قابض ہندوستانی اتنظامیہ نے سید علی شاہ گیلانی کو فوجی محاصرے میں زبر دستی علی الصبح سپرد خاک کرایا
No image سری نگر2ستمبر2021( کشیر رپورٹ)قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی کوہندوستانی فوجی محاصرے میں صبح سویرے حیدر پورہ سری نگرمیں سپرد خاک کردیا گیا۔ہندوستانی انتظامیہ کی طرف سے سخت فوجی محاصرے، کرفیو اور پابندیوں کے ذریعے سید علی گیلانی کوجمعرات کی علی الصبح عجلت میں سپرد خاک کیا گیا ۔ سید علی گیلانی کی وفات کے بعد بھارتی فوج کی بھاری جمعیت نے سری نگر کو محاصرے میں لے لیا تھا ۔ سری نگر میں سخت کرفیو نافذ ہے اور کسی بھی جگہ جلسے یا تعزیتی اجتماعات منعقد کرنے یا جلوس نکالنے پر پابندی ہے۔
سید علی شاہ گیلانی طویل علالت کے بعد بدھ کی شب وفات پا گئے تھے۔ ان کی عمر لگ بھگ 92 برس تھی۔سید گیلانی عارضہِ قلب میں مبتلا تھے جو سری نگر کے حیدر پورہ علاقے میں واقع اپنی رہائش گاہ پر گذشتہ کئی برس سے نظر بند تھے۔ سید علی گیلانی نے بدھ کی سہہ پہر سینے میں شدید درد کی شکایت کی تھی جس کے بعد شام کو ان کی حالت ابتر ہوئی اور شب دس بجے کے قریب انہوں نے آخری سانس لی۔اگرچہ سید علی گیلانی اور ان کے اہل خانہ چاہتے تھے کہ ان کی تدفین سرینگر کے مزار شہدا میں کی جائے تاہم بھارتی قابض انتظامیہ نے جنازے میں بڑی تعداد میںلوگوں کی شرکت کے خوف سے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ انہیں حیدر پورہ میں اپنے گھر سے صرف چند میٹر کے فاصلے پر دفن کیا گیا۔ بہت کم تعداد میں لوگوں جن میں بیشتر اہلخانہ ، قریبی رشتہ دار اور ہمسائے شامل تھے کو ان کی نماز جنازہ میں شرکت اور ان کی آخری جھلک دیکھنے کی اجازت دی گئی۔تاہم سید علی گیلانی کو ان کی رہائش گاہ کے قریب قبرستان میں غیر معمولی انتظامات کے تحت 'عجلت' میں دفن کیا گیا۔انتظامیہ نے صحافیوں کو حیدر پورہ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی۔
وادی کشمیر میں پابندیاں نافذ، انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔سری نگر کے مختلف علاقوں میں مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی، جب کہ سکیورٹی فورسز نے حیدر پورہ علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی ہے۔سوپور، بارہمولہ، کپواڑہ، بانڈی پور، اننت ناگ، پلوامہ، کلگام، ترال اور کئی دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی سخت حفاظتی پابندیاں نافذ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔۔ایک اعلی پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ سید علی گیلانی کی تدفین جمعرات کی صبح 4بجکر45 پر حیدر پورہ قبرستان میں ان کے رشتہ داروں اور ہمسایوںکی موجودگی میں کی گئی۔سید علی گیلانی کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی قابض انتظامیہ نے جنارے میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت کو روکنے کیلئے پوری وادی کشمیر میںسخت پابندیاں عائد کر دیں۔سرینگر اور اسکے نواحی علاقوں کی مساجد سے کئے گئے اعلانات میں لوگوںکو بزرگ حریت رہنما کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے گھروں سے نکلنے کیلئے کہاگیا ۔ تاہم بھارتی قابض انتظامیہ نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے روکنے کے لیے سخت پابندیاںنافذ کر دیں۔ مختار احمد وازہ سمیت کئی حریت رہنماں اور کارکنوں کو بھارتی حکام نے حراست میں لے لیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیری عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں اور مودی حکومت کے مظالم کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کریں۔ حریت کانفرنس نے لوگوں سے کہا کہ وہ مقبوضہ علاقے کے کونے کونے میں شہید رہنما کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کریں۔ بیرون مقیم کشمیریوں ، پاکستانیوں اور امن پسند لوگوں سے بھی دنیا بھر میںسید علی گیلانی کی غائبانہ نما ز جنازہ منعقد کرنے کی اپیل کی گئی۔جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے رہنما مولانا غلام نبی نوشہری نے قائد تحریک آزادی کشمیر سید علی گیلانی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی گیلانی کی ساری زندگی جدوجہد آزادی میں گزری ہے ۔ انہوں نے کشمیریوں کو فکر حریت دی ہے ۔
واپس کریں