کابل ، تین بم دھماکوں میں ایک سو سے زائد انسانی ہلاکتیں اور داعش کے نئے خطرات
No image کابل28اگست2021( کشیر رپورٹ) افغانستان کے صدر مقام کابل ایئر پورٹ پہ گزشتہ روز ہونے والی تین بم دھماکوں میں اطلاعات کے مطابق ایک سو دس کے قریب افراد ہلاک اور بڑی تعدا د میں زخمی ہوئے۔ اطلاعات ہیں کہ بارہ امریکی فوجی بھی ان دھماکوں میں ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔بم دھماکوں کے بعد کی ایک وڈیو میں درجنوں افراد کو ہلا ک دکھایا گیا ہے۔ افغان حکام کے مطابق دھماکوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میںکم ازکم 95 افغان باشندے اور 13 امریکی فوجی شامل ہیں۔کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے پہلا خودکش دھماکہ ایئر پورٹ کے گیٹ پر ہواجس کا نشانہ امریکی اور افغان شہری بنے۔دوسرا دھماکہ ایئر پورٹ کے گیٹ سے کچھ فاصلے پہ واقع بیرن ہوٹل کے قریب ہوا جہاں مغربی ممالک کے شہری مقیم ہیں۔تیسرے دھماکے کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ یہ پلانٹڈ بم دھماکہ تھا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق کابل ائیر پورٹ دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔
کابل ایئر پورٹ سے ہنگامی پروازوں کے ذریعے غیر ملکوں اور افغانستان سے باہر جانے والے افغان باشندوں کے انخلاء کا عمل جاری ہے۔کابل پہ کنٹرول حاصل کرنے والے طالبان نے پہلے ہی کہا تھا کہ کابل ایئر پورٹ ان کی کنٹرول میں نہیں ہے۔ کابل ایئر پورٹ کا انتظام امریکی اور برطانوی فوجیوں نے سنبھالا ہوا ہے۔ دھماکوں کے بعد کابل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور کابل ایئر پورٹ جانے والے راستے پر ٹریفک بند کر دی گئی ہے۔خود کش بم دھماکوں کے بعد کابل ایئرپورٹ فوجی پروازوں کیلئے کھول دیا گیا۔امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا نے گزشتہ روز اپنے شہریوں کو کابل ایئر پورٹ کے قریب جانے سے منع کیا تھا۔امریکہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں ایئر پورٹ پہ حملہ ہو سکتا ہے۔
طالبان نے افغانستان میں دھماکوں کو امریکی ناکامی قرار دیا ہے.طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے اس جگہ ہوئے جہاں سکیورٹی کی ذمہ داری امریکی فورسز کی تھی۔ طالبان ترجمان نے کہا کہ اس کے بعد اپنے لوگوں کی سیکیورٹی پر بھرپور توجہ دیں گے اور شرپسندوں سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
'' بی بی سی '' کی ایک رپورٹ کے مطابق ''دولت اسلامیہ نے فروری 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے ہونے والے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے لڑائی جاری رکھنے کا عزم کیا تھا۔ پھر حال ہی میں انھوں نے طالبان کے ملک پر قبضے کو بھی رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ انھیں خفیہ معاہدے کے تحت ملک کی چابیاں پکڑا کر چلا گیا''۔
دوسری طرف ترک صدررجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے سبب کابل ایئرپورٹ پر تعاون کی طالبان کی درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ترک صدر نے کہا کہ طالبان نے کہا تھا سیکیورٹی ہم دیں گے آپ کابل ایئرپورٹ چلائیں، تاہم کابل ایئرپورٹ سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر ہمیشہ اموات ، دیگر چیزوں کا امکان رہتا ہے۔
کابل سمیت تمام افغانستان( وادی پنجشیر کو چھوڑ کر) پر کنٹرول حاصل کرنے والے طالبان اس وقت افغانستان کے حالات پر قابو پانے اور نئی حکومت کی تشکیل کے کٹھن مراحل سے گزر رہے ہیں اور افغانستان سے غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ خوفزدہ افغان باشندوں کا بھی افغانستان سے انخلاء کا عمل بھی جاری ہے۔ اس صورتحال میں کابل میں ہونے والے بم دھماکوں کے تناظر میں داعش ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے ۔اس سے ان امکانات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ عالمی طاقتوں کی طرف سے افغانستان میں سیاسی تصفیہ نہ کرانے کی وجہ سے افغانستان میں ایک نئی لڑائی شروع کی جا سکتی ہے ۔
واپس کریں