وزارت خارجہ نے کشمیر پر کوئی کام نہیں کیا،کشمیر سے متعلق کوئی دبائو ہے تو کشمیریوں کو بتایا جائے، راجہ فاروق حیدر خان
No image مظفر آباد۔ صدر مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر و سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے گزشتہ روز قانون ساز اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ آزادکشمیر حکومت کو تسلیم کیے بغیر بین الاقوامی سطح پر کشمیر پرپذیرائی ممکن نہیں ،دنیا کا واحدمسئلہ ہے جس کے اصل فریق اس کا مقدمہ پیش نہیں کرسکتے ،کشمیریوں کی جدوجہد 35 اے اور 370 کی بحالی کے لیے نہیں ہیں،کشمیر ہندوستان سے مذاکرات شروع کرنا سب سے بڑی غلطی ہوگی ،دو سال سے ہماری تجاویز وزارت خارجہ کے ڑیسک پر پڑی ہیں ،وزارت خارجہ میں کشمیر ڈیسک قائم ہوا تھا اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں کدھر گیا ،اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹس پر وزارت خارجہ نے کوئی کام نہیں کیا ،یورپین پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کمیٹی اور پارلیمنٹ میں کشمیر پر ہونے والی پیش رفت میں وزارت خارجہ کا کوئی کردار نہیں ،حکومت پاکستان 5 اگست کے بعد بین الاقوامی سطح اور او آئی سی میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی۔ راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ کشمیریوں نے جو قربانیاں دیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ،صرف جموں میں اڑہائی لاکھ لوگوں کو قتل کیا گیا یہ معمولی بات نہیں ،کشمیر کے بارے میں جو حقائق ہیں وہ حکومت پاکستان کو کشمیریوں کو بتانے چاہیں ،اگر کوئی مسئلہ ہے دبائو ہے پریشر ہے تو کشمیریوں کو بتایا جائے،5 اگست کے بعد سلامتی کونسل نے کوئی قرارداد پاس نہیں کی اور نہ ہی مذمت کی گئی ،پوری پاکستانی قوم کا ایک متفقہ موقف ہونا چاہیے ،گلگت بلتستان کے اندر باشندہ ریاست سرٹیفیکٹ جاری کیا جائے ،آزادکشمیر کے اسٹیٹس میں تبدیلی کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے ،تقسیم کشمیر کا کوئی بھی فیصلہ قابل قبول نہیں لوگوں نے اس لیے قربانیاں نہیں دیں ،مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے پاکستان اور اسلام کے نام پر قربانیاں دیں اگر انہیں چھوڑ دیا تو پھر غداری ہوگی ،عمران خان کون سے خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں واضح کریں کیا صرف آزادکشمیر یا وادی کا پوری ریاست کو ؟اگر تقسیم کرنی ہے تو ریاست کے دیگر علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کو کیا جواب دینگے؟،جن کی آنکھیں اندھی ہو گئیں جن کے لخت جگر چلے گئے ان کو کیا جواب دینگے ،مقبول بٹ شہید افضل گرو برہان وانی سمیت لاکھوں شہدا کے وارث کو کیا جواب دینگے ،قومی ایام پر سیاست نہیں کرنا چاہتے جب دیگر معاملات پر بات ہوگی تو پھر دبا کر بات کریں گے۔
واپس کریں