مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے لئے کام کرنے والے اخبارات اور صحافیوں کو بے نقاب کرنے کے الزام میں 4صحافیوں کے خلاف ہندوستانی حکام کی کاروائی
No image سرینگر 11ستمبر2021( کشیر رپورٹ)ہندوستان کے تحقیقاتی ادارے '' این آئی اے'' نے مقبوضہ کشمیر کے چار صحافیوں کے خلاف کاروائی شروع کرتے ہوئے ان کے موبائل فون،لیب ٹاپ اور دیگر آلات ضبط کئے ہیں اور انہیں کئی بار پولیس سٹیشن بلا کر ان سے تفتیش کی گئی ہے۔ پولیس افسران کی طرف سے کہا جار ہا ہے کہ جلد ہی ان صحافیوں کو باقاعدہ طور پر گرفتارکر لیا جائے گا۔اطلاعات کے مطابق ان چاروں صحافیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے مفادات اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کے خلاف کام کرنے والے صحافیوں اور اخبارات کو بے نقاب کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہندوستانی پولیس نے 9ستمبر کو چار صحافیوں میر بلال،محمد شاہ عباس ،اظہر قادری اور شوکت احمدکے گھروں پر چھاپے مارتے ہوئے انہیں حراست میں لے کر پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا۔ ہندوستانی حکام کا الزام ہے کہ یہ صحافی کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم میں شامل ہیں اور اس حوالے سے ہندوستانی حکام کی طرف سے ایک ویب سائٹ ( https://kashmirfight.wordpress.com/) کا حوالہ دیا جا رہا ہے ۔واضح رہے کہ انہی دنوں اس ویب سائٹ نے7ستمبر 2021 کو ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں ہندوستان کے لئے کام کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے اخبارات اور صحافیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی چند ' این جی اوز' ،اخبارات اور صحافی کشمیر یوں کی مزاحمتی تحریک کو بدنام کرنے کے لئے ہندوستانی حکام کی ایماء پر کام کر رہے ہیں۔ ' کشمیر فائٹ ورلڈ پریس ' کی اس رپورٹ کے مطابق گریٹر کشمیر ، کشمیر امیج اور تمیل ارشاد اوررائزنگ کشمیر اور کچھ دیگر آٹ لیٹس بھی سپورٹ کر رہے ہیں۔کچھ نمایاں میڈیا آٹ لیٹس ہیں جنہیں کشمیر کی جدوجہد اور آزادی کے مجاہدین کو بدنام کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیاض کلو،بشیر منظر ہندوستانی حکومت کی ایماء پر کام کر رہا ہے،بشیر منظر فیاض کلو کے اخبار گریٹر کشمیر میں وکاس گل کے نام سے بھی لکھتا ہے۔تمیل ارشاد ایک اور میڈیا یونٹ ہے جو کہ کٹھ پتلی اور دلال غلام مہدیان بھٹ urf راجہ محی الدین اور اس کے بھائی امین آکاش بھٹ ہندواڑہ کے رہائشی چلاتے ہیں۔ یہ لوگ 2006 میں جسم فروشی کے دھندے میں بھی ملوث تھے۔اس ویب سائٹ میں ہندوستان کے لئے کام کرنے والے دیگر کئی صحافیوں،اخبارات کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔رپورٹ میں اخبارات اور صحافیوں کے نام لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کشمیر کی جدوجہد اور آزادی کےمجاہدین کو بدنام کرنے اور ہندوستان کی حمایت کا کام سونپا گیا ہے۔

واپس کریں