سابق کشمیری مجاہدین کی پاکستانی نژاد بیویوں کا بارہمولہ میں مظاہرہ،کنٹرول لائین کی طرف مارچ،16خواتین گرفتار
No image سرینگر (2اگست2021) مقبوضہ جموں و کشمیرمیں سابق کشمیری مجاہدین کی پاکستانی نژاد بیویوں نے بارہمولہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا اوراوڑی میں کنٹرول لائن کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی ۔بھارتی پولیس نے مظاہرے میں شامل کم از کم 16 خواتین کو گرفتار کرلیا۔عینی شاہدین نے میڈیا کو بتایاہے کہ تقریبا30 خواتین نے اپنے بچوں کے ہمراہ کنٹرول لائن کی طرف مارچ کیا وہ اپنے والدین سے ملنے کے لیے پاکستان جانے کیلئے سفری دستاویزات کا مطالبہ کررہی تھیں۔مظاہرے میں شرکت نہ کرسکنے والی ایک خاتون سائرہ جاوید نے بتایا کہ جیسے ہی احتجاج کرنے والی خواتین خان پور پہنچیں تو پولیس نے کم از کم 16 خواتین کو گرفتار کرلیا ۔
مظاہرے میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ قابض انتظامیہ ان کے حقیقی مطالبات نہیں مان رہی ہے ۔ ایک اور پاکستانی نژاد خاتون نصرت بیگم نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات کے لیے آخری سانس تک احتجاج جاری رکھیں گی ۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم بھارتی حکومت کو قبول نہیں ہیں تو انہیں ہمیں پاکستان بھجوادینا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو ہمیں قبول کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے شوہر کشمیری ہیں اور ہم نے ان سے شادی کرکے کوئی جرم نہیں کیا ہے اور اب ان کے کشمیر میں خاندان اور بچے ہیں۔ایک اور خاتون بشری نے میڈیا کو بتایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب وہ احتجاج کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری شناخت کا مسئلہ ہے کیونکہ ہمارے پاس شناخت ثابت کرنے کیلئے دستاویزات نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری ایک ہی شناخت ہے کہ وہ ایک مجاہد کی بیوی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سفری دستاویزات ملنے تک وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گی تاکہ وہ کنٹرول لائن کے پار اپنے پیاروں سے ملنے کیلئے جاسکیں۔ واضح رہے کہ متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کو غیر فطری اور جبری و غیر انسانی طور پر تقسیم کرنے والی لائین آف کنٹرول کی وجہ سے لاکھوں کشمیری اپنے ہی وطن میں اپنے رشتہ داروں سے نہیں مل سکتے۔
واپس کریں