جنرل مشرف کے دور میں پہلی بار پاکستان نے کشمیریوں کی آزادی کی مسلح مزاحمت کو دہشت گردی سے تعبیر کیا، سابق سنیئر سفارت کار عبدالباسط
No image اسلام آباد ( کشیر رپورٹ) پاکستان کے سابق سینئر سفارت کار عبدالباسط نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کشمیریوں کی مسلح مزاحمت کو ددہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔
عبدالباسط نے جمعہ کو اپنے ایک وڈیو بیان میں کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں ،6جنوری2004کوواجپائی سارک کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آئے،اسی دن پاکستان اور بھارت کا ایک مشترکہ ا بیان پر دونوں ملکوں نے دستخط کئے،اس بیان میں پہلی دفعہ باواسطہ طور پر یہ تسلیم کیا گیا کہ جو کچھ بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہو رہا ہے وہ دہشت گری ہی ہے،اور پاکستان نے یہ عہد کیا کہ ہم پاکستان کے علاقے سے بھارت میں استعمال نہیں ہونے دیں گے دہشت گردی کے خلاف ۔ یہ بھارت کو پہلی کامیابی ملی۔
واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف نے آزاد کشمیر سے کشمیری فریڈم فائٹرز کے کیمپ ختم کئے اور بھارت کو لائین آف کنٹرول پر خار دار تاروں کی باڑ تعمیر کرنے کی اجازت دی۔ پاکستان کے ان اقدامات سے بھارت کو کشمیریوں کی آزادی کی مزاحمت کے خلاف بڑی اور بنیادی نوعیت کی کامیابی ملی۔
واپس کریں