سابق وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر خان کا کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا معاملہ پاکستان ہائیکورٹ میں اٹھانے کا اعلان
No image مظفر آباد ۔28اگست2021۔ آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم، پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام وفاقی حکومت سے وزیر امور کشمیر کو منتقل کرنے کے لئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظوری کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان ہائیکورٹ کورٹ میں اٹھایا جائے گا۔ راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ حکومت پاکستان کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی پاکستان میں واقع اربوں روپے مالیتی جائیدادوں کو اپنی ملکیت بناتے ہوئے اپنے تصرف میں لانے کی کاروائی کرے، یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کاانتظام آزاد کشمیر حکومت کے سپرد کیا جائے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد اس ترمیمی بل کو منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں بھیجا گیا اورقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان نے23اگست2021کوچیئر مین رانا شمیم احمد کی زیر صدارت اجلاس میں ' جموں و کشمیر ایڈ منسٹریشن پراپرٹی ترمیمی بل2021منظور کر لیا ہے۔
قبل ازیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت پر 1986میں وفاقی کابینہ کی طرف سے عائید پابندی ختم کرنے کی سمری وزیر اعظم کو ارسال کی گئی تھی۔ وزیر اعظم آفس نے6دسمبر 2019 کو وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو ہدایات جاری کی تھیں کہ ایک ہفتے کے اندر کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت پر عائید پابندی ختم کرنے کی سمری تیار کر کے منظور ی کے لئے وزیر اعظم کو ارسال کی جائے۔

واپس کریں