ہندوستان کے اشتعال اور نفرت انگیز اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے ایمان افروز ی ، سیاسی بصیرت اور دانشمندی کو اختیار کیا جائے۔ محمد فاروق رحمانی
No image اسلام آباد ( کشیر رپورٹ) سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی نے سید علی شاہ گیلانی ، تحریک آزادی کشمیر ، کشمیر کاز کے حوالے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ پیکر جدوجہد آزادی کشمیر اور نظریہ تحریک پاکستان کے علمبردار یکم ستمبر بدھوارکو رات ساڑھے سات بجے انتقال کرگیے اور دوئم ستمبر ساڑھے چار بجے صبح نیم فوجی دستوں اور پولیس کے کڑے پہرے اور کرفیو میں جامع مسجد حیدر پورہ کے احاطے میں دفن کردیے گئے۔ سید علی گیلانی ر حم اللہ دس سال کی ہائوس اریسٹ اور بیماری کے بعد شہید ہوگئے، یہ ہر ایک کے لئے اندوہناک ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں کشمیر کی کیا سوختگی ہوگئی یہ سب کو معلوم ہے۔اگلے دس سالوں میں کشمیر کس کرب میں ہوگا اور کون بچ سکیں گے، یہ عالم الغیب ہی جانتے ہیں۔ البتہ مستقبل ، ماضی کو بے حجاب کرے گا اور بتائے گا کہ قوم کس طرف رخ کرے گی۔ فی الوقت قوم غمگسار ی میں ہے اور اس کے راستے مسدود کیے گیے ہیں۔ کوئی د نیوی طاقت یا حکومت نظر نہیں آتی جو کشمیریوں کا بو جھ ہلکا کرنے کے لئے آگے بڑھنے کے لئے تیار ہو۔ جموں و کشمیر کا ماضی قریب مہیب تھا اور حال اس سے زیادہ۔ گیلانی صاحب اب دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کا نظریہ استقامت زندہ ہے۔ یہ نظریہ کس تدبر اور حکمت عملی سے استعمال کیا جائے گا، ا ب نوجوانوں کے عصری شعور پر منحصر ہے کہ آزادی وطن کی جدوجہد کے لئے قیادت، نظریات اور اپروچ کو کیسے دیکھا جائے گا ۔ کیا صرف جنون ہو گا یا ہندوستان کے اشتعال انگیز اور نفرت انگیز اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے ایمان افروز ی اور سیاسی بصیرت اور دانشمندی کو اختیار کیا جایے گا۔ قرآن و حدیث اور اجماع امت میں ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے راستے موجود ہیں۔ گزشتہ 70 سالوں میں بھی اور ماضی قریب میں بھی مسلمان قومیں کئی خوفناک بحرانوں کی لپیٹ میں آئے اور آج بھی سیاسی آندھیاں چل رہی ہیں جو ہمیں دعوت فکر وعمل دے رہی ہیں۔ کشمیر اور اس کی قیادتیں مستثنی ا نہیں ہوسکتی ہیں۔
تجربات کو سامنے رکھنا اور جستجو کرنا سب سے افضل کام ہے۔ کشمیر اس وقت تنہا ہے اور باد مخالف تند تیز ہے۔ عوام اور سیاستدانوں اور مذہبی عالموں کو ہر چیز پر نظر رکھنی ہوگی اور مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کرنی ہوگی۔لیکن سب سے بڑا اخلاقی اور تہذیبی زوال ہے جس نے سماج کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ دشمن کے سیاسی حربوں کا مقابلہ سیاسی عزم اور تدبر ہے اور اخلاقی اور ۔معاشرتی زوال کے لئے اپنے شعور اور ایمان کو زندہ کرنا ہوگا۔ سید علی گیلانی صاحب روح کو خراج عقیدت پیش کرنے کا افضل راستہ یہی ہے۔

واپس کریں