کشمیر کاز کے علمبردار،معروف دانشور 'کے ایم ایس' کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام وفات پا گئے
No image اسلام آباد5ستمبر2021(کشیر رپورٹ)معروف کشمیری دانشور، کشمیر کاز کے علمبردار،کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام آج اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ وہ گزشتہ چند ہفتوں سے شدید علیل تھے اورہسپتال میں زیر علاج تھے۔ان کی عمر67برس تھی۔سوگوار خاندان میں ان کی اہلیہ اور ایک بیٹی شامل ہیں۔شیخ تجمل الاسلام کا تعلق سرینگر کے علاقے شہید گنج سے ہے اور مقبوضہ کشمیر میں ان کے دو بھائی ہیں۔
شیخ تجمل الاسلام کا تعلق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر سے تھا۔ انہوں نے 1975 میں کشمیر یونیورسٹی سرینگر سے ایل ایل بی اور 1980 میں اسی یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ وہ طالب علمی کے دوران 1979 سے 1984 تک مقبوضہ علاقے میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی رہے ۔ انہوں نے1973تا 1980تک سرینگر سے شائع ہونے والے اخبار اذان کے چیف ایڈیٹر اور کئی روزناموں اورہفتہ وار اخبارات اور جرائدبطور مدیر کام کیا۔وہ 1975تا1984 تک سرینگر میں وکالت کرتے رہے۔شیخ تجمل الاسلام نے غیر قانونی بھارتی تسلط سے مقبوضہ جموںوکشمیر کی آزادی کے ایک پرجوش حامی ہونے کی پاداش میں شدید سختیاں برداشت کیں اور 1974 اور 1984 کے درمیان کئی بار گرفتار کیے گئے۔
1971میں سقوط ڈھاکہ اور 1975میں اندرا عبداللہ معاہدے کے بعد بھارت نے یہ پروپیگنڈہ تیز کر دیا کہ اب پاکستان کشمیریوں کی بھر پور حمایت کے قابل نہیں رہا ۔ بھارت کے اس پروپیگنڈے نے کشمیریوںکے حوصلوں پر قدرے منفی اثرات مرتب کیے اور اس سے مقبوضہ علاقے میں جمود کی کیفیت طاری ہو گئی جسے توڑنے کیلئے شیخ تجمل الاسلام نے 1982میں سرینگرمیں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا ۔ اگرچہ بھارت نے بعد میں یہ کانفرنس نہ ہونے دی مگر اس کی تیاریوں نے اہل کشمیر خاص طور پر نوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی تڑپ بیدار کر دی ۔ اب شیخ تجمل الاسلام بھارت کی نظرو ں میں کھٹکنے لگے ۔ جب ان کے گرد شکنجہ کسا جانے لگا تو و ہ نیپال منتقل ہو گئے ۔ نیپال میں انہوں نے کشمیرکاز کیلئے بھر پور کام کیا۔کھٹمنڈو میں قیام کے دوران اسلامک سیوک سنگھ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جو اس وقت نیپال کی سب سے بڑی مسلم تنظیم ہے۔نیپال میں قیام کے دوران انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز (آئی آئی ایف ایس او) کے تحت جنوبی ایشیا میں مسلم سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے کوآرڈی نیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
شیخ تجمل الاسلام پاکستان ہجرت کے بعد 1998 سے 1999 تک پاکستان ٹیلی ویژن کے نیوز سیکشن کے وابستہ رہے۔ انہوں نے 1992 سے 2000 تک انسٹی ٹیوٹ آف کشمیر افیرئرز کی سربراہی کی ۔بعد ازاں وہ 1999میں کشمیر میڈیا سروس کے ساتھ بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر وابستہ ہو گئے اور اپنی آخری سانس تک اس ادارے کے ساتھ منسلک رہے۔ وہ کشمیر انسائیٹ کے نام سے شائع ہونے والے انگریزی جریدے کے چیف ایڈیٹر بھی رہے۔
شیخ تجمل الاسلام نے بین الاقوامی سطح پر اور پاکستان میں کشمیر پر مختلف کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کی اور اپنی تقاریر میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ریشہ دوانیوں ، مذموم منصوبوں ، شاطرانہ چالوں کاپردہ چاک کرتے رہے ۔ انہوں نے کشمیر پر انگریزی اور اردو میں مضامین اور تجزیے تحریر کیے۔ وہ ہمیشہ تنازعہ کشمیر کے انصاف پر مبنی حل کی حمایت کرتے رہے۔ان کی دیانتداری اور دانشورانہ مہارت کی وجہ سے صحافتی حلقوں میں ان کی بہت عزت وتوقیر کی جاتی تھی۔ وہ نیشنل پولیس فاو نڈیشن اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے۔

واپس کریں