نو منتخب آزاد کشمیر اسمبلی جلاس میں کشمیر پر قرار دادیں، وفاقی حکومت کی کشمیر پالیسی قومی امنگوں کے مطابق قرار
No image مظفرآباد (5اگست2021)سپیکر آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری انوار الحق کی زیر صدارت جمعرات کے روز آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلا س تلاوت کلا م پاک سے شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری انوار الحق نے ممبران اسمبلی خواجہ فاروق احمد،چوہدر ی محمد رشید اور میاں عبدالوحید پر مشتمل پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا۔ بعد ازاں ممبر اسمبلی خواجہ فاروق احمد کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا۔
اجلاس میں قائد حزب اختلاف چوہدری لطیف اکبر، ایم ایل اے میاں عبدالوحید، فیصل ممتاز راٹھور، سردار محمد جاوید، سید بازل علی نقوی، عامر عبدالغفار لون، چوہدری قاسم مجید،نبیلہ ایوب خان، خواجہ فاروق احمد اورسردار میر اکبر خان نے قراردادیں پیش کیں۔قائد حزب اختلاف چوہدری لطیف اکبر، ایم ایل اے میاں عبدالوحید، راجہ فیصل ممتاز راٹھور،سردار محمد جاویدایوب، سید بازل علی نقوی، عامر عبدالغفار لون، چوہدری قاسم مجید،نبیلہ ایوب خان کی طرف سے فیصل ممتاز راٹھو ر نے قرار داد پیش کی۔
قرار دا دمیں کہا گیا ہے کہ نو منتخب معز ز ایوان کا یہ اجلاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر، سکیورٹی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت دلوایا جائے اور مقبوضہ کشمیر میں دو سال قبل پانچ اگست کو آرٹیکل 370میں ترمیم کے ذریعے خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور دفعہ 35-Aکے ذریعے غیر ریاستی باشندوں کو شہریت دے کر اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا بھیانک منصوبہ رائے شماری کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے دونوں اطراف کی مسلمہ کشمیری قیادت پر مشتمل انٹرا کشمیر کانفرنس کا انعقاد کر کے حریت رہنماں پر سفری پابندی ختم کرکے آزادنہ آنے جانے کی اجازت دینے کے لیے بھارت پر دبائو بڑھایا جائے۔ نیز یہ ایوان حریت کانفرنس کے قائدین اور نہتے شہریوں پر بلا جواز مقدمات قائم کر کے انہیں پاند سلاسل کرنے کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور ان کی زندگیوں کو لاحق خطرات دور کرنے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔
معزز ایوان کا اجلاس وفاقی حکومت کی کشمیر پالیسی کو بھی قومی امنگوں کے مطابق قرار دیتے ہوئے بلا تاخیر قومی اسمبلی، سینٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر کے متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کو ناگزیر تصور کرتا ہے۔ یہ نمائندہ ایوان 90لاکھ نہتے حریت پسندوں کو یقین دلاتا ہے کہ وہ ان کے شانہ بشانہ آزادی کے حصول اور بھارتی تسلط سے نجات تک جانی، مالی، سیاسی پرا من جدوجہد جاری رکھنے کا یقین دلاتا ہے۔ یہ نمائندہ اجلاس ساڑھے سات سو ایام سے زائد عرصہ تک کرفیو کے نفاذ، لاک ڈان، گمنام قبروں کی دریافت دنیا بھر کی آزاد پسند اقوام کے لیے لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں استصواب رائے کا متفقہ مطالبہ کرتا ہے۔
ایم ایل اے خواجہ فاروق احمد کی قرارداد ایم ایل اے دیوان علی خان کی جانب سے پیش کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آزادجموں وکشمیرقانون ساز اسمبلی کا یہ خصوصی اجلا س05اگست 2019غیر آئینی، غیر قانونی بھارتی اقدام جس کے تحت بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی دفعہ 370اور35-Aکو ختم کرنے، لداخ کو جموں اور وادی کشمیر سے الگ کر کرے یونین ٹیریٹری (Union Territory)میں شامل کرنے کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ جس سے کشمیریوں کی اپنی پہچان، حق ملکیت، ریاستی پرچم اور ریاستی اسمبلی ختم ہو چکی ہے۔ بھارت کے لیے اپنے آئین کی دفعہ 368-Cکے تحت آئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے مگر ہندووتہ کا پرچار کرنے والے فاشسٹ نریندر مودی نے نہ صرف کشمیریوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا بلکہ پارلیمان کو بائی پاس کرتے ہوئے صدارتی فرمان جاری کیا۔ یہ ایوان اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی امن کے اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوایا جائے اور 780دن سے جاری فوجی محاصرہ ختم کیا جائے۔ یہ ایوان اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرتے ہوئے اقوام متحدہ حق خودارادیت کا کیا گیا وعدہ پورا کرے۔
ایم ایل اے سردار میراکبر خان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام 05اگست 2019 کے بھارتی اقدام جس کے تحت بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور35-Aکا خاتمہ کر دیا گیا، کے بعد سے مسلسل بھارتی افواج کے محاصرے میں ہیں اور بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ سرچ آپریشن کے نام پر لوگوں کو اغوا کیا جا رہا ہے خصوصا نوجوانوں کو اغوا کر کے بھارت کی مختلف جیلوں میں رکھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ڈومیسائل اور سٹیٹ سبجیکٹ قوانین تبدیل کر کے ریاست کے مسلم تشخص کو ختم کرنے کے لیے بھارت کے مختلف علاقوں سے انتہا پسند ہندوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے۔
اس ایوان کی رائے میں کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے بھار ت نے ہر اوچھے ہتھکنڈے کا استعمال کیا ہے۔ اور اب بھی اس کا تسلسل جاری ہے۔ مگر تمام تر ظلم وجبر کے باوجود بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو سرد نہیں کر سکا اور نہ ہی پاکستان سے کشمیریوں کی لازوال محبت کو کم کر سکا۔ کشمیری عوام نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ کشمیری عوام نے بھارت کاجبری قبضہ نہ تو کل تسلیم کیا تھا اور نہ کبھی آئیندہ کریں گے۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیریوں کا غیر قانونی محاصر ہ ختم کیا جائے۔ ذرائع ابلاغ پر عائد پابندی ہٹائی جائے، انسانی حقو ق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کی جائیں، کرفیوکا نفاذ ختم کیا جائے، آزادکشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی غیر ملکی میڈیا کو رسائی دی جائے، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندی ختم کی جائے، خواتین اور بچوں پر مظالم بند کیے جائیں،سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوج نکالے تاکہ کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے آزادنہ ماحول میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے۔ یہ ایوان اقوام متحدہ، عالمی برادری، یورپی یونین، او آئی سی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور دنیا کی دیگر مہذب اقوام سے مطالبہ کرتا ہے کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کا ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت دلوانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

واپس کریں