جائے تو اجلاس میں میرے اختلاف باہر نہیں آ سکتے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ان کی اس پالیسی کو مسترد کر دیا ہے، آپ یہ باہر نہیں دے سکتے،اس خجالت سے بچنے کے لئے ، اس تلخی سے بچنے کے لئے میں نے فیصلہ کیا کہ میں نیشنل سیکورٹی اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا، عمران خان سے میں کیا نیشنل سیکورٹی کی بات کروں ؟ اس سے میں کرکٹ پر بات کر سکتا ہوں کہ بال ٹمپرنگ کیسے ہوتی ہے،وہ کشمیر کے بارے میں عالمی ایجنڈے کو پورا کرانا چاہتا ہے تو میں کیا وہاں انگوٹھا لگانے اجلاس میں جائوں ؟ہم انگوٹھا نہیں لگائیں گے، پچھلی میٹنگ میں بھی میں نے کہا تھا کہ میں آپ کی باتوں کو تسلیم نہیں کرتا ہوں۔

وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے پریس سیکرٹری کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم آزاد کشمیر نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ آزادکشمیر کے حالیہ انتخابات تقسیم کشمیر کے ایجنڈے کے خلاف لڑے جائیں گے۔عمران خان کو کشمیر کا نقشہ تبدیل کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے وہ ماضی کو بھولنا چاہتے ہیں تو بھول جائیں ہم نہیں بھولیں گے۔کل ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بطور احتجاج شرکت نہیں کرونگا۔عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کے منصب کو متنازعہ بنا دیا ہے وہ آزادکشمیر کا الیکشن جیتنے کیلیے ننگی جارحیت کر رہے ہیں۔عمران خان سے کوئی سیاسی بات نہیں ہو سکتی وہ صرف بال ٹمپرنگ کر سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پانچ اگست کا اقدام عمران خان اور مودی کی باہمی رضامندی سے ہوا ہے۔ وزیراعظم آزادجموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر ہائوس اسلام آباد میں کابینہ ارکان اور مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کیا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کا شکرگزار ہوں آپ نے سیز فائر لائن کو ہمیشہ اہمیت دی۔انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو آزادکشمیر میں انتخابات ہونگے انتخابات قومی ایجینڈے کے تحت لڑے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پر ایک انٹرنیشنل ایجینڈا ہے عمران خان اور ان کی حکومت کشمیر پر بین الاقوامی دباو برداشت نہیں کر سکتی۔انہوں نے کہا کہ مودی نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کی عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا مقدمہ موثر انداز میں پیش نہیں کر سکے۔انہوں نے کہا کہ کل قومی سلامتی کی سطح کی ایک میٹنگ ہے میں اس میں نہیں جاونگا عمران خان کی حکومت ریاست کا نقشہ تبدیل کرنا چاہتی ہے عمران خان کون ہوتا ہے ریاست کا نقشہ تبدیل کرنے کی کوشش کرنے والا عمران خان اداروں کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام پر پورا یقین ہے ہمیں تحریک انصاف کی حکومت پر کوئی اعتماد نہیں ہے وزیر خارجہ کے بیان کے بعد ہمارے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہیبھارت کشمیر میں مظالم کی انتہا کر رہا ہے
لاکھوں کشمیرہوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں عمران خان کی حکومت تقسیم کشمیر کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے کہا کہ 1956 میں نیشنل کانفرنس نے بھی ہندوستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی تھی اقوام متحدہ نے اسے مسترد کر دیا تھا گلگت بلتستان کو صوبہ بنا کر اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی کی گئی 2021 کا الیکشن تقسیم کشمیر کے خلاف ہے میاں نواز شریف کا شکرگزار ہوں انہوں نے بے مثال ترقیاتی فنڈز دئیے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ماضی اور قربانیوں کو نہیں بھولیں گے عمران خان ماضی بھولنا چاہتے ہیں تو بھول جائیں آزادکشمیر کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں پاکستان میں جو نظام ہے یہ چلنے والا نہیں ہے عمران خان آزادکشمیر کے الیکشن میں منی لانڈرنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاوس پاکستان کو آزادکشمیر کے الیکشن کیلیے استعمال ہو رہا ہے عمران خان وزیراعظم پاکستان کے منصب کو متنازعہ بنا رہے ہیں
عمران خان آزادکشمیر الیکشن کیلیے ننگی جارحیت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور مودی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں پاکستان کی وزارت خارجہ کشمیر پر بین الاقوامی سطح پر کوئی اہم کام نہیں کر سکی عمران خان کی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر کوئی نہیں پوچھ رہا عمران خان کی کوئی ساکھ نہیں ہے کوئی ان کا فون نہیں سن رہا۔محترمہ مریم نواز اور مسلم لیگ کی مرکزی قیادت آزادکشمیر الیکشن میں لیڈ کریں گے۔انہوں نے کہا کہکٹھ پتلی قیادت اور ہماری وزارت خارجہ کا بیانیہ ایک جیسا ہے مجھے لگتا ہے گپکار کانفرنس عمران حکومت کے کہنے پر ہوئی بھارت فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو لانا چاہتا ہے معید یوسف کو اپنی تجویز دے دی تھی آزادکشمیر میں گلگت جیسی صورتحال نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے قاتلوں کو رہا کرا کر بھمبر والی طرف بھیجا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہآزادجموں و کشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے عمران خان نے اگر تقسیم کشمیر کی کوشش کی تو اسکے لئے زمین تنگ کر دیں گے۔
جن کو سب سے زیادہ اکاموڈیٹ کیا انہوں نے دغا دیا۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی بات سنی جاتی ہے موجودہ تحریک انصاف کی حکومت او آئی سی میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر نہ کر سکی میدان میں موجود رہیں گے میرے خلاف سب اکٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم کشمیری ہمارے سفیر ہیں اگر عمران خان نے تقسیم کشمیر کی کوشش کی تو بیرون ملک کشمیری عمران خان کوسفارتخانے سے نکلنے نہیں دیں گے عمران خان کے ساتھ کیا سیاسی بات ہو سکتی ہے عمران خان صرف بال ٹمپرنگ کر سکتے ہیں عمران خان کو سیاسی باریکیوں کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کا مشکور ہوں جنیوں نے ہر قومی معاملے پر بالغ نظری سے میرا ساتھ دیا۔

واپس کریں