رینجرز ،ایف سی کی تعیناتی اور فوج کو'' سٹینڈ بائی'' رکھنے کے فیصلے سے آزادانہ اور منصفانہ الیکشن ضروریات پوری نہیں ہوتیں۔'' کشیر رپورٹ''
No image اسلام آباد ( کشیر رپورٹ)وفاقی کابینہ نے آزاد جموں وکشمیر الیکشن کمیشن کی طرف سے آزاد جموں وکشمیر اسمبلی الیکشن،25جولائی کے لئے فوج کی تعیناتی کی ضرورت کے مطالبے کے جواب میں 16سو پاکستان رینجرز اور 4ہزار کی تعداد میں فرنٹیئر کانسٹیبری کی تعیناتی کی منظور ی دی ہے جبکہ پاکستان فوج کی تعیناتی کو '' سٹینڈ بائی'' رکھا گیا ہے۔
آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم پاکستان کے نام خط میں 19ہزار فوجی جوانوں کی تعیناتی کی ضرورت بیان کرتے ہوئے تعیناتی کا مطالبہ کیا تھا۔وفاقی وزارت داخلہ کی طرف سے 16سو پاکستان رینجرز ،4ہزار کی تعداد میں فرنٹیئر کانسٹیبری کی تعیناتی اور فوج کو '' سٹینڈ بائی'' رکھے جانے سے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کی آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے ضروریات کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا۔ ذرائع کے مطابق آزاد جموں وکشمیر الیکشن کمیشن کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان،چیف آف دی آرمی سٹاف اور قومی سلامتی کے دیگر اعلی عہدیداران کو خط لکھا جا رہا ہے کہ پاکستان فوج کو '' سٹینڈ بائی'' رکھے جانے کے بجائے الیکشن کی ضروریات کی روشنی میں، الیکشن کمیشن کی ضروریات کے مطالبے کے مطابق فوجی جوانوں کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔
آزاد جموں وکشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے وزیر اعظم پاکستان کے نام خط میں یہ ضرورت بیان کی کہ آزاد جموں و کشمیر کی45نشستوں پر25جولائی کو ہونے والی انتخابات کے لئے فوج کی تعیناتی کی منظوری دی جائے۔خط میں وضاحت سے یہ لکھا گیا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات کو منصفانہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ سول آرمڈ فورسز اور رینجرز کے ساتھ پاکستان آرمی کو بھی متعین کیا جائے۔
چیف لیکشن کمشنر نے خط میں لکھا کہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں فوج کی تعیناتی کا مطالبہ آزاد کشمیر کے عوام کی طرف سے مقبول عام ہے اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت میں بھی اس بات کی ضرورت ہر زور دیا گیا ہے۔آزاد کشمیر کے عوام فوج پہ اعتماد رکھتے ہیں اور الیکشن کے دوران تمام حلقوں میں فوج کی تعیناتی کو ضروری تصور کرتے ہیں۔آزا د کشمیر کے کئی انتخابی حلقے لائین آ ف کنٹرول پہ واقع ہیں جہاں پاکستان فوج عوام کے تحفظ اور ان کی مدد و معاونت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ فوج کی تعیناتی سے عوام انڈین فورسز کی جارحانہ فائرنگ سے بلا خوف و خطر آزادانہ طورپر ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ سٹیشن جا سکتے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے وزیر اعظم پاکستان کے نام اپنے خط میں مزید لکھا پاکستان فوج کی ضرورت' ' کوئک ایکشن فورس'' اورانتخابی عملے و پولنگ مواد کی پولنگ سٹیشنوں میں پہنچانے کے حوالے سے بھی ہے۔فوجی جوانوں کو پولنگ سٹیشنوں کے باہر یوں تعینات کیا جائے کہ پولنگ سٹیشنوں پہ پولنگ کے دوران ان کی موجودگی ظاہر نہ ہو۔آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے الیکشن کی ضروریات کے حوالے سے پاکستان فوج کے کم از کم 19ہزار جوانوں کو تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
واپس کریں