یتیموں بیوگان ، بے سہارہ خواتین کو باعزت زندگی گزارنے کے لیے قانون بنانا اللہ کی توفیق کا نتیجہ ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان
No image مظفرآباد( 4جولائی 2021) وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقے حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے آزا کشمیر میں یتیم بیوگان اور بالخصوص طلاق یافتہ خواتین کو زندگی میں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے قوانین کسی بھی معاشرے کی جان اور پہچان ہوتے ہیں ہم نے کمزور طبقات کے لیے بہت سی قانون سازی کی ہے تاہم یتیموں بیوگان اور طلاق حاصل کرنے والی خواتین کو باعزت زندگی گزارنے کے لیے جو قانون بنایا ہے یہ اللہ کی طرف سے ہمیں ملنے والی توفیق کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرنے وزیراعظم ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اسلام نے خواتین کو بہت اعلیٰ مقام دیا ہے نبی پاک خاتون جنت کے لیے اپنی چادر بچھاتے تھے مگر بد قسمتی سے موجودہ معاشرے میں خواتین مشکلات کا شکار ہیں خاص طورپر طلاق ہونے کی صورت میں تو گھر والے بھی قبول نہیں کرتے ان سب کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری تھی ایک سال سے اس پر مشاورت اور کام کاج جاری تھا اور دوتین ماہ قبل ہم نے اسے مکمل کر لیا اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ بورڈ کے ممبران کسی قسم کا مالی مفاد حاصل نہیں کر سکیں گے ساری رقم مستحق افراد کے لیے ہو گی اور ماہانہ بنیادوں پر رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگی کوئی مڈل مین یا بروکر درمیان میں نہیں ہوگا بہت اعلیٰ سطح بورڈ بنایا ہے ہم اسے محکمہ زکوۃ نہیں بننے دیں گے جہاں مستحقین زکوٰۃ سے زیادہ محکمہ کی کفالت ہو رہی ہے میں نے یتیمی دیکھی ہے والدہ کو بیوہ دیکھا ہے مجھے علم ہے یتیمی کے کیا مسائل ہوتے ہیں جب قانون منظور ہو رہا تھا تو میری آنکھوں میں آنسو تھے یہ قانون بہت عرصے سے زیر کار تھا اب اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے یہ کوئی انتخابی سوچ سے نہیں کیا صرف اللہ کی رضا کے لیے ہے نیت درست نہ ہو تو کشتی کنارے سے بھی ڈوب جایا کرتی ہے ہماری حکومت نے ریاستی تشخص اور عوام کے لیے جو قانون سازی کی ہے اس سے نسلوں کو فائدہ ہوگا میری اپیل ہے کہ فہرستوں کی تیاری میں ایمانداری سے کام کریں اور کسی قسم کی جعل سازی روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کوئی مستحق رہ نہ جائے اور اور کوئی نوسرباز لے نہ جائے کے سلوگن کے تحت اس کام کو مکمل ہونا چاہیے۔

واپس کریں